ایک ہمالیائی اسکینڈل میں پاکستان کے خانگی معاملات سے چین کا نام جڑا

پاکستان میں بدعنوانی کا ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس سے عمران خان کی حکومت بے حد پریشان ہو اٹھی ہے کیونکہ اس بہت بڑے گھپلے میں پاکستان کے ’’سدا بہار دوست‘‘ چین کا نام بھی بار بار لیا جارہا ہے۔ عمران حکومت کے لئے یہ مصیبت دراصل ایک سابق فوجی جنرل عاصم سلیم باجوا نے کھڑی کی ہے۔ پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا میں جب اس اسکینڈل کا چرچہ ہوا تو عمران حکومت اور طاقتور پاکستانی فوج ایکدم حرکت میں آگئی اور سارا زور اس بات پر لگانا شروع کیا کہ کسی صورت عوام کی توجہ اس سے ہٹانے کے لئے ہندوستان کو بدنام کیا جائے کہ وہ چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری پر حملہ کرنے کے لئے یہ اسکنڈل کھڑا کر رہا ہے۔ اس کا اصل قصہ یہ ہے کہ پاکستان کے ایک ممتاز تفتیشی صحافی احمد نورانی کی آزاد نیوز ویب سائٹ ’’فیکٹ فوکس‘‘ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ عاصم باجوا کی فیملی ایک امریکی بزنس کمپنی پزّا چین، پاپا جون سے جڑی ہے اور لاکھوں ڈالر کا کاروبا سنبھال رہی ہے۔ اس پزّا چین کی واحد سب سے بڑے مالکانہ حق کی حامل یہی فیملی ہے ۔ دراصل گزشتہ سال لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوا کو وزیراعظم عمران خان نے اپنے خصوصی معاون برائے اطلاعات کے طور پر بحال کیا تھا جبکہ وہ چائنا۔ پاکستان ایکونومک کاریڈور اتھارٹی کے چیئرمین کی ذمہ داریاں بھی سنبھال رہے ہیں۔ بہرحال جب انہوں نے وزیراعظم کو اپنی املاک اور اثاثہ کی تفصیلات پیش کیں تو انہوں نے اس حقیقت کو ظاہر نہیں کیا کہ ان کی بیوی کی مذکورہ امریکی بزنس کمپنی میں کیا حصہ داری ہے! ظاہر ہے کہ یہ کوئی معمولی گھپلہ نہیں تھا۔ بدعنوانی کے خلاف عمران خان بڑے واشگاف انداز سے آواز اٹھاتے رہے ہیں اور اپوزیشن کے متعدد لیڈروں کو جیل بھی بھجواتے رہے ہیں تو جب ان کی حکومت کا اتنا بڑا گھپلہ سامنے آئے گا تو آواز تو اٹھے گی ہی! سو جب میڈیا میں چرچہ ہوا اور ہر طرف اس اسکینڈل کی گونج سنائی دینے لگی تو ایک طرف حکومت جنرل عاصم باجوا کے بچاؤ میں آئی اور دوسری طرف فوج بھی اس خبر کو غلط ثابت کرنے کے لئے زمین آسمان ایک کرنے لگی۔ خود سابق لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوا نے جو کبھی پاکستانی فوج کے ترجمان بھی تھے، یہ کہنا شروع کیا کہ ایک گمنام سی ویب سائٹ نے میرے اور میرے خاندان کے خلاف ایک جھوٹی اور شرارت آمیز مہم چھیڑ رکھی ہے۔ عمران خان حکمران پاکستان تحریک انصاف پارٹی نے، سوشل میڈیا پر گشت کررہے ان الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لئے یہ کہنا شروع کیا کہ مخالف سوشل میڈیا کا بیرون پاکستان بیٹھا ہوا ایک گروپ، ہندوستانی پروپیگنڈا کو آگے بڑھانے کے لئے چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری اتھارٹی پر حملہ کررہا ہے۔ حکمراں پارٹی نے ان الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لئے ایک سوشل میڈیا مہم بھی شروع کررکھی ہے اور اس مہم کو ’’چین۔ پاکستان راہداری پر ہندوستان کا درپردہ حملہ‘‘ کا نام دیا ہے۔

واشنگٹن میں واقع ولسن سینٹر کے جنوبی ایشیا ایسوسی ایٹ میخائل کوگلمین کا کہنا ہے کہ چین اور پاکستان دونوں کی اصل فکر یہ ہے کہ کس طرح عوام کی نظروں سے اس گھپلے کی تفصیلات کو دور رکھا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان میں اس کا ذکر زور پکڑتا ہے تو یہ الزامات دوونوں ملکوں کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں تو حکومت اور فوج کی کوششوں کی وجہ سے میڈیا میں بلیک آؤٹ کا ماحول بنایا گیا، لیکن یہ خاموشی بھی اس وقت ٹوٹ گئی جب سابق وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز نے حکومت پر دوہرا معیار اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق فیکٹ فوکس ویب سائٹ کے انکشاف کو تو چین۔پاکستان اقتصادی راہداری پر حملہ قرار دے دیا گیا کیونکہ اس سے باجوا کی دولت کا بھانڈا پھوٹا لیکن اسی اقتصادی راہداری کے پروجیکٹ کے بانی نواز شریف جب اس پروجیکٹ کے لئے چین سے 60 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان لائے تو انہیں اس الزام میں وزارت عظمی سے استعفی دینا پڑا کہ انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ انہیں متحدہ عرب امارات کے ایک فیملی بزنس سے تنخواہ ملتی ہے۔ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت جانا پڑا تھا۔ ظاہر ہے کہ مریم نواز کی، دوہرے معیار کی اس دلیل میں دم ہے اور اسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ بہرحال عاصم باجوا نے یہ کہا ہے کہ وہ عمران خان کےخصوصی معاون کی حیثیت سے تو استعفی دے دیں گے لیکن سی پی ای ایل اتھارٹی کے چیئرمین کے عہدے پر قائم رہیں گے لیکن مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کی کابینہ سے محض اس لئے استعفی دینا چاہتے ہیں کہ جب تک وہ اس عہدے پر رہیں گے، فیملی بزنس کاآسیب ان کا پیچھا کرتا رہے گا۔ بہرحال عمران خان نے ابھی ان کا استعفی منظور نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ باجوا کے فیملی بزنس سے واقف ہیں اور اس سے مطمئن بھی ہیں۔ میڈیا میں حکومت کے دباؤ کے تحت خبروں کو لاکھ دبانے کی کوشش کی جائے لیکن اس زمانے میں تمام باتوں کو جھٹلانا اتنا بھی آسان نہیں ہوگا۔ سب کو معلوم ہے کہ اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان بدعنوانی کا الزام نواز شریف سمیت تمام اپوزیشن لیڈروں پر لگاتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ چین۔پاکستانی راہداری پروجیکٹ کی بھی انہوں نے زبردست تنقید کی تھی اور اب اتنے بڑے گھپلے میں وہ جس انداز سے جنرل باجوا کا بچاؤ کررہے ہیں، وہ ان کی ’’ایماندارانہ‘‘ سیاست پر سوال ضروری کھڑے کررہاہے۔ پاکستان میں فوج پرست اور ہندوستان دشمن لابی تو حکومت اور فوج کی اس منطق کو مان سکتی ہے کہ ہندوستان، راہداری کے پروجیکٹ پر حملہ کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے لیکن پاکستان کا ہر کوئی اس منطق کو نہیں مان رہا ہے۔ پاکستان کے لوگ اس حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ پاکستان اب پورے طور پر چین پر ہی بھروسہ کرسکتا ہے کیونکہ اس کے سارے اتحادی یکے بعد دیگرے اس کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ حالیہ مثال سعودی عرب کی ہے جس نے عمران کو اقتصادی بحران سے بچانے کےلئے ایک خطیر رقم پاکستان کو بطور قرض دی تھی لیکن پاکستان نے کشمیر کے معاملے میں سعودی عرب کو ایک نیا اسلامی بلاک قائم کرنے کی دھمکی دے کر اتنا ناراض کر دیا کہ اس نے جلد از جلد قرض واپس کرنے کامطالبہ تک کردیا ۔ پاکستان نے چین سے ایک ارب ڈالر کی رقم لے کر سعودی عرب کو واپس بھی کردی۔ لیکن اس ہاتھ لو اور اس ہاتھ دو کے اصول کے تحت پاکستان نے چین کے ہر قابل اعتراض قدم کی حمایت کرنے کا بھی عہد کرلیا ہے۔ مثلاً صوبۂ شن جیانگ میں ایغور مسلم باشندوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے یا تائیوان، تبت اور ہانگ کانگ میں چین جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے، اس میں بھی پاکستان، چین کی ہاں میں ہا ملاتا ہوا نظر آرہا ہے لیکن یہ سب کچھ کرنے کے باوجود میخائل کوگلمین کے مطابق اس مرحلے میں سی پی ای سی اتھارٹی کے چیئرمین باجوا کے خلاف سامنے آنے والا یہ گھپلہ، جغرافیائی اور سیاسی اعتبار سے چین اور پاکستان کے تعلقات میں ایک رکاوٹ پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اقتصادی راہداری کا یہ پروجیکٹ چین کے وسیع تر ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ پیش رفت کا حصہ ہے اور چین اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ