Posts

ہندوستان کے خلاف عمران خان کی زہر افشانی

جیسا کہ پہلے ہی محسوس کیا جا رہا تھا کہ پاکستان کی اپوزیشن پارٹیوں نے موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج شروع کرنے کے لئے جو ایک نیا محاذ قائم کیا ہے وہ اس اعتبار سے قطعی مختلف ہے جو اب سے پہلے فوجی آمریت کے خلاف قائم ہوا کرتا تھا۔ اگر چہ اس وقت ایک سیویلین حکومت بر سر اقتدار ہے جس کے سر براہ تحریک انصاف پارٹی کے رہنما عمران خان ہیں۔ لیکن عام تاثر یہ ہے کہ یہ فوج کے ذریعہ پاکستان پر مسلط کی گئی حکومت ہے جسے اپوزیشن پارٹیاں ’’منتخب حکومت‘‘ نہیں مانتیں بلکہ ایک سلیکٹیڈ گورنمنٹ قرار دے رہی ہیں۔اپوزیشن پارٹیوں کے مطالبے کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا بند کرے اور اپنی طاقت کا غلط استعال کر کے ریاست کے آئینی اداروں کی مدد سے سیاسی حالات کو اپنی مرضی کے مطابق غلط رخ دینے کی کوشش نہ کرے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی جو کانفرنس ہوئی تھی اسے لندن سے ویڈیو رابطے کے ذریعہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی خطاب کیا تھا۔ ظاہر ہے عوامی سطح پر ہر طرف گفتگو کا محور یہی ہے کہ فوجی مداخلت کے خلاف ایک نئی تحریک شروع ہوئی ہے۔ پاکستان کے عوام نے بھی دو سال سے زیادہ عرصہ تک حالات کا مشاہدہ کیا ہے...

پاکستان میں فوج کی بالادستی

پاکستان اس وقت بدترین سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ سول اور فوجی قیادت کے درمیان طاقت کے عدم توازن نے اس صورت حال کو اور بھی نازک بنا دیا ہے۔ وہاں کے سیاسی ماحول میں جمہوری آوازوں کے لیے پہلے ہی گنجائش کم تھی کہ اب اور بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک با رکہا تھا کہ پاکستان میں اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ ہے۔ مگر اب ایک اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ معاملہ اب اس سے بھی آگے جا چکا ہے۔ اب اسٹیٹ کے اوپر اسٹیٹ کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ گزشتہ دنوں اپوزیشن جماعتوں کی ایک کانفرنس سے لندن سے نواز شریف کے ورچوئل خطاب کے بعد فوجی قیادت مزید سرگرم ہو گئی ہے۔ جس وقت مذکورہ کانفرنس ہوئی اسی دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے متعدد سیاسی شخصیات سے ملاقات کی تھی جس کی خبر کانفرنس کے بعد لیک کر دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ خبر ا س لیے لیک کی گئی تاکہ اپوزیشن رہنماؤں کے عوامی اعتبار کو ضرب لگائی جا سکے اور عوام میں یہ پیغام دیا جا سکے کہ اپوزیشن رہنما ایک طرف فوج کے خلاف صف آرائی کرتے ہیں اور دوسری طرف خفیہ طور پر فوجی اہلکاروں سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔ ریلوے ک...
آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری جھڑپوں کے بیچ پاکستان اور بالخصوص وزیر اعظم عمران خان نے آذربائیجان کی حمایت میں بیانات جاری کیے ہیں اور کہا ہے پاکستان اپنے برادر ملک کے مسلم عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔آذربائیجان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے۔ جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 97 فیصد ہے۔ آذربائیجان ہو یا کوئی دوسرا مسلم ملک اگر اس کے عوام پر کسی طرح کی زیادتی ہورہی ہو اور پاکستان ان کی حمایت اور مدد کا اعلان کرتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ انسانیت کے ناطے یہ ساری دنیا کی ذمہ داری بھی ہے۔ لیکن کیا پاکستان کو واقعی مسلمانوں سے ہمدردی ہے اس لیے وہ آذربائیجان کے مسلمانوں کی حمایت کررہا ہے۔ شاید ایسا بالکل نہیں ہے۔ اور اس کے ثبوت کے لیے ہمیں بہت زیادہ تحقیق اورغور و خوض کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اگر پاکستان کے سب سے قریبی اور بھروسے مند دوست چین کی طرف صرف ایک نگاہ بھر ڈال لیں تو یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہوجائے گی کہ مسلمانوں سے پاکستان اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی ہمدردی محض دکھاوا اور سیاست کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ورنہ چین کے ایغور مسلمانوں کے ساتھ جو انسانیت سوز برتاؤ کیا جارہا ہے ...

سنکیانگ کی حالت زارپر پاکستانی صحافیوں کا بیباک ردعمل

یہ حقیقت اب دنیا سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ایغوروں کے لیے چینی حکومت نے سنکیانگ میں کئی ڈٹینشن کیمپ قائم کر رکھے ہیں۔ اسے وہ رِی-ایجوکیشن کیمپس (Re-education camps) کہتی ہے۔ وہاں لاکھوں ایغوروں کو زبردستی رکھا جاتا ہے۔ انہیں اپنی زبان، ثقافت اور مذہبی احکامات کو ترک کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ حکم عدولی پر سزا دی جاتی ہے، ٹارچر کیا جاتا ہے۔ ایغوروں کی داڑھی زبردستی کاٹ دی جاتی ہے، خواتین کو نقاب یا برقع پہننے سے روکا جاتا ہے۔ ماہ رمضان میں پوری کوشش کی جاتی ہے کہ ایغور روزے نہ رکھیں۔ گھر میں قرآن شریف رکھنے پر ایغوروں کی پٹائی اور سنکیانگ میں مسجدوں کی مسماری کی خبریں عالمی برادری کے لیے نئی نہیں رہیں مگر ان مظالم کے باوجود پاک حکومت کی خاموشی ایک معمہ ہے۔ قول و عمل کا تضاد واضح شبیہ نہیں بننے دیتا۔ پاک وزیراعظم عمران خان دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے رہتے ہیں، مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے رہتے ہیں مگر بات سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کی آتی ہے تو خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سنکیانگ کے مسلمان دنیا بھر کے مسلمانوں سے الگ ہیں یا ان پر چینی حک...

حکومت پاکستان کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کی کل پارٹی کانفرنس

حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی دعوت پراپوزیشن پارٹیاں اسلام آباد میں جمع ہوئیں جہاں انہوں نے مستقبل کے مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس کل پارٹی کانفرنس میں بارہ اپوزیشن پارٹیوں نے شرکت کی جب کہ جماعت اسلامی نے خود کو اس سے الگ رکھا۔ جولائی 2018 کے انتخابات کے بعد یہ چوتھی بار ہے جب اپوزیشن پارٹیوں نے کل پارٹی کانفرنس میں شرکت کی۔ پہلی اے پی سی 28 جولائی کو انتخابات کے تین روز بعد منعقد کی گئی تھی جس میں تمام اپوزیشن پارٹیوں نے الزام لگایا تھا کہ عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لیے انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی۔ دوسری دو کل پارٹی کانفرنسز فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے جون 2019 اور جون 2020 میں بلائی گئی تھیں۔ ان کانفرنسوں میں زیادہ پارٹیوں نے شرکت نہیں کی تھی جن میں صرف اتنا بیان دیا گیا کہ حکومت کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔ اس کے برعکس اس کل پارٹی کانفرنس نے حکومت سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنے ارادے ظاہر کردیے ہیں۔میٹنگ میں عمران خان کے استعفی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے اختتام سے قبل ایک 26 نکاتی قرارداد منظور کی گئ...

شنجیانگ صوبے میں ہزاروں مسجدیں اور مزارات چین کے ہاتھوں مسمار

چین پر پچھلے کئی برسوں سےایغور مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔لیکن پچھلے کچھ مہینوں میں جو ثبوت سامنے آئےہیں ان کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ بیجنگ اپنی اقلیتوں کی مذہبی اورثقافتی شناخت مٹادینا چاہتا ہے۔ اپنی اس مہم کے تحت چینی حکام نے شنجیانگ صوبے میں ہزاروں مسجدوں کو یا تو پوری طرح سے مسمار کردیا ہے یا پھر انہیں نقصان پہنچایا ہے۔ اس بات کا خلاصہ آسٹریلین اسٹریٹیجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جو گزشتہ جمعہ کے روز منظر عام پر آئی۔ رپورٹ میں اس بات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے کہ چین کس طرح ایغور مسلمانوں کی تہذیب، ثقافت اور ان کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شنجیانگ صوبےمیں تقریباً 16 ہزار مسجدوں کو یا تو پوری طرح سے مسمار کردیا گیا ہے یا پھر انہیں نقصان پہنچایا گیا ہے۔  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017 میں جو کارروائی کی گئی اس کے تحت نہ صرف دس لاکھ سےزیادہ ایغوروں کو حراست میں لیا گیا بلکہ ان کی شناخت پر بھی حملہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق2016 میں آکسو پر یفیکٹرکےڈپٹی سکریٹری نےسرکاری محکموں سے کہا تھا کہ لوگوں ...

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے آن لائن خطاب کیا۔ اپنی تقریر میں وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے مستقبل کے لئے ایک وژن پیش کیا تاکہ امن و سلامتی اور ترقی کے مقاصد حاصل ہو سکیں لیکن اس وژن کی تکمیل کے لئے اقوام متحدہ میں اصلاحات بہت ضروری ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 1945 کی دنیا یقیناً آج کی دنیا سے بالکل مختلف تھی۔ جوعالمی ادارہ فلاح و بہبود کے احساس کے ساتھ تشکیل دیا گیا تھا وہ اس وقت کے مطابق تھا۔ آج ہم بالکل مختلف دور سے گزر رہے ہیں۔ اکیسویں صدی میں ہمارے مستقبل کی ضروریات اور چیلنجز کچھ اور ہیں۔ اس لئے آج پوری عالمی برادری کے سامنے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس ادارے کی نوعیت جو اس وقت کے حالات میں تھی آج بھی ویسی ہی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آج اقوام متحدہ میں اصلاحات کی سخت ضرورت ہے۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ تیسری عالمی جنگ نہیں ہوئی لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بہت ساری جنگیں ہوئیں۔ دنیا کو بہت سے ملکوں میں خانہ جنگی بھی دیکھنے کو ملی۔ کتنے ہی دہشت گردانہ حملوں سےدنیا لرز اٹھی،خون کی ندیاں بہ...