امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کا امکان؟



حالیہ دنوں میں ایک طرف امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی سطح پر پیدا ہونے والے اختلافات کے باعث کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا تو دوسری طرف امریکہ اور ایران کے درمیان ،ایران کے نیو کلیائی پروگرام کے سوال پر دوبارہ کشیدگی کی فضا تشویش کا باعث بنی۔یہ دونوں باتیں امریکی صدر ٹرمپ کے کئے گئے بعض فیصلوں کی بنیاد پر سامنے آئیں۔ امریکہ اورچین دنیا کی بڑی معیشتیں ہیں اور ان کے درمیان اس نوعیت کی اگر تجارتی جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف ان دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات تک نہیں محدود رہ سکتا بلکہ پوری دنیا کی تجارت پر اس کے ناخوشگوار اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور متعدد دوسرے ملکوں کی تجارتی سر گرمیوں پر بھی ناخوشگوار اثر پڑے گا۔ در اصل صدر ٹرمپ کے بعض فیصلے اچانک او رغیر متوقع طور پر سامنے آتے ہیں جس کی وجہ سے خود ان کے روایتی اتحادیوں میں بھی کنفیوژن پیدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ تجارت کے معاملے میں انہوں نے چین سے متعلق جو فیصلہ کیا اس کا چین نے بھی اسی انداز سے جواب دیا اور اس کی طرف سے بھی کچھ اسی طرح کا انداز اختیار کیا گیا جو صدر ٹرمپ سے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔ظاہر ہے اگر دونوں طرف اس طرح کا رویہ اختیار کیا جائے گا تو عالمی پیمانے پر کنفیوژن اور تشویش کا ماحول اور زیادہ گہرا ہو سکتا ہے۔ لہذا اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کیا جانا ضروری ہے۔بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں دونوں فریق کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ ویسے صدر ٹرمپ اکثر اپنے فیصلوں پر کچھ دن بعد نظر ثانی بھی کرتے ہیں۔

ایسا امریکہ اورایران کے رشتوں میں بھی نظر آنے لگا ہے ۔ صدر اوبامہ کے زمانے میں لمبی بات چیت کے بعد ایک سمجھوتہ ایران سے ہوا تھا جس کے باعث کشیدگی کے بادل چھنٹے تھے اور ایران پر عائد کچھ پابندیاں ہٹا لی گئی تھیں۔ اس سے ایران کو تو تجارتی سطح پر فائدہ ہوا ہی تھا لیکن بعض دوسرے ممالک کو بھی راحت ملی تھی۔ خاص طور سے ان ممالک کو جو ایران سے تیل در آمد کرتے ہیں۔ وہ سمجھوتہ جامع نوعیت کا تھا اور امریکہ کے مغربی اتحادی سمیت بعض دوسرے ممالک بھی اس میں شامل تھے۔لیکن اچانک امریکی صدر ٹرمپ نے اس سمجھوتے سے یکطرفہ طور پر امریکہ کو الگ کر لیا۔حالانکہ ان کے اس فیصلے کے ان کے مغربی اتحادی بھی خلاف تھے لیکن وہ اپنے فیصلے پر اٹل رہے اور ایران پر نئے سرے سے پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ اس کا ناخوشگوار اثر ہندوستان پر بھی پڑا کیونکہ ہندوستان ایران سے بڑی مقدار میں تیل در آمد کرتا ہے۔ حالانکہ ہندوستان سمیت بعض دوسرے ممالک کو ایک خاص مدت کے لئے چھوٹ مل گئی تھی۔ لیکن ظاہر ہے اس مدت کے ختم ہونے کے بعد پھر بحران پیدا ہو گیا ۔ غرضیکہ صدر ٹرمپ کے اس طرح کے فیصلوں سے متعدد نوعیت کی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور بین الاقوامی پیمانے پر تناؤ اور کنفیوژن کا ماحول بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ بہر حال اب یہ محسوس کیا جانے لگا ہے کہ صدر ٹرمپ کے رویئے میں لچک پیدا ہو رہی ہے۔ اس کا اندازہ امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو کے ایک بیان سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ بغیر کسی پیشگی شرط کے ایران سے اس کے نیو کلیائی پروگرام کے بارے میں بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ وہ نارمل ملکوں جیسا رویہ اختیار کرے۔ دوسری طرف ایرانی صدر حسن روحانی نے جو اب میں یہ کہا ہے کہ ایران بھی امریکہ سے بات چیت کرنے میں پس و پیش نہیں کرے گا لیکن شرط یہ ہے کہ امریکہ ایران کی خود مختاری کا احترام کرے اور تحکمانہ انداز سے بات نہ کرے۔ اندازہ تو یہی ہوتاہے کہ دونوں فریقوں کے رویوں میں لچک پیدا ہوئی ہے۔اگر دونوں طرف سے کچھ سخت باتیں کہی جاتی ہیں تو ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ ان کے مفادات پر کوئی ضرب نہ پڑے ۔ مثلاً امریکہ یہ چاہتا ہے کہ ایران کہیں بھی اس کے مفاد کو براہ راست یا بالواسطہ کسی طرح کا نقصان نہ پہنچائے جبکہ ایران یہ چاہتا ہے کہ اس پر بے وجہ کی اقتصادی پابندیاں نہ عائد کی جائیں۔ بہر حال بدلے ہوئے لہجہ سے امید تو پیدا ہوئی ہے کہ حالت بہتر ہو سکتے ہیں۔ اگر اس سمت مناسب پیش رفت ہوتی ہے تو عنقریب اچھی خبر سننے کو مل سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ