ترقی کیلئے امن ہی لازمی شرط ہے
یاد رہے کہ ہندوستان نے 2017میں ایس سی او کی مکمل رکنیت حاصل کی تھی اور اب اس تنظیم کی آواز کی یوروایشا خطہ میں بہت ا ہمیت کی حامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ کورونا کی وبا کے دوران بھی اس تنظیم کا اہم اجلاس منعقد ہوا،ساتھ ہی یہ پہلا موقع تھا جب ایس سی او کے سربراہان حکومت کے اجلاس کی میزبانی ہندوستان نے کی۔ دہشت گردی کے تعلق سے ہندوستان کا موقف بہت واضح رہاہے کہ دہشت گردی انسانیت کی دشمن ہے،اس سے کسی ایک ملک یا قوم کو خطرہ یا نقصان نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کیلئے عذاب ہے،اس لئے دہشت گردی کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا۔اس کا مقابلہ مل کر کرنا ہوگا۔ در اصل بات سرحد پار دہشت گردی کی ہوتی ہے تو پاکستان کا کردار بھی روشنی میں آجاتا ہے۔ہندوستان نے اپنی سرزمین پر پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی پشت پناہی کے خلاف مسلسل آواز اٹھائی ہے۔خاص طور پر کشمیر میں دہشت گردوں کی در اندازی اور تخریبی سرگرمیوں سے دنیا کو واقف کرانے کی کوشش کی ہے۔حال میں وزارت امور خارجہ نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ 21نومبر کو کشمیر میں ہلاک ہوئے دہشت گردوں کا مقصد ضلع کاؤنسل انتخابات میں رخنہ اندازی تھا۔جو کہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370اے کے خاتمہ کے بعد پہلے انتخابات ہیں۔وزارت خارجہ نے بھی پاکستان سے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ اس کی سرزمین سے دہشت گرد گروپ مسلسل ہندوستان کے خلاف حملے کررہے ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کے فنڈ اور منی لاونڈرنگ پر لگام نہ کسنے پر عالمی دہشت گردی مخالف ادارے ‘‘مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس’’نے پاکستان کو ‘‘گرے لسٹ’’ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ، پاکستان کے اس منفی کردار کی توثیق کرتا ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان کا امن، سلامتی اورخوشحالی پر پختہ یقین ہے،ہندوستان نے ہمیشہ دہشت گردی، غیر قانونی ہتھیاروں کی اسمگلنگ،ڈرگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے والے ممالک،یوں تو خود تباہ حال ہوتے ہیں، ساتھ ہی اپنے پڑوسی ممالک اور خطہ کی ترقی کیلئے بھی ایک مسئلہ بن جاتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ ممبر ممالک دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں، مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کرنے والے قوانین کو نافذ کرنے کی پہل کریں۔ہندوستان ایس سی او چارٹر میں دیئے گئے اصولوں کے مطابق ایس سی او کے تحت کام کرنے کی اپنی عہد بندی میں مستحکم رہا ہے۔لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ ایس سی او ایجنڈے میں بار بار غیر ضروری طور پر دو طرفہ معاملات کو لانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، جو ایس سی او چارٹر اور شنگھائی اسپرٹ کی خلاف ورزی ہے۔
ایس سی اوکے اجلاس میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی عدم شرکت اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کتنی کھوکھلی ہے۔پاکستان ایسے کئی پلیٹ فارم پر سرحد پار دہشت گردی کے خلاف الزامات کا جواب دینے سے قاصر رہا ہے۔قیادت منھ چھپانے کو ہی ترجیح دیتی آئی ہے، اس بار بھی پاکستان نے دامن جھاڑنے کی کوشش کی ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کیلئے اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گرد طاقتوں پر لگام کسنا کتنا مشکل ہے، جو کہیں نہ کہیں اس نظام پرحاوی ہیں۔
ہندوستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ترقی کیلئے امن سب سے اہم ضرورت ہے،اس لئے دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کی جاتی رہی ہےاور تشویش کا اظہا ر بھی کیا جاتا رہا ہے۔ ہندوستان دنیا کو یہ بات بتانے میں بڑی حد تک کامیاب ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کی قیمت دنیا کو الگ الگ شکل میں ادا کرنی پڑتی ہے۔اس لئے ایسے بے قابو ممالک کونہ صرف سفارتی طور پر دبوچنے بلکہ مہذب بنانے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے جو دو طاقتوں کے درمیان ٹکراؤ کے خدشہ کو بھی دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
Comments
Post a Comment