حکومت پاکستان کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کی کل پارٹی کانفرنس
حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی دعوت پراپوزیشن پارٹیاں اسلام آباد میں جمع ہوئیں جہاں انہوں نے مستقبل کے مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس کل پارٹی کانفرنس میں بارہ اپوزیشن پارٹیوں نے شرکت کی جب کہ جماعت اسلامی نے خود کو اس سے الگ رکھا۔
جولائی 2018 کے انتخابات کے بعد یہ چوتھی بار ہے جب اپوزیشن پارٹیوں نے کل پارٹی کانفرنس میں شرکت کی۔ پہلی اے پی سی 28 جولائی کو انتخابات کے تین روز بعد منعقد کی گئی تھی جس میں تمام اپوزیشن پارٹیوں نے الزام لگایا تھا کہ عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لیے انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی۔ دوسری دو کل پارٹی کانفرنسز فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے جون 2019 اور جون 2020 میں بلائی گئی تھیں۔ ان کانفرنسوں میں زیادہ پارٹیوں نے شرکت نہیں کی تھی جن میں صرف اتنا بیان دیا گیا کہ حکومت کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔
اس کے برعکس اس کل پارٹی کانفرنس نے حکومت سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنے ارادے ظاہر کردیے ہیں۔میٹنگ میں عمران خان کے استعفی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے اختتام سے قبل ایک 26 نکاتی قرارداد منظور کی گئی اور کل پارٹی پاکستان جمہوری تحریک شروع کرنے کے لیے حکومت مخالف لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا۔ یہ لائحہ عمل تین مرحلوں کا ہوگا جس کے تحت دسمبر میں ملک گیر پبلک میٹنگیں ہوں گی، ریلیاں نکالی جائیں گی اور اگلے سال جنوری میں اسلام آباد کے لیے ایک فیصلہ کن لانگ مارچ نکالا جائے گا۔اپوزیشن لیڈروں نے کہا کہ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے تمام جمہوری طریقے اپنائے جائیں گے، جن میں احتجاجات اور ارکان پارلیمنٹ کے استعفے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی پیش کی جائے گی۔
دو بڑی اپوزیشن پارٹیوں یعنی پاکستان مسلم لیگ (نون) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہوں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں سے خطاب کیا۔ نواز شریف نے اپنے خطاب میں عمران خان حکومت اور اس کی حمایت کرنے والوں کی جم کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ ان کے خلاف ہے جنہوں نے عمران خان کو اقتدار تک پہنچانے میں مدد کی۔ جنہوں نے انتخابات میں دھاندلی کروائی تاکہ عمران جیسا نااہل انسان اقتدار حاصل کرسکے اور اس طرح ان لوگوں نے ملک کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا۔ خبر ہے کہ حکومت نے پہلے نواز شریف کے خطاب کو روکنے کا فیصلہ کیا لیکن عین وقت پر یہ فیصلہ بدل دیا گیا۔
دوسرے رہنماؤں نے عمران حکومت کی ناکامیوں پر روشنی ڈالی۔اس سلسلہ میں انہوں نے بڑھتی قیمتوں، مسلکی تشدد، عدالتی معاملات میں حکومت کی مداخلت، سیاسی قیدیوں کی رہائی، سی پی ای سی اور دہشت گردی کے بارے میں قومی ایکشن پلان کے عدم نفاذ کا ذکر کیا۔ سب سے اہم بات یہ کہ میٹنگ میں سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ ماہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور پندرہ اپوزیشن لیڈروں کے درمیان ایک میٹنگ ہوئی جس میں دوسروں کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (نون) کے شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام کے سراج الحق، اے این پی کے امیر حیدر ہوتی اورجمعیت علمائےاسلام (ف) کے اسد محمود نے شرکت کی۔ خبروں کے مطابق میٹنگ میں کچھ وزرا بھی شریک تھے۔
خبروں کے مطابق جنرل باجوہ نے میٹنگ میں شرکت کرنے والوں کو یقین دلایا کہ وہ فوج کو سیاست میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے ان سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ فوج کو اس میں نہ گھسیٹیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا کسی بھی پارٹی سے بلاواستہ یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے۔لیکن جب کبھی بھی شہری انتظامیہ اس سے مدد طلب کرتی ہے تو وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے کیوں کہ ملک کے آئین کے مطابق اسے ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور پی ایم ایل (نون) کے کچھ رہنماؤں نے جنرل باجوہ سے اپیل کی کہ وہ مستقبل میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنائیں۔ بعد میں پی ایم ایل (نون) کی مریم شریف نے ان لوگوں کی مذمت کی جنہوں نے اس میٹنگ میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات اورجمہوریت سے متعلق معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے نہ کہ جنرل ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں۔
اس میٹنگ کے کچھ دن بعد ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اورپی ایم ایل (نون) کے رہنما شہباز شریف کو بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کرلیاگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نواز شریف کو لندن سے جلد از جلد واپس لانا چاہتے ہیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ عمران خان واحد وزیراعظم ہیں جنہوں نے بدعنوانی سے جم کر مقابلہ کیا۔
ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں حکومت پاکستان اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان ٹکراؤ کی صورت حال کافی سنگین ہونے والی ہے۔
Comments
Post a Comment