سنکیانگ کی حالت زارپر پاکستانی صحافیوں کا بیباک ردعمل
یہ حقیقت اب دنیا سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ایغوروں کے لیے چینی حکومت نے سنکیانگ میں کئی ڈٹینشن کیمپ قائم کر رکھے ہیں۔ اسے وہ رِی-ایجوکیشن کیمپس (Re-education camps) کہتی ہے۔ وہاں لاکھوں ایغوروں کو زبردستی رکھا جاتا ہے۔ انہیں اپنی زبان، ثقافت اور مذہبی احکامات کو ترک کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ حکم عدولی پر سزا دی جاتی ہے، ٹارچر کیا جاتا ہے۔ ایغوروں کی داڑھی زبردستی کاٹ دی جاتی ہے، خواتین کو نقاب یا برقع پہننے سے روکا جاتا ہے۔ ماہ رمضان میں پوری کوشش کی جاتی ہے کہ ایغور روزے نہ رکھیں۔ گھر میں قرآن شریف رکھنے پر ایغوروں کی پٹائی اور سنکیانگ میں مسجدوں کی مسماری کی خبریں عالمی برادری کے لیے نئی نہیں رہیں مگر ان مظالم کے باوجود پاک حکومت کی خاموشی ایک معمہ ہے۔ قول و عمل کا تضاد واضح شبیہ نہیں بننے دیتا۔ پاک وزیراعظم عمران خان دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے رہتے ہیں، مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے رہتے ہیں مگر بات سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کی آتی ہے تو خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سنکیانگ کے مسلمان دنیا بھر کے مسلمانوں سے الگ ہیں یا ان پر چینی حکومت کے مظالم کو پاک حکومت ظلم مانتی ہی نہیں؟ گزشتہ سال دیگر 36 ملکوں کے ساتھ پاکستان نے چین کی سنکیانگ پالیسی کی حمایت کی تھی۔
گزرتے وقت کے ساتھ ایغوروں کو بدنام کرنے کا چینی حکومت کا زاویہ بدلا ہے، ایغوروں کے استحصال میں اضافہ ہوا ہے۔ ستمبر 2001 سے پہلے چینی حکومت ایغوروں کو ‘علیحدگی پسند’ کہا کرتی تھی مگر اس کے بعد اس نے انہیں ‘دہشت گرد’ کہنا شروع کر دیا۔ 2008 کے بیجنگ اولمپکس کے دوران چینی حکومت نے بار بار یہ بات کہی کہ ایغوروں کی طرف سے بڑے دہشت گردانہ حملے ہو سکتے ہیں مگر عالمی برادری نے اسے ایغوروں کو بدنام کرنے اور انہیں مزید ٹارچر کرنے کی تیاری کے طور پر دیکھا جو غلط نہیں تھا۔ اس محاذ پر ناکامی کے بعد چینی حکومت نے ایک کے بعد ایک نیا ڈٹینشن کیمپ قائم کرنا شروع کیا مگر پاک حکومت نے اس پر کبھی اعتراض نہیں کیا جبکہ خود پاکستان میں انسان دوست لوگ ایغوروں پر مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں، اس لیے پاک حکومت یہ نہیں کہہ سکتی کہ اسے سنکیانگ میں ایغوروں کے ‘صحیح حالات’ کا علم نہیں۔ پاکستان سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ‘ڈان’ کی کالم نگار رفیعہ زکریا نے 30 ستمبر 2020 کو اپنے مضمون میں یہ لکھا ہے کہ عام لفظوں میں کہا جائے تو سنکیانگ کے رِی-ایجوکیشن کیمپس پوری طرح جہنم ہیں۔
رفیعہ زکریا پاکستان کی پہلی کالم نگار نہیں ہیں جنہوں نے ایغوروں کی حالت زار سے پاکستانیوں کو واقف کرانے کی کوشش کی ہے، ان سے پہلے بھی پاکستان کے جرأت مند صحافی اور کالم نگار ایغوروں کے استحصال کے بارے میں لکھتے رہے ہیں مگر دنیا کو دکھانے کے لیے بھی پاک حکومت نے چینی حکومت سے احتجاج درج نہیں کیا بلکہ اس کی یہ کوشش رہی ہے کہ ایغوروں پر چینی پالیسی کے نفاذ میں چینی حکومت کی ہر ممکن معاونت کرے۔ رفیعہ زکریا نے لکھا ہے کہ سنکیانگ میں رہنے والے ایغور محفوظ نہیں ہیں تو پاکستان میں بس جانے والے ایغوروں کے ساتھ چینی حکومت کی منشا کے مطابق ہی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں رفیعہ زکریا نے محمد عمر خان نام کے پاکستانی ایغور کی مثال پیش کی ہے۔ 1967 میں چینی حکومت کے استحصال سے تنگ آکر اہل خانہ کے ساتھ محمد عمر خان راولپنڈی آگئے تھے۔ انہوں نے ‘عمر ایغور ٹرسٹ’ قائم کیا اور پاکستان میں رہنے والے ایغوروں میں ایغور زبان و ثقافت کے فروغ کے لیے 2010 میں ایک اسکول قائم کیا لیکن جلد ہی لاء انفورسمنٹ آفیسرس نے ان سے کہا کہ وہ اسکول بند کر دیں، کیونکہ وہ ‘پاک-چین تعلقات کو نقصان’ پہنچا رہے ہیں۔ محمد عمر خان نے ایسا نہیں کیا تو اسکول کو مسمار کر دیا گیا۔ 2015 میں عمر نے پھر اسکول شروع کرنے کی کوشش کی لیکن ایک ماہ بعد پھر یہ بند کر دیا گیا۔ پاکستانی اتھاریٹیز نے انہیں ٹارچر کیا۔ 2017 میں محمد عمر خان کو کئی دن ڈٹینشن کیمپ میں گزارنے پڑے۔
جب حقیقت اتنی خوفناک ہو تو ظاہر سی بات ہے کہ پاک حکومت سے یہ امید نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ ایغوروں کی حمایت میں کچھ بولے گی، چینی حکومت سے یہ کہے گی کہ وہ ایغوروں کو کم سے کم انسان تو سمجھے۔ ایسی صورت میں یہ سوال فطری طور پر اٹھتا ہے کہ پھر دنیا بھر کے مسلمانوں سے پاک حکومت ہمدردی کا اظہار کیوں کرتی رہتی ہے؟ مسلمانوں کو اس طرح خانوں میں تقسیم کرکے ہمدردی کا اظہار کر کے اسے کیا ملے گا؟ ان سوالوں پر پاک حکومت خاموش رہنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی، کیونکہ اس کا دوہرا معیار اس کے کردار کی شناخت بن چکا ہے۔
Comments
Post a Comment