ہند۔ایران بڑھتے تعلقات


وزیر دفاع راجناتھ سنگھ ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء دفاع کی میٹنگ میں شرکت کے بعد وطن واپس ہوتے ہوئے تہران میں بھی رکے جہاں انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب بریگیڈیئر جنرل عامر حاتمی سے ملاقات کی اور آپسی تعاون اور علاقہ میں سلامتی کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ دوسری جانب وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کی میٹنگ میں شرکت کرنے کیلئے ماسکو جاتے ہوئے تہران کا دورہ کیا۔ اپنے مختصر سے دورے کے دوران جناب جے شنکر نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے ملاقات کی اور دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے طریقۂ کار پر تبادلۂ خیال کیا۔ میٹنگ کے دوران فریقین نے علاقہ میں رونما ہونے والے واقعات پر بھی بات چیت کی۔ ایک ہفتے کے اندر ہندوستان کے دو کابینی وزرا کے ایران دورےسے امید ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوں گے۔

پچھلی بار ہندوستانی وزیر خارجہ نے ہند-ایران مشترکہ کمیشن کی 19ویں میٹنگ میں شرکت کرنے کیلئے پچھلے سال دسمبر میں تہران کا دورہ کیا تھا جبکہ ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف ’رائے سینا ڈائلاگ‘ میں شرکت کرنے کیلئے اس سال جنوری میں ہندوستان آئے تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کووڈ-19 وبا کے باعث غیر ملکی دوروں پر پابندیاں عائد ہونے کے بعد جناب جے شنکر کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ اس دورے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان ایران کو کتنی اہمیت دیتا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ نے ایران کا جینا محال کردیا ہے اور ایران پر اتنی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں کہ اس کا دوسرے ملکوں کے ساتھ سیاسی اور معاشی تعلقات برقرار رکھنا مشکل ہورہا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے دورے ایسے وقت میں بھی ہوئے جب بیجنگ اور تہران طویل مدت کیلئےاپنے دو طرفہ تعلقات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔خبر ہے کہ چین اور ایران بیجنگ کی بیلٹ اینڈ روڈ پہل کے تحت دو طرفہ اسٹریٹیجک تعاون کے بارے میں ایک 25 سالہ معاہدہ کرنے والے ہیں۔ اس معاہدے کے بعد چین ایران میں زبردست سرمایہ کاری کرے گا۔

یہ بھی اتفاق کی بات ہے کہ ہندوستانی وزراء کے ایران دورے ایسے وقت میں ہوئے جب افغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت ہونے والی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے ایرانی ہم منصب کےساتھ ملاقات کے دوران اس موضوع پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی ایران کے خلاف اسلحوں کی پابندیوں میں توسیع کرنے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد یہ دورے کئے گئے۔ یہ پابندیاں آئندہ ماہ ختم ہورہی ہیں۔

ہندوستان اور ایران کے درمیان رشتے صدیوں پرانے ہیں جنہیں حالیہ برسوں میں کافی پروان چڑھایا گیا۔دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کے باعث ہی چابہار بندرگاہ اور چابہار-زاہدان ریلوے لائن جیسے پروجیکٹ شروع کئے گئے ۔ دونوں ممالک چابہار بندرگاہ کو اس وقت زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ابھی پچھلے مہینے ہی ایران کے نائب وزیر ریلویز سعید رسول نے چابہار -زاہدان ریلوے لائن پروجیکٹ پر دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا جائزہ لینے کیلئے تہران میں ہندوستان کے سفیر کو مدعو کیا تھا۔

اگرچہ امریکہ کی ایران پر معاشی پابندیوں کے باعث تہران اور نئی دہلی کے درمیان تجارتی تعلقات بری طرح متاثر ہوئے ہیں،تاہم ان پابندیوں کے باوجود دونوں ممالک اپنے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کےلئے پابند عہد ہیں۔ ہندوستان کے لئے ایران ایک اہم ملک ہے جس کے ساتھ تجارت کرنے کی کافی گنجائش ہے۔ یہ اسٹریٹیجک طورپر بھی ہندوستان کیلئے کافی اہم ہے کیونکہ اس کے بغیر ہندوستان کا افغانستان اور وسطی ایشیا تک پہنچنا بہت ہی مشکل ہے۔ اسی طرح ایرانی مصنوعات کیلئے ہندوستان ایک بڑا بازار ہے۔ ان کے علاوہ کچا تیل حاصل کرنے کیلئے بھی ایران ایک اہم ملک ہے۔

مشرقی وسطیٰ کی موجودہ جغرافیائی اور سیاسی صورتحال نیز امریکہ، روس اور چین کے درمیان علاقہ پر زیادہ اثر رکھنے کی رسا کشی کے باعث ایران کے باہری دنیا کے ساتھ تعلقات پر منفی اثر پڑا ہے۔ کووڈ -19 جیسی عالمی وبا نے بھی اسے بری طرح متاثر کیا ہے۔

کورونا وائرس سے متعلق پابندیوں میں چھوٹ کے فوراً بعد ہندوستان کے دو سینئر وزراء کا تہران دورہ ثابت کرتا ہے کہ ہندوستان ایران کو کافی اہمیت دیتاہے ۔ امید ہے کہ ان دوروں سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ