ہندوستان کے خلاف عمران خان کی زہر افشانی
جیسا کہ پہلے ہی محسوس کیا جا رہا تھا کہ پاکستان کی اپوزیشن پارٹیوں نے موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج شروع کرنے کے لئے جو ایک نیا محاذ قائم کیا ہے وہ اس اعتبار سے قطعی مختلف ہے جو اب سے پہلے فوجی آمریت کے خلاف قائم ہوا کرتا تھا۔ اگر چہ اس وقت ایک سیویلین حکومت بر سر اقتدار ہے جس کے سر براہ تحریک انصاف پارٹی کے رہنما عمران خان ہیں۔ لیکن عام تاثر یہ ہے کہ یہ فوج کے ذریعہ پاکستان پر مسلط کی گئی حکومت ہے جسے اپوزیشن پارٹیاں ’’منتخب حکومت‘‘ نہیں مانتیں بلکہ ایک سلیکٹیڈ گورنمنٹ قرار دے رہی ہیں۔اپوزیشن پارٹیوں کے مطالبے کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا بند کرے اور اپنی طاقت کا غلط استعال کر کے ریاست کے آئینی اداروں کی مدد سے سیاسی حالات کو اپنی مرضی کے مطابق غلط رخ دینے کی کوشش نہ کرے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی جو کانفرنس ہوئی تھی اسے لندن سے ویڈیو رابطے کے ذریعہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی خطاب کیا تھا۔ ظاہر ہے عوامی سطح پر ہر طرف گفتگو کا محور یہی ہے کہ فوجی مداخلت کے خلاف ایک نئی تحریک شروع ہوئی ہے۔ پاکستان کے عوام نے بھی دو سال سے زیادہ عرصہ تک حالات کا مشاہدہ کیا ہے...