سی پی ای سی پر مخمصے میں چین
بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کےمنصوبوں کاکیاحشرہوسکتاہےاس بابت ابھی دوسال قبل 2018 میں عالمی بینک نےبھی شریک ممالک کوآنےوالےقرضوں کےخدشات،ٹھپ ہوکررہ جانے والے بنیادی ڈھانچوں،سماجی خطرات اورکرپشن کےتعلق سےخبردارکیاتھا۔ دیکھاجائےتوعالمی بینک کےیہ تمام اندیشےسی پی ای سی کےممکنہ انجام کےتعلق سےدرست ثابت ہورہےہیں ۔سات سال قبل طے پانے والے چین۔ پاک اقتصادی راہداری پرابتدائی جوش و خروش کے بعد نہ صرف کام کی رفتار بہت کم ہوتی چلی گئی بلکہ بعض حلقوں کا توخیال یہ ہے کہ آئندہ دنوں میں اس منصوبے پر مکمل جمود طاری ہو جائے گا یا پھر اسے ختم کر دیا جائے گا۔چین کے انتہائی اہمیت والے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت فلیگ شپ پروگرام پاک۔چین اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کی تعمیر کی میعاد کو پاکستان میں ایک سے زیادہ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بعض نکات پر اختلافات کے سبب سی پیک سے متعلق مشترکہ تعاون کمیٹی کے 10 ویں اجلاس کے غیر متوقع التوا کے بعد چین نے کئی رُخ پرسی پیک کی تعمیر کا کام روک دیا ہے۔دونوں ممالک کے مابین صنعتی تعاون کے مستقبل کے روڈ میپ اور سی پی ای سی کے تحت صنعتی پارک اور خصوصی اقتصادی زون قائم کرنے پر بھی اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔
چالیس ارب ڈالر کے ابتدائی تخمینے سے ستر ارب ڈالر تک پہنچ جانے والے اس منصوبے کو پاکستان میں بڑھتے ہوئے کرپشن اور علاقائی عدم استحکام خصوصاً بلوچستان میں اس منصوبے کی مخالفت نے اس بُری طرح ٹھپ کر رکھا ہے کہ یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ سی پی ای سی پر کام تقریباً رک چکاہے۔بلوچستان کی صوبائی حکومت کےسابق ترجمان جان محمدبلیدی کے حوالے سے میڈیا میں خبر ہے کہ گوادر ایئر پورٹ کے لئے زمین تولے لی گئی ہے لیکن اس پر کوئی کام اب تک نہیں کیا گیا جبکہ چین کو گوادر میں تین سو میگاواٹ کا پاور پلانٹ بھی لگانا تھا۔ اس کے لئے زمین تک خریدی گئی مگر کہیں کوئی کام شروع نہیں کیا گیا۔ گوادر کی بندرگاہ پر بھی جمود طاری ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ پروجیکٹ اب تقریباً ٹھپ پڑ چکاہے۔اس طرح دیکھا جائے تو ابتدائی چاربرسوں میں دوڑتی نظر آنے والی چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تمام پروجکوں کی پیش رفت 2018 کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام ، بلوچستان اور دیگر علاقوں میں بڑھتی ہوئی شورش اور پاکستان میں کرپشن اوراقتصادی کساد بازاری کی وجہ سے مایوس کن طور پر ٹھپ پڑ گئی۔
درون پاکستان بعض حلقوں کا خیال ہے کہ چین سی پی ای سی سے جڑے منصوبوں میں بد عنوانی کے الزامات کی وجہ سے سخت ناراض ہے۔ پہلے چین قرضے دینے کے بعد پروکیورمنٹ کی بات کرتا تھا۔ اب وہ کہتا ہے کہ پاکستانی حکام پروکیورمنٹ پہلے کریں۔ اس کے بعد بھی وہ یہ ضمانت نہیں دیتا کہ آیا وہ قرضے دے گا۔ ایسے میں کوئی ایسی حکومت پروکیورمنٹ کیسے کر سکتی ہے جس کے پاس کوئی فنڈ ہی نہیں۔ ان حالات میں تو یہی لگتا ہے کہ سی پیک اب تاریخ کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
چین پاک اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت چین نے سی پی ای سی کے ذریعے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں میں 62 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرنا چاہا تھا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کا خیال یہ تھا کہ ا س طرح کی سرمایہ کاری سے پاکستان میں سیاسی استحکام اور اقتصادی احیا منصوبے کے حق میں معاون ہوگی ۔چینی ذمہ داران کا یہ بھی خیال تھا کہ سی پی ای سی سے 2030 تک پاکستان اپنے یہاں تقریباً 23 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کا متحمل ہو جائے گا اور مغربی ایشیا سے چین تک برآمدات اور توانائی کی درآمدات کا ایک متبادل راستہ فراہم ہوجائے گا،لیکن یہ سارے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے۔ پاکستان میں مسلسل سیاسی عدم استحکام ، ملک کے عوامی نظم و نسق اور سی پی ای سی منصوبوں تک میں سیکورٹی ایجنسیوں اور فوجی مقتدرہ کی بڑھتی ہوئی مداخلتوں نے چین کو سی پی ای سی کا کیا بنے گا!اِس پراز سر نو غور کرنے پر مجبور کر دیا۔سی پی ای سی کو پاکستان میں اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے پچھلے سات برسوں میں خوب بھنایا۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے ملک میں قومی حکومت بنانے کے لئے منتخب ہونے سے قبل وزیراعظم عمران خان کی سیاسی جماعت پی ٹی آئی سی پی ای سی کی سخت مخالفت کرتی تھی۔ اب یہ کام اپوزیشن پارٹیاں انجام دے رہی ہیں۔ عمران خان کے خلاف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پرچم تلے وہی تمام پارٹیاں اکھٹی ہوئی ہیں۔
پاکستان میں عام تاثر یہ ہے بد عنوانی کے الزامات اور حکومت کے نااہل ہونے کی اطلاعات نےچینیوں کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔دوسری طرف قرضوں کے بوجھ اور مغربی ایشیا کے بدلتے سیاسی منظر نامے نے حکومت پاکستان کو امریکہ اور چین دونوں کو خوش کرنے کی کوشش میں الجھا رکھا ہے۔یہ توازن ممکن نہیں ۔ ایسی صورت میں سی پی ای سی کے منصوبوں کو جمود کا شکار ہو نے سے بچانا کم سے کم پاکستان کے بس میں نہیں ۔
چالیس ارب ڈالر کے ابتدائی تخمینے سے ستر ارب ڈالر تک پہنچ جانے والے اس منصوبے کو پاکستان میں بڑھتے ہوئے کرپشن اور علاقائی عدم استحکام خصوصاً بلوچستان میں اس منصوبے کی مخالفت نے اس بُری طرح ٹھپ کر رکھا ہے کہ یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ سی پی ای سی پر کام تقریباً رک چکاہے۔بلوچستان کی صوبائی حکومت کےسابق ترجمان جان محمدبلیدی کے حوالے سے میڈیا میں خبر ہے کہ گوادر ایئر پورٹ کے لئے زمین تولے لی گئی ہے لیکن اس پر کوئی کام اب تک نہیں کیا گیا جبکہ چین کو گوادر میں تین سو میگاواٹ کا پاور پلانٹ بھی لگانا تھا۔ اس کے لئے زمین تک خریدی گئی مگر کہیں کوئی کام شروع نہیں کیا گیا۔ گوادر کی بندرگاہ پر بھی جمود طاری ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ پروجیکٹ اب تقریباً ٹھپ پڑ چکاہے۔اس طرح دیکھا جائے تو ابتدائی چاربرسوں میں دوڑتی نظر آنے والی چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تمام پروجکوں کی پیش رفت 2018 کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام ، بلوچستان اور دیگر علاقوں میں بڑھتی ہوئی شورش اور پاکستان میں کرپشن اوراقتصادی کساد بازاری کی وجہ سے مایوس کن طور پر ٹھپ پڑ گئی۔
درون پاکستان بعض حلقوں کا خیال ہے کہ چین سی پی ای سی سے جڑے منصوبوں میں بد عنوانی کے الزامات کی وجہ سے سخت ناراض ہے۔ پہلے چین قرضے دینے کے بعد پروکیورمنٹ کی بات کرتا تھا۔ اب وہ کہتا ہے کہ پاکستانی حکام پروکیورمنٹ پہلے کریں۔ اس کے بعد بھی وہ یہ ضمانت نہیں دیتا کہ آیا وہ قرضے دے گا۔ ایسے میں کوئی ایسی حکومت پروکیورمنٹ کیسے کر سکتی ہے جس کے پاس کوئی فنڈ ہی نہیں۔ ان حالات میں تو یہی لگتا ہے کہ سی پیک اب تاریخ کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
چین پاک اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت چین نے سی پی ای سی کے ذریعے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں میں 62 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرنا چاہا تھا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کا خیال یہ تھا کہ ا س طرح کی سرمایہ کاری سے پاکستان میں سیاسی استحکام اور اقتصادی احیا منصوبے کے حق میں معاون ہوگی ۔چینی ذمہ داران کا یہ بھی خیال تھا کہ سی پی ای سی سے 2030 تک پاکستان اپنے یہاں تقریباً 23 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کا متحمل ہو جائے گا اور مغربی ایشیا سے چین تک برآمدات اور توانائی کی درآمدات کا ایک متبادل راستہ فراہم ہوجائے گا،لیکن یہ سارے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے۔ پاکستان میں مسلسل سیاسی عدم استحکام ، ملک کے عوامی نظم و نسق اور سی پی ای سی منصوبوں تک میں سیکورٹی ایجنسیوں اور فوجی مقتدرہ کی بڑھتی ہوئی مداخلتوں نے چین کو سی پی ای سی کا کیا بنے گا!اِس پراز سر نو غور کرنے پر مجبور کر دیا۔سی پی ای سی کو پاکستان میں اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے پچھلے سات برسوں میں خوب بھنایا۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے ملک میں قومی حکومت بنانے کے لئے منتخب ہونے سے قبل وزیراعظم عمران خان کی سیاسی جماعت پی ٹی آئی سی پی ای سی کی سخت مخالفت کرتی تھی۔ اب یہ کام اپوزیشن پارٹیاں انجام دے رہی ہیں۔ عمران خان کے خلاف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پرچم تلے وہی تمام پارٹیاں اکھٹی ہوئی ہیں۔
پاکستان میں عام تاثر یہ ہے بد عنوانی کے الزامات اور حکومت کے نااہل ہونے کی اطلاعات نےچینیوں کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔دوسری طرف قرضوں کے بوجھ اور مغربی ایشیا کے بدلتے سیاسی منظر نامے نے حکومت پاکستان کو امریکہ اور چین دونوں کو خوش کرنے کی کوشش میں الجھا رکھا ہے۔یہ توازن ممکن نہیں ۔ ایسی صورت میں سی پی ای سی کے منصوبوں کو جمود کا شکار ہو نے سے بچانا کم سے کم پاکستان کے بس میں نہیں ۔
Comments
Post a Comment