آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری جھڑپوں کے بیچ پاکستان اور بالخصوص وزیر اعظم عمران خان نے آذربائیجان کی حمایت میں بیانات جاری کیے ہیں اور کہا ہے پاکستان اپنے برادر ملک کے مسلم عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔آذربائیجان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے۔ جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 97 فیصد ہے۔ آذربائیجان ہو یا کوئی دوسرا مسلم ملک اگر اس کے عوام پر کسی طرح کی زیادتی ہورہی ہو اور پاکستان ان کی حمایت اور مدد کا اعلان کرتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ انسانیت کے ناطے یہ ساری دنیا کی ذمہ داری بھی ہے۔

لیکن کیا پاکستان کو واقعی مسلمانوں سے ہمدردی ہے اس لیے وہ آذربائیجان کے مسلمانوں کی حمایت کررہا ہے۔ شاید ایسا بالکل نہیں ہے۔ اور اس کے ثبوت کے لیے ہمیں بہت زیادہ تحقیق اورغور و خوض کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اگر پاکستان کے سب سے قریبی اور بھروسے مند دوست چین کی طرف صرف ایک نگاہ بھر ڈال لیں تو یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہوجائے گی کہ مسلمانوں سے پاکستان اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی ہمدردی محض دکھاوا اور سیاست کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ورنہ چین کے ایغور مسلمانوں کے ساتھ جو انسانیت سوز برتاؤ کیا جارہا ہے اور اس پر اقوام عالم نے جس طرح تشویش کا اظہار کیا ہے اس کے بعد کم ازکم پاکستان کو اپنی خاموشی تو ڑ دینی چاہئے تھی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کے سنکیانگ صوبے میں رہنے والے اقلیتی ایغور مسلمانوں کو حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے جہاں ان کے اصول و عقائد زبردستی تبدیل کرائے جاتے ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ ان حراستی مراکز میں دس لاکھ افراد رکھے گئے ہیں اور انھیں جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ قیدیوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کے نام پر بیعت کریں۔ بچوں کو ان کے خاندان، مذہب اور زبان سے الگ کیا جا رہا ہے، حتی کہ مسلم خواتین کو بانجھ بنانے کے اقدامات کی رپورٹیں بھی سامنے آئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا چین کے ایغور مسلمان، مسلمان نہیں ہیں؟ لیکن اس معاملے پروزیر اعظم عمران خان کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ 

پوری دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو عمران خان اس پر ضرور بولتے ہیں اور یہ جتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مفادات کے چمپئن ہیں۔ پچھلے دنوں جموں و کشمیر کے معاملے میں انھوں نے ہندوستانی حکومت کے فیصلے کے خلاف پاک مقبوضہ کشمیر کے دار الحکومت مظفر آباد میں ایک مارچ کی قیادت کی تھی۔ انھوں نے ہندوستان کے اس قدم کو غیر قانونی بتایا۔ حالانکہ ہندوستان کا یہ قدم مکمل طور پر آئین و قانون کے دائرے میں ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم دوسرے پاکستانی سیاست دانوں کی مانند کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ بھی کہہ چکے ہیں۔ لیکن جب معاملہ چین کے ایغور مسلمانوں کا آتا ہے تو ان کے لبوں پر قفل چڑھ جاتا ہے اور وہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اس معاملے پر ان کی زبان گنگ ہوجاتی ہے؟

امریکہ کی معاون نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے ایک بیان میں کہا تھاہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے مسلمانوں کے بارے میں جن تشویشات کا اظہار کرتا ہے انہی تشویشات کا اظہار مغربی چین میں قید و بند کی اذیتیں جھیل رہے مسلمانوں کے بارے میں بھی کرے۔ اگر پاکستان دنیا کے مسلمانوں کا چمپئن بننا چاہتا ہے تو اسے اس مسئلے پر بھی بولنا چاہیے۔

داؤس میں پچھلی مرتبہ جب عالمی اقتصادی فورم کے موقعے پر ایک صحافی نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ایغور مسلمانوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے پہلے تو یہ کہہ کر دامن بچا نے کی کوشش کہ انھیں ایغور مسلمانوں کے مسائل و مصائب کا کوئی علم ہی نہیں ہے۔ لیکن جب رپورٹر نے اصرار کیا تو عمران خان نے تسلیم کیا کہ پاکستان کا چین کے ساتھ خصوصی رشتہ ہے اور کہا کہ چین نے ہماری مدد کی۔ وہ پاکستان کی مدد کے لیے اس وقت آیا جب ان کا ملک انتہائی مشکل میں گھرا ہوا تھا اور اس مدد کی وجہ سے پاکستان چینی حکومت کے انتہائی مشکور و ممنون ہیں۔ لہٰذا وہ اس معاملے پر خاموش رہیں گے۔

یہ منافقت نہیں تو کیا ہے۔ ایک طرف آپ پوری دنیا کے مسلمانوں کے نجات دہندہ بننا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ایسی بچکانہ باتیں کرتے ہیں۔ کیا آپ اس لیے خاموش ہیں اور چشم پوشی سے کام لے رہے کہ چین نے ‘‘چین پاکستان اقتصادی راہداری’’ کے نام پر پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم اور پاکستان کی دیگر سیاسی قیادتوں کو سنکیانگ کے ایغوروں پر ڈھائے جانے والے مظالم اس لیے دکھائی نہیں دیتے کہ چین کے پاکستان میں پروجیکٹوں کو انہوں نے رزق کا واحد ذریعہ سمجھ لیا ہے۔

انفرادی سطح پر ہر شخص کو اور اجتماعی سطح پر ملک کو کردار کا کھرا ہونا چاہئے۔ اس میں کوئی کھوٹ نہیں ہونا چاہئے۔ جو بات کہے اس پر سختی سے قائم رہے۔ اس میں منافقت نہیں ہونی چاہیے۔ ایک جیسے معاملات پر دو قسم کے موقف یا دو قسم کے خیالات نہیں ہونے چاہئیں۔ ورنہ اس کا وقار جاتا رہے گا اور اس پر سے لوگوں کا اعتبار اٹھ جائے گا۔ عالمی برادری میں پاکستان کی آج جو حالت اور حیثیت رہ گئی ہے اس کی واحد وجہ بھی غالباً یہی منافقت ہے۔

پاکستان اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ اگر وہ مسلمانوں کے چمپئن بننا چاہتے ہیں تو اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی کریں، حق بات کہیں اور دنیا میں جہاں کہیں بھی، خواہ چین میں ہی کیوں نہ ہو، اگر مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہو تو اس کے خلاف آواز بلند کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ