موضوع :ممبئی حملوں کا ایک کلیدی مجرم تہور رانا’’ میڈل ‘‘ کا خواہاں

26نومبر2008 کے ممبئی حملوں کے ایک کلیدی مجرم تہور رانا کے بارے میں ایک دلچسپ انکشاف ہوا ہے جس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہےکہ 2008 کے نومبر مہینے میں جو لشکر طیبہ کا حملہ ہوا تھا اس کی کتنے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کی گئی تھی نیز یہ کہ خود پاکستانی ایسٹیبلشمنٹ نے بھی ان حملوں میں نمایاں رول ادا کیا تھا۔ ویسے تو پاکستان ہمیشہ اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے حملوں میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔پاکستان کی دو بڑی دہشت گرد تنظیموں نے ہندوستان میں چھوٹے بڑے متعدد حملے کئے ہیں اور ان تنظیموں کی براہ راست فوجی ٹولے کی طرف سے سر پرستی اور حوصلہ افزائی ہوتی رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان تردید کرنے کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی طور پر اقرار بھی کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اسی کی سر پرستی میں قائم کی گئی تھیں۔ مثلاً سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے کئی بار اس کا ذکر کیا ہے کہ پاکستان نے لشکر طیبہ سمیت بعض تنظیمیں خود ہی قائم کرائی تھیں۔ حال ہی میں عمران خان کی کابینہ کے ایک سینئر وزیر فواد چودھری نے شیخی بگھارتے ہوئے یہ کہا تھا کہ پاکستان نے پلوامہ میں گھس کر ہندوستان کو مارا تھا۔ یعنی انہوں نے یہ کریڈٹ لیا تھا کہ پلوامہ میں جو سی آر پی ایف کے چالیس جوان شہید کئے گئے تھے ان کی ہلاکت کا ’’کارنامہ‘‘ کسی اور نے نہیں بلکہ پاکستان نے انجام دیا تھا۔ گویا اس طور پر پاکستان نے اپنی ’’بہادری‘‘ کا مظاہرہ کیا تھا۔

اور اب تہور رانا اور ڈیوڈ ہیڈلی کے بارے میں امریکہ میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے حوالے سے بعض اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔یاد رہے کہ تہور رانا پاکستانی نسل کا کناڈا کا شہری ہے جکہ ڈیوڈ ہیڈلی عرف داودجیلانی پاکستانی امریکی شہری ! یہ دونوں ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی میں نہ صرف ملوث تھے بلکہ نمایاں رول بھی ادا کیا تھا۔

تہور رانا نے امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ ڈیوڈ ہیڈلی کی ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی میں بھر پور مدد کی تھی۔ ایک امریکی عدالت نے 2011 میں اسے مجرم گردانتے ہوئے 14 سال کی سزا سنائی تھی۔ سزا ڈیوڈ ہیڈلی کو بھی ملی تھی۔لیکن امریکہ سے ہونے والے ایک سمجھوتے کے تحت اسے سزا صرف امریکہ ہی میں دی جا سکتی تھی۔ بہر حال اسے 35 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ ہندوستان کے حوالے نہیں کیا جائے گا لیکن تہور رانا، ہندوستانی ایجنسی این آئی اے کو ممبئی حملوں کے معاملے میں مطلوب ہے اور اسے ہندوستان کے حوالے کرنے سے متعلق کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں۔ امریکی حکام نے کیلی فورنیا کی ایک عدالت میں اس سلسلے میں جو کاغذات پیش کئے ہیں ، ان میں کئی اہم باتیں سامنے آئی ہیں۔مثلاً 2006 سے 2008 تک تہور نے اپنے بچپن کے دوست ڈیوڈ ہیڈلی کی بھر پور مدد کی تھی تاکہ ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی ہو سکے ۔ ہیڈلی کے لشکر طیبہ سے رابطے2008 سے پہلے ہی قائم تھے۔ ان کاغذات کے مطابق جون 2006 میں ہیڈلی تہور رانا سے شکاگو میں ملا تھا اور لشکر طیبہ سے اپنے رابطوں کے بارے میں اسے بتایا تھا۔ تہور نے اس کے ساتھ تعاون کرنے کا وعدہ کیا تھا اور پلان کے مطابق اس نے اپنے بزنس کا ایک برانچ ممبئی میں قائم کیا تاکہ ہیڈلی کی مدد کر سکے۔ اس کے بعد ہیڈلی نے پاکستان کا دورہ کیا اور لشکر طیبہ کے لیڈروں سے ملا۔ تہور نے ممبئی برانچ قائم کر کے ہیڈلی کی مدد کی اور ہیڈلی نے ممبئی کے ان مقامات کا جائزہ لے کر بعض جگہوں کی نشاندہی کی جہاں سے حملوں کو کامیاب بنایا جا سکتا تھا۔

2008 میں ممبئی پر جو حملہ ہوا تھا اس میں حصہ لینے والے نو دہشت گرد تو ہلاک کر دیئے گئے تھے لیکن زندہ بچ جانے والااجمل قصاب گرفتار کر لیا گیا تھا جس پر مقدمہ چلا اور چند سال بعد اسے پھانسی دے دی گئی ۔ تہوررانااور ہیڈلی کو بھی امریکہ میں سزا ہوئی۔ اجمل قصاب نے زندہ پکڑے جانے کے بعد جو بیانات دیئے تھے ان میں لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید اور پاکستانی فوج کے بارے میں بھی بتایا تھا کہ اس پوری سازش میں انہوں نے اہم رول ادا کیا تھا۔ ڈیوڈ ہیڈلی کے بیان سے بھی کم و بیش انہی باتوں کی تصدیق ہوئی تھی۔ حافظ سعید ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا لیکن ابھی تک ممبئی حملوں کے سلسلے میں اسے نہ سزا ہوئی اور نہ ہی کوئی اور کارروائی ہوئی۔ایف اے ٹی ایف کے عتاب سے بچنے کے لئے البتہ دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے کے سلسلے میں اسے سزا ہوئی ہے۔

امریکی حکام نے تہور رانا کو ہندوستان کے حوالے کئے جانے کے سلسلے میں جو میمو رینڈم کیلی فورنیا کی ضلع عدالت میں پیش کیا ہے ، اس تک بعض معتبر اور موقر اخباروں نے رسائی حاصل کی ہے۔ اس میں بہت سے حقائق سامنے آئے ہیں،امریکہ کی ایجنسی ایف بی آئی کے پاس تہور رانا اور ہیڈلی کی بات چیت کا ریکارڈ موجود ہے۔ رانا نے یہ بھی کہا تھا کہ ممبئی حملوں کے سلسلے میں اس نے جو گرانقدر خدمات انجام دی ہیں ان کے عوض اسے اعلیٰ ترین میڈل سے نوازا جانا چاہئے۔

امید ہے کہ ہندوستان کے حوالے کئے جانے کے بعد تہور رانا سے جب پوچھ تاچھ ہوگی تو اور بھی بہت سے انکشافات سامنے آ سکیں گے اور یہ بھی اندازہ ہو سکے گا کہ ممبئی حملوں کی سازش کا سلسلہ کتنا دراز تھا۔

\

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ