پاکستان میں سیویلین عہدوں پر فوجی افسروں کا تقرر باعث تشویش

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں سوِل عہدوں پر فوجی افسروں کا تقرر ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے لیکن ملٹری ڈکٹیٹر شپ کے دوران اس چلن میں کافی اضافہ ہوا۔ ایوب خاں ہوں یا یحییٰ خان، ضیا الحق ہوں یا پرویز مشرف ان تمام فوجی حکمرانوں کے دور میں فوجی افسروں کا تقرر سوِل عہدوں پر ہوتا رہا اور ان عہدوں پر وہی فوجی مقرر کئے جاتے تھے جو فوجی حکمرانوں کے قریب اور من پسند ہوتے تھے تاکہ اقتدار میں بنے رہنے کے لئے وہ ان کی مدد کرسکیں۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں لیفٹننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خاں کو وزیر خارجہ بنایا گیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ فوج کا شہری انتظامیہ میں کتنا عمل دخل تھا۔ اس زمانے میں تقریباً ایک درجن فوجی افسروں کی سفارتی عہدوں پر بھی تقرری کی گئی تھی۔

لیکن حالیہ دنوں میں برسرکار اور سبکدوش فوجی افسروں کی سول عہدوں پر تقرری میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ان تقرریوں میں سب سے اہم اور قابل ذکر تقرری ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی ہے۔ جنوبی کمان کے کور کمانڈر کی حیثیت سے سبکدوش ہونے کے ایک دن بعد ہی لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوہ کو چین۔ پاکستان معاشی راہداری اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کردیا گیا۔ چند ہفتوں بعد انہیں وزیراعظم کا خصوصی مشیر برائے اطلاعات و نشریات بھی بنادیا گیا جو ایک سیاسی عہدہ ہے۔ ایسا کرنے میں اصول و ضوابط کا قطعی دھیان نہیں رکھا گیا۔ جنرل باجوہ ایک وقت میں دونوں عہدوں پر بنے رہے۔ تازہ خبروں کے مطابق انہوں نےاب وزیراعظم کے مشیر کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے تاہم عمران خان نے یہ کہہ کر استعفی منظور کرنے سے انکار کردیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات صحیح نہیں ہیں اور انہیں اپنا عہدہ چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

عاصم باجوہ جب انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائرکٹر جنرل تھے تو انہوں نے اپنی مدت کار کے دوران اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی حد سے زیادہ چاپلوسی کی تھی۔ ان کی تعریف کرتے ہوئے عاصم باجوہ کی زبان تھکتی نہیں تھی لیکن جب جنرل راحیل شریف ملازمت سے سبکدوش ہوگئے تو لیفٹننٹ عاصم باجوہ کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوگیا۔

سی پی ای سی کےعلاوہ بھی کچھ ایسے سول ادارے ہیں جہاں فوجیوں کو تعینات کردیا گیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ و سول ادارے جن کی سربراہی برسرکار جنرل کررہے ہیں اور جہاں پر سبکدوش فوجی افسران مقرر کئے گئے ہیں، ان میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی، واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے نام شامل ہیں۔

اب اس پر بحث کرنا فضول ہے کہ سول عہدوں پر فوجی افسران کی تقرری کے چلن کے ذمہ دار فوجی ڈکٹیٹر ہیں یا مجبور و معذور شہری انتظامیہ۔ فوج نے سویلین کاڈر کی جگہوں پر بھی قبضہ جمانے کی پوری کوشش کی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال ہے ملٹری لینڈس اینڈ کینٹونمنٹ محکمہ کے سربراہ کا۔ اس محکمہ کا کام ہے یہ دیکھنا کہ دفاعی افواج سرکاری زمینوں کا استعمال کس انداز سے کررہی ہیں۔ یہ محکمہ مسلح افواج کے زیر استعمال سرکاری زمینوں کے کسٹوڈین کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ اصول و ضوابط کے مطابق ان زمینوں کا استعمال کرنے والا اس کا کسٹوڈین نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ اس شعبہ کو جنرل ہیڈ کوارٹر کی بجائے سویلین منسٹری آف ڈیفنس کے تحت رکھا گیا تھا۔

جنرل پرویز مشرف نے 1999 میں جب اقتدار پر قبضہ کیا تو اس کے چند روز بعد ہی انہوں نے بغیر کوئی وجہ بتائے شعبہ کے سویلین ڈائرکٹر جنرل کو ہٹاکر ان کی جگہ ایک میجر جنرل کو بٹھا دیا۔ یہ صرف ایک بار کی بات نہیں ہے بلکہ تب سے لیکر اب تک ایک فوجی افسر کا ہی تقرر ہوتا رہا ہے۔ اس چلن کے خلاف کاڈر کے افسروں کے احتجاجات، سپریم کورٹ کے فیصلوں اور پارلیمنٹ میں اٹھنے والی آواز تک کا فوج پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ 2013 میں وزیراعظم نواز شریف نے دو سال کے لئے اس عہدے پر ایک فوجی افسر کے تقرر کی اجازت دے دی اور کہا کہ اس کے بعد اس عہدے پر ایک سویلین کا ہی تقرر کیا جائے گا۔ لیکن ان کے اس حکم کو بے اثر بنانے کے لئے وزارت دفاع نے وزیراعظم کے لئے ایک نوٹ تیار کیا اور ان سے تقرر سے متعلق اصول و ضوابط میں ترمیم کرنے کی درخواست کی تاکہ ایک فوجی افسر کی اس عہدے پر مستقل طور پر تقرری ہوسکے اور سویلین کاڈر کا کوئی عمل دخل نہ رہے۔ اس کے بعد سینیٹ کی دفاع سے متعلق کمیٹی نے اس نوٹ کی ایک نقل طلب کی تاکہ وہ اس بات کا جائزہ لے سکے کہ آیا تمام ضروری حقائق وزیراعظم کی نوٹس میں لائے گئے ہیں یا نہیں۔ اس نوٹ کا جب جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس نوٹ کو کسی شخص نے وزیراعظم تک پہنچایا اور اسے تیار کرتے وقت دوسرے ڈویژنوں سے بھی صلاح و مشورہ نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے اس موضوع پر پہلے کیا حکم دیا تھا۔ اس نوٹ کے بارے میں ابھی تک یہ پہیلی بنی ہوئی ہے کہ اسے کس کے کہنے پر تیار کیا گیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ جب سے سویلین افسروں کو ایک طرف کرکے فوجی افسروں نے اس شعبہ پر قبضہ جمالیا ہے تب سے سرکاری زمینیں اس مقصد کے لئے استعمال نہیں ہورہی ہیں جس کے لئے انہیں فوج کو دیا گیا تھا۔ اب ان زمینوں کو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ صورتحال کافی تشویشناک ہے۔ شہری انتظامیہ میں فوج کے بڑھتے عمل دخل کو روکا نہیں گیا تو پاکستان کے لئے نتائج کافی سنگین ہوں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ