پاکستان میں فوج کی بالادستی
پاکستان اس وقت بدترین سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ سول اور فوجی قیادت کے درمیان طاقت کے عدم توازن نے اس صورت حال کو اور بھی نازک بنا دیا ہے۔ وہاں کے سیاسی ماحول میں جمہوری آوازوں کے لیے پہلے ہی گنجائش کم تھی کہ اب اور بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک با رکہا تھا کہ پاکستان میں اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ ہے۔ مگر اب ایک اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ معاملہ اب اس سے بھی آگے جا چکا ہے۔ اب اسٹیٹ کے اوپر اسٹیٹ کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ گزشتہ دنوں اپوزیشن جماعتوں کی ایک کانفرنس سے لندن سے نواز شریف کے ورچوئل خطاب کے بعد فوجی قیادت مزید سرگرم ہو گئی ہے۔ جس وقت مذکورہ کانفرنس ہوئی اسی دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے متعدد سیاسی شخصیات سے ملاقات کی تھی جس کی خبر کانفرنس کے بعد لیک کر دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ خبر ا س لیے لیک کی گئی تاکہ اپوزیشن رہنماؤں کے عوامی اعتبار کو ضرب لگائی جا سکے اور عوام میں یہ پیغام دیا جا سکے کہ اپوزیشن رہنما ایک طرف فوج کے خلاف صف آرائی کرتے ہیں اور دوسری طرف خفیہ طور پر فوجی اہلکاروں سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔ ریلوے کے وزیر شیخ رشید نے جو کہ فوج کے قریبی مانے جاتے ہیں اس حوالے سے حزب اختلاف پر طعنہ زنی بھی کی۔ فوجی قیادت کے سرگرم ہو جانے کی متعدد وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نواز شریف نے یہ کہہ کر ایک طرح سے فوجی قیادت کو للکارا ہے کہ ان کی لڑائی عمران خان سے نہیں بلکہ ان کو لانے والوں سے ہے۔ ظاہر ہے انھیں فوج لے کر آئی ہے۔ 2014 میں جب عمران خان نے شریف حکومت کے خلاف اسلام آباد کا محاصرہ کیا تھا تو ان کی پشت پر فوج ہی تھی۔ اگر چہ وہ محاصرہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا لیکن فوج کا کھیل بند نہیں ہوا۔ بالآخر 2018 کے انتخابات میں فوج عمران خان کو لے ہی آئی لیکن یہ ایک کمزور حکومت ہے اور اسے کسی سہارے کی ضرورت ہے اور وہ سہارا فوج نے فراہم کیا۔ پاکستانی فوج کا کردار قیام پاکستان کے بعد ہی سے سوالوں کے نشانے پر رہا ہے۔ فوج کا کام بیرکوں میں رہنا اور ملکی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے لیکن پاکستانی فوج سیاست میں ملوث ہو گئی اور اسے سیاست کا ایسا چسکا لگا کہ وہ خود کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ نہیں کر پا رہی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ سیاست سے کنارہ کش بھی ہونا نہیں چاہتی۔ وہ انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی حکومتوں پر بھی اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتی ہے اور حکومت کے تمام فیصلوں میں دخیل رہنا چاہتی ہے۔ نواز شریف کو اسی لیے عدلیہ کا سہارا لے کر اقتدار سے ہٹایا گیا کہ وہ حکومت کے فیصلوں میں فوجی مداخلت کے خلاف تھے۔ اب بھی حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف احتساب عدالت کی آڑ میں جو کارروائیاں کی جا رہی ہیں ان کے پس پشت فوج کا ہی ہاتھ ہے۔ ادھر دوسری طرف حکومت کی ذمہ داریاں بھی فوج ہی نبھانا چاہتی ہے۔ عمران خان کی حکومت مکمل طور پر فوج پر منحصر ہو گئی ہے۔ فوجی سہارے نے اسے کچھ استحکام تو دیا ہے لیکن کام کرنے کی سویلین حکومت کی آزادی اور اہلیت چھین بھی لی ہے۔ وہ اہم سیاسی امور میں اپنی موجودگی چاہتی ہے۔ جب آرمی چیف سے اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات کی خبر منظر عام پر آئی تو کہا گیا کہ قومی ایشوز پر بات کرنے کے لیے یہ ملاقات ہوئی تھی۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سویلین حکومت نے اپنی اتھارٹی کھو دی ہے اور فوجی قیادت سیاسی امور میں ملوث ہو گئی ہے۔ فوجی قیادت سیاسی معاملات میں کس قدر دخیل ہے اس کا اندازہ جمعیت علمائے اسلام (ایف) کے رہنما مولانا غفور حیدری کے ایک انٹرویو سے ہو جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ سال آرمی چیف کی دعوت پر انھوں نے ان سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے دوران آرمی چیف نے ان سے کہا تھا کہ وہ آزادی مارچ ختم کر دیں۔ یہ مکمل طور پر ایک سیاسی ایشو تھا جسے سیاسی سطح پر حل کیا جانا چاہیے تھا لیکن اس معاملے میں آرمی چیف ملوث ہو گئے۔ سیاسی مشاہدین کا خیال ہے کہ فوجی قیادت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی بھی اپنی کچھ حدود ہوتی ہیں، وہ نہ تو معیشت کو بہتر کر سکتا ہے اور نہ ہی گورننس کو۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (نون) کے رہنماؤں نے پارٹی صدر شہباز شریف کی گرفتاری پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ ایک کمزور اور نااہل حکومت کی حمایت سے دست بردار ہو جائے۔ ان دنوں آرمی چیف کا ایک بیان گردش کر رہا ہے کہ سیکورٹی فورسز ہر منتخب حکومت کی خدمت کے لیے ہیں لیکن عام خیال یہی ہے کہ سیکورٹی فورسز ہی پی ٹی آئی حکومت چلا رہی ہیں۔ فوج کے اس رول کی وجہ سے ہی اپوزیشن جماعتوں نے ‘‘پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ’’ (پی ڈی ایم) کی تشکیل کی ہے۔ گورننس کی عدم موجودگی اور بڑھتی مہنگائی نے صوبے میں عوامی بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے لیکن بہر حال یہ دیکھنا باقی ہے کہ اپوزیشن اتحاد عوام کو کس قدر نکال کر سڑکوں پر لا سکتا ہے۔ صوبے میں سیاسی درجۂ حرارت بڑھتا جا رہا ہے اور اگر حکومت نے طاقت کا استعمال کیا تو صورت حال دھماکہ خیز ہو سکتی ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اس تحریک کا اثر سیاست میں فوج کی مداخلت پر پڑتا ہے یا حکومت فوجی قیادت کی مدد سے اس عدم اطمینان پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔
Comments
Post a Comment