Posts

ترقی کیلئے امن ہی لازمی شرط ہے

ہندوستان نے ہمیشہ ہی ترقی کیلئے امن کی اہمیت کو اجاگرکیا، اس کیلئے دہشت گردی کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا ہے،ساتھ ہی دہشت گردی کے خلا ف نہ صرف بگل بجایا بلکہ عملی طور پر دنیا کو متحد کرنے کی بھی پہل کی۔ دنیا نے ماضی سے حال تک ہندوستان کی اس کوشش اور سوچ کو سراہا بھی ہے اور اس کے ساتھ بھی کھڑی ہوئی ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جب دنیا کے سامنے کورونا کی وبا نے زبردست چیلنج پیدا کردئیے ہیں، ہندوستان نے ایک بار پھر ترقی کی راہ کو مزید ہموار کرنے کیلئے دہشت گردی کے خلاف اتحاد کا نعرہ بلند کیا ہے۔شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن(ایس سی او) کی سربراہان حکومت کے 19 ویں اجلاس میں نائب صدر جناب ایم وینکیا نائیڈو نے دنیا کو پھر ایسے ممالک سے ہوشیار کیا جو دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ساتھ ہی ‘ایس سی او’کے ممبر ممالک سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قوانین کو نافذ کرنے کی اپیل کی تاکہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والی محفوظ پناہ گاہوں، ڈھانچہ اور مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کیا جاسکے۔ اس کیلئے ہندوستان ہر پلیٹ فارم اورموقع پر اس ضرورت پر زور دیتا آیا ہے،کیونکہ دنیا میں دہشت گردی ہی سب سے ب...

سی پی ای سی پر مخمصے میں چین

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کےمنصوبوں کاکیاحشرہوسکتاہےاس بابت ابھی دوسال قبل 2018 میں عالمی بینک نےبھی شریک ممالک کوآنےوالےقرضوں کےخدشات،ٹھپ ہوکررہ جانے والے بنیادی ڈھانچوں،سماجی خطرات اورکرپشن کےتعلق سےخبردارکیاتھا۔ دیکھاجائےتوعالمی بینک کےیہ تمام اندیشےسی پی ای سی کےممکنہ انجام کےتعلق سےدرست ثابت ہورہےہیں ۔سات سال قبل طے پانے والے چین۔ پاک اقتصادی راہداری پرابتدائی جوش و خروش کے بعد نہ صرف کام کی رفتار بہت کم ہوتی چلی گئی بلکہ بعض حلقوں کا توخیال یہ ہے کہ آئندہ دنوں میں اس منصوبے پر مکمل جمود طاری ہو جائے گا یا پھر اسے ختم کر دیا جائے گا۔چین کے انتہائی اہمیت والے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت فلیگ شپ پروگرام پاک۔چین اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کی تعمیر کی میعاد کو پاکستان میں ایک سے زیادہ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بعض نکات پر اختلافات کے سبب سی پیک سے متعلق مشترکہ تعاون کمیٹی کے 10 ویں اجلاس کے غیر متوقع التوا کے بعد چین نے کئی رُخ پرسی پیک کی تعمیر کا کام روک دیا ہے۔دونوں ممالک کے مابین صنعتی تعاون کے مستقبل کے روڈ میپ اور سی پی ای سی کے تحت صنعتی پارک اور خصوصی اقت...

موضوع :ممبئی حملوں کا ایک کلیدی مجرم تہور رانا’’ میڈل ‘‘ کا خواہاں

26نومبر2008 کے ممبئی حملوں کے ایک کلیدی مجرم تہور رانا کے بارے میں ایک دلچسپ انکشاف ہوا ہے جس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہےکہ 2008 کے نومبر مہینے میں جو لشکر طیبہ کا حملہ ہوا تھا اس کی کتنے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کی گئی تھی نیز یہ کہ خود پاکستانی ایسٹیبلشمنٹ نے بھی ان حملوں میں نمایاں رول ادا کیا تھا۔ ویسے تو پاکستان ہمیشہ اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے حملوں میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔پاکستان کی دو بڑی دہشت گرد تنظیموں نے ہندوستان میں چھوٹے بڑے متعدد حملے کئے ہیں اور ان تنظیموں کی براہ راست فوجی ٹولے کی طرف سے سر پرستی اور حوصلہ افزائی ہوتی رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان تردید کرنے کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی طور پر اقرار بھی کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اسی کی سر پرستی میں قائم کی گئی تھیں۔ مثلاً سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے کئی بار اس کا ذکر کیا ہے کہ پاکستان نے لشکر طیبہ سمیت بعض تنظیمیں خود ہی قائم کرائی تھیں۔ حال ہی میں عمران خان کی کابینہ کے ایک سینئر وزیر فواد چودھری نے شیخی بگھارتے ہوئے یہ کہا تھا کہ...

مذاکرات کے باوجود طالبان کے حملے جاری

ایک طرف امریکہ یہ تیاری کر رہا ہے کہ آئندہ 20 جنوری تک یعنی جب وہاں نو منتخب صدر اپنا عہدہ سنبھالیں گے اس وقت تک امریکہ اپنی فوجوں کی بڑی تعداد افغانستان سے واپس بلا لے گا لیکن دوسری طرف یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ افغانستان کا مستقبل غیر یقینی ماحول کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکہ میں 9/11 کے حملوں کے بعد طالبان کو حکومت سے توبے دخل کر دیا گیا تھا لیکن وہ کسی نہ کسی طور پر اپنے وجود کا احساس دلاتے رہے ۔ وہ امریکہ کی قیادت والی غیر ملکی فوجوں اور افغان حکومت دونوں پر حملے کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی پناہ گاہیں پاکستان میں قائم کر لی تھیں اور وہیں سے حملے کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔ اس سال فروری میں امریکہ نے طالبان سے ایک سمجھوتہ کیا۔ یہ سمجھوتہ دوحہ میں ہوا تھا جہاں طالبان نے اپنا سیاسی دفتر بھی قائم کیا ہے۔ سمجھوتہ بنیادی طور پر اس بات پر ہوا تھا کہ 14 مہینوں کے اندر اندر امریکہ اپنی ساری فوجیں واپس بلا لے گا اور طالبان کو یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ وہ القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان کی سرزمین سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ طالبان نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ ...

پاکستان میں احمدیہ فرقے پر تشدد میں اضافہ

دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آنے والے پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نام نہاد اسلامی جمہوریہ کی بنیاد ہی کج نہاد ثابت ہوئی۔ بانیٔ پاکستان کی تاریخی تقریر جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر کا درجہ دینے کی بات کہی گئی تھی اسے خود پاکستان کے حکمرانوں کو بھولنے میں زیادہ دن نہیں لگے۔ فرقے، عقائد اور مسلک کے نام پر جتنا کشت و خون پاکستان میں اس کے قیام کے کچھ دنوں بعد سے لے کر اب تک ہوا ہے وہ شااید ہی اتنے کم عرصے میں کہیں اور ہوا ہو۔ گزشتہ دنوں ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں احمدیہ فرقے کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لئے پاکستان کی سرزنش کی اور یہ بھی کہا کہ اسے جلد از جلد غیر جانبداری سے اس بات کی تفتیش کرنی چاہئے کہ اچانک احمدیہ فرقے کے لوگوں پر ہونے والے حملوں میں اتنی شدت آنے کے اسباب کیا ہیں اور ان حملوں کے لئے ذمہ دار مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے ۔ دراصل عالمی اداروں کی یہ تشویش کچھ بیجا بھی نہیں۔ ذرا تفصیل میں جائیں تو پتہ چلے گا کہ اس سال جولائی کے بعد احمدیہ فرقے کے کم از کام پانچ ا...

موضوع: ہند-بحرین تعلقات 

ہندوستان اور بحرین کے درمیان کافی مضبوط تجارتی، ثقافتی اور اسٹریٹیجک تعلقات ہیں جن کی بنیاد تاریخی ، دو طرفہ تجارتی اور عوامی رشتے ہیں۔ اگرچہ رقبہ کے لحاظ سے بحرین بہت چھوٹا ملک ہے تاہم اسٹریٹیجک اعتبار سے اسکی کافی اہمیت ہے ۔ یہ خلیج کے جنوب مغرب میں واقع ہے جو علاقہ کی سلامتی اور استحکام کیلئے کافی اہم ہے۔ بحرین ترقی کے عرب گلف ماڈل کا بھی سرخیل ہے۔ پیٹرول اور دوسری اشیاء کی دو طرفہ تجارت کے علاوہ اس ملک میں تقریباً تین لاکھ ہندوستانی رہتے ہیں جنہوں نے اپنے میزبان ملک کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اور جن کے مقامی لوگوں سے کافی خوشگوار تعلقات ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جنہوں نے پچھلے سال اگست میں بحرین کا دورہ کیا تھا، دونوں ملکوں کے تعلقات نے نئی بلندیاں طے کی ہیں۔ جناب مودی پہلے ہندوستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے اس ملک کا دورہ کیا تھا۔ ہندوستان اور بحرین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے فروغ میں ان کی کوششوں کے اعتراف میں شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے انہیں بحرین آرڈر فرسٹ کلاس کے اعزاز سے نوازا تھا۔ جناب مودی کے بحرین دورے کے دوران دونوں ملکوں نے چار مفاہمت ناموں ...

گلگت  بلتستان انتخابات :فوج اور چین کوفیض پہنچانے کی حکمت عملی

حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا ہے۔ انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا الزام ہے کہ الیکشن کے دوران بدعنوانی کی گئی ہے۔بدعنوانی کے خلاف مختلف مقامات پر اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج جاری ہے، لیکن تشویش اس بات پر نہیں ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے بلکہ تشویش بجائے خود انتخابات کے انعقاد پر ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے یکم نومبر کو اعلان کیا تھا کہ وہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں عارضی صوبہ بنانے جا رہے ہیں۔ حالانکہ انھوں نے اس بارے میں کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اصولی طور پر پاکستان کو نہ تو گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے کا اخلاقی جواز ہے اور نہ ہی وہاں انتخابات کرانے کا، کیونکہ وہ مقبوضہ کشمیر کا حصہ ہے اور ہندوستان کا موقف یہ ہے کہ پاکستان نے اس حصے پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور وہ اسے واپس لے کر رہے گا۔ اس سے قبل پاکستان کی کسی بھی حکومت کو اس علاقے کی حیث...