Posts

شنگھائی تعاون تنظیم میٹنگ سے ہٹ کر ہند-چین مذاکرات

شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ بھارت کی عہد بستگی ثابت کرتی ہے کہ وہ یوروپ اور ایشیا کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کا خواہش مند ہے۔ یہ تنظیم بھارت کے وسطی ایشیا کے ساتھ زمین کے راستے نہ جڑنے کی صورت میں نئی دہلی کو وسط ایشیا کے ملکوں سے جڑنے کے کافی مواقع فراہم کرتی ہے تاکہ ان ملکوں کے ساتھ معیشت اور توانائی کے شعبوں میں پارٹنرشپ کو فروغ دیا جاسکے۔ اس مقصد کے پیش نظر وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ماسکو میں اس تنظیم کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں شرکت کی۔ جناب جے شنکر کا ماسکو کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیاگیا ہے جب تمام دنیا کووڈ انیس وبا کے باعث معاشی اور تجارتی چیلنجوں سے مقابلہ کررہی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کو لداخ میں چین کی حرکتوں کے باعث کشیدگی کا سامنا ہے۔ بھارت پہلی بار اس سال 29 اور 30 نومبر کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ سربراہ کانفرنس کے دوران علاقہ میں سلامتی کے مشترکہ چیلنجوں کا حل تلاش کرنے کے لیے بھارت وسط ایشیا کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ تنظیم بین الاقوامی شمال-جنوب ٹرانسپورٹ راہداری کی پہل کی بھی حمایت کرتی ہے۔ اس طرح...

ہند۔ایران بڑھتے تعلقات

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء دفاع کی میٹنگ میں شرکت کے بعد وطن واپس ہوتے ہوئے تہران میں بھی رکے جہاں انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب بریگیڈیئر جنرل عامر حاتمی سے ملاقات کی اور آپسی تعاون اور علاقہ میں سلامتی کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ دوسری جانب وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کی میٹنگ میں شرکت کرنے کیلئے ماسکو جاتے ہوئے تہران کا دورہ کیا۔ اپنے مختصر سے دورے کے دوران جناب جے شنکر نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے ملاقات کی اور دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے طریقۂ کار پر تبادلۂ خیال کیا۔ میٹنگ کے دوران فریقین نے علاقہ میں رونما ہونے والے واقعات پر بھی بات چیت کی۔ ایک ہفتے کے اندر ہندوستان کے دو کابینی وزرا کے ایران دورےسے امید ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوں گے۔ پچھلی بار ہندوستانی وزیر خارجہ نے ہند-ایران مشترکہ کمیشن کی 19ویں میٹنگ میں شرکت کرنے کیلئے پچھلے سال دسمبر میں تہران کا دورہ کیا تھا جبکہ ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف ’رائے سینا ڈائلاگ‘ میں شرکت کرنے کیلئے اس سال جنوری میں ہن...

ایک ہمالیائی اسکینڈل میں پاکستان کے خانگی معاملات سے چین کا نام جڑا

پاکستان میں بدعنوانی کا ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس سے عمران خان کی حکومت بے حد پریشان ہو اٹھی ہے کیونکہ اس بہت بڑے گھپلے میں پاکستان کے ’’سدا بہار دوست‘‘ چین کا نام بھی بار بار لیا جارہا ہے۔ عمران حکومت کے لئے یہ مصیبت دراصل ایک سابق فوجی جنرل عاصم سلیم باجوا نے کھڑی کی ہے۔ پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا میں جب اس اسکینڈل کا چرچہ ہوا تو عمران حکومت اور طاقتور پاکستانی فوج ایکدم حرکت میں آگئی اور سارا زور اس بات پر لگانا شروع کیا کہ کسی صورت عوام کی توجہ اس سے ہٹانے کے لئے ہندوستان کو بدنام کیا جائے کہ وہ چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری پر حملہ کرنے کے لئے یہ اسکنڈل کھڑا کر رہا ہے۔ اس کا اصل قصہ یہ ہے کہ پاکستان کے ایک ممتاز تفتیشی صحافی احمد نورانی کی آزاد نیوز ویب سائٹ ’’فیکٹ فوکس‘‘ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ عاصم باجوا کی فیملی ایک امریکی بزنس کمپنی پزّا چین، پاپا جون سے جڑی ہے اور لاکھوں ڈالر کا کاروبا سنبھال رہی ہے۔ اس پزّا چین کی واحد سب سے بڑے مالکانہ حق کی حامل یہی فیملی ہے ۔ دراصل گزشتہ سال لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوا کو وزیراعظم عمران خان نے اپنے خصوصی...

اعلیٰ تجزیہ کار افغانستان سے متعلق امریکی سفارت کاری سے پر امید نہیں

فروری میں امریکہ اور طالبان کے مابین سمجھوتہ تو ہوا، لیکن اس سمجھوتے کے تعلق سے شروع ہی سے شکوک و شبہات کا ماحول رہا ہے ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ طالبان کا رویہ کچھ ایسا رہا ہے جس سے یہ بات شروع ہی میں واضح ہو گئی تھی کہ وہ اپنے انتہا پسندانہ نظریہ کو ترک کرنے پر قطعی راضی نہیں ہوں گے۔ چونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا کلیتاً فیصلہ کر لیا تھا کہ انہیں افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانی ہیں لہذا کسی بھی صورت طالبان سے سمجھوتہ ہو جائے تو بہتر ہے ۔ اس سلسلے میں ان کی اولین ترجیح یہ تھی کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کے وقت طالبان یا کسی اور گروہ کی طرف سے انہیں کوئی گزند نہ پہنچے ۔ گذشتہ سال جب بات چیت شروع ہوئی تھی تو کئی راؤنڈ کی گفتگو کے بعد خود صدر ٹرمپ نے اسے منسوخ کر دیا تھا جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ طالبان نے اپنے حملے بند نہیں کئے تھے اور ایسے ہی حملوں میں ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوا تھا۔ بہر حال کچھ روز کے بعد گفتگو دوبارہ شروع ہوئی اور اسی سال فروری کے مہینہ میں سمجھوتہ بھی ہو گیا۔ لیکن اس پلان کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ اندرون افغانستان بھی طالبان اور افغان حکومت نیز دوسر...

پاکستان میں سیویلین عہدوں پر فوجی افسروں کا تقرر باعث تشویش

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں سوِل عہدوں پر فوجی افسروں کا تقرر ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے لیکن ملٹری ڈکٹیٹر شپ کے دوران اس چلن میں کافی اضافہ ہوا۔ ایوب خاں ہوں یا یحییٰ خان، ضیا الحق ہوں یا پرویز مشرف ان تمام فوجی حکمرانوں کے دور میں فوجی افسروں کا تقرر سوِل عہدوں پر ہوتا رہا اور ان عہدوں پر وہی فوجی مقرر کئے جاتے تھے جو فوجی حکمرانوں کے قریب اور من پسند ہوتے تھے تاکہ اقتدار میں بنے رہنے کے لئے وہ ان کی مدد کرسکیں۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں لیفٹننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خاں کو وزیر خارجہ بنایا گیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ فوج کا شہری انتظامیہ میں کتنا عمل دخل تھا۔ اس زمانے میں تقریباً ایک درجن فوجی افسروں کی سفارتی عہدوں پر بھی تقرری کی گئی تھی۔ لیکن حالیہ دنوں میں برسرکار اور سبکدوش فوجی افسروں کی سول عہدوں پر تقرری میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ان تقرریوں میں سب سے اہم اور قابل ذکر تقرری ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی ہے۔ جنوبی کمان کے کور کمانڈر کی حیثیت سے سبکدوش ہونے کے ایک دن بعد ہی لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوہ کو چین۔ پاکستان معاشی راہداری اتھارٹی کا چیئرمین مقرر ک...

گلوان میں چینی فوجیوں کی ہلاکت کے ثبوت

جب دو ملکوں کے سرحدی علاقوں میں کوئی ٹکراؤ یا جھڑپ ہوتی ہے تو قدرتی طور پر دونوں طرف سپاہیوں کی جانوں کا زیاں بھی ہوتا ہے اور کچھ لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی بات ہوتی ہے۔ چین اور ہندوستان ایشیا کے دو بڑے ملک ہیں اور تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ دونوں پڑوسی ملک ہیں۔ ہندوستان اور چین کے تعلقات گزشتہ صدی کی 60 کی دہائی میں بہت خراب تھے اور ایک لمبے عرصے تک یہ دونوں پڑوسی ایک دوسرے سے کافی دور رہے ہیں۔ لیکن بہر حال دونوں ملکوں کی قیادت نے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ہندوستان چونکہ اس بات کا ہمیشہ سے قائل رہا ہے کہ دوست تو بدلے بھی جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدلے جاسکتے ۔ اسی لئے وہ تمام پڑوسیوں سے کھلے دل سے بہتر تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں رہا ہے۔ چین سے ہر چند کہ کچھ سرحدی تنازعات موجود ہیں پھر بھی ان تنازعات کی بنیاد پر آپسی تعاون اور اشتراک کے اقدام میں رکاوٹ ڈالنا اور بہتر تعلقات کے سارے دروازے بند کرنا دانشمندی کی بات نہیں ہوتی۔ اسی خیال سے ہندوستان نے تجارت اور دوسرے شعبوں میں تعاو ن کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ حالیہ برسوں میں یہ کوش...

موضوع: دفاعی سازومان کی تیاری میں خودانحصاری

وزیراعظم نریندرمودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ " ڈیفنس مینوفیکچرنگ میں آتم نربھر بھارت" کے موضوع پر ایک سیمنار سے خطاب کیا۔ اس ورچوول سیمینار کااہتمام مشترکہ طور پر سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررس، فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور وزارت دفاع نے کیا تھا۔ دفاعی سازوسامان کی مینوفیکچرنگ میں خودانحصار بننے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقصد دفاعی سازوسامان کی تیاری کو فروغ دینا اورنئی ٹیکنالوجی کو ترقی دینا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ دفاع کے شعبہ میں نجی کمپنیوں کو اہم رول دینا بھی ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دفاعی سازوسامان کی تیاری میں خودانحصاری حاصل کرنے کی رفتار میں جلد ہی تیزی آئے گی۔ جناب مودی نے کہا کہ جب ملک کو آزادی ملی تو اس وقت اس کے پاس دفاعی سازوسامان کی تیاری کیلئے کافی صلاحیت تھی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی دہائیوں تک اس جانب توجہ نہیں دی گئی لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور دفاعی شعبہ میں اصلاحات کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انھوں نے اس سلسلہ میں کئے گئے متعدد ...