اعلیٰ تجزیہ کار افغانستان سے متعلق امریکی سفارت کاری سے پر امید نہیں
فروری میں امریکہ اور طالبان کے مابین سمجھوتہ تو ہوا، لیکن اس سمجھوتے کے تعلق سے شروع ہی سے شکوک و شبہات کا ماحول رہا ہے ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ طالبان کا رویہ کچھ ایسا رہا ہے جس سے یہ بات شروع ہی میں واضح ہو گئی تھی کہ وہ اپنے انتہا پسندانہ نظریہ کو ترک کرنے پر قطعی راضی نہیں ہوں گے۔ چونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا کلیتاً فیصلہ کر لیا تھا کہ انہیں افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانی ہیں لہذا کسی بھی صورت طالبان سے سمجھوتہ ہو جائے تو بہتر ہے ۔ اس سلسلے میں ان کی اولین ترجیح یہ تھی کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کے وقت طالبان یا کسی اور گروہ کی طرف سے انہیں کوئی گزند نہ پہنچے ۔ گذشتہ سال جب بات چیت شروع ہوئی تھی تو کئی راؤنڈ کی گفتگو کے بعد خود صدر ٹرمپ نے اسے منسوخ کر دیا تھا جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ طالبان نے اپنے حملے بند نہیں کئے تھے اور ایسے ہی حملوں میں ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوا تھا۔ بہر حال کچھ روز کے بعد گفتگو دوبارہ شروع ہوئی اور اسی سال فروری کے مہینہ میں سمجھوتہ بھی ہو گیا۔ لیکن اس پلان کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ اندرون افغانستان بھی طالبان اور افغان حکومت نیز دوسرے حلقوں کے ساتھ افغانستان میں قیام امن کے تعلق سے بات چیت ہوگی۔ امریکی فوجوں کی واپسی تو عنقریب ہو سکتی ہے اس کے اشارے مل رہے ہیں۔ ویسے بھی نومبر میں صدارتی انتخاب ہونے والا ہے اور سچ پوچھئے تو طالبان سے بات چیت کا عمل یا جو سمجھوتہ ہوا اس کے پیچھے بھی امریکی انتخابات کو ایک اہم سبب سمجھا جاتاہے ۔ لیکن اندرون افغانستان ،قیام امن کے لئے جس بات چیت کا چرچہ تھا اس سلسلے میں نہ صرف کنفیوژن کا ماحول ہے بلکہ بڑی حد تک مایوسی چھائی ہوئی ہے ۔ خود امریکی اور مغربی تجزیہ کار بھی اس بات پر شک ظاہر کر رہے ہیں کہ طالبان کے حوالے سے امریکہ نے جو سفارتی راہ اپنائی ہے وہ کامیابی سے ہم کنار ہوگی۔ مثلاً تجزیہ کار میخائیل روبن کا خیال ہے کہ امریکی پالیسی ساز یہ سمجھتے ہیں کہ اگر معقول فنڈ فراہم کئے جائیں اور پوری توجہ دی جائے تو سفارت کاری ایک تیر بہ ہدف نسخہ ثابت ہوتی ہے ۔ ممکن ہے کہ بہت سے معاملات میں انہیں اسی طور پر کامیابی ملی ہو لیکن طالبان کے حوالے سے یہ نسخہ کار گر ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بات محسوس کر کے کہ امریکہ کا افغان مشن بہت طویل ہو گیا اور اندرون امریکہ میں لوگوں کا صبراب نا قابل بر داشت ہو رہا ہے لہذا انہوں نے طالبان سے مذاکرات پر اتنا زور دیا کہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو پیش رفت کرنی پڑی اور زلمے خلیل زاد کو اس کام کے لئے خصوصی امریکی نمائندہ کے طور پر بحال کرنا پڑا۔ خلیل زاد بش کے زمانے میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر تھے۔وہ طالبان کے سابق بزنس پارٹنر بھی تھے ۔ تجزیہ کار میخائیل روبن نے اس معاملے میں خلیل زاد کے سفارت کارانہ رول پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بات واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی کہ امریکی وزار ت خارجہ افغانستان کی منتخب حکومت کے مقابلے طالبان پر زیادہ بھروسہ کر رہی تھی۔ خلیل زاد پر دے کے پیچھے سے یہ تاثر دے رہے تھے کہ طالبان اب قوم پرستی کی طرف مائل ہیں اور اب ان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے لیکن ان کا یہ دعویٰ تشنہ ثبوت رہا ۔ میخائیل روبن کا کہنا ہے کہ طالبان سے امن سمجھوتہ کرنے کے لئے امریکہ نے لاکھوں ڈالر خرچ کئے اپنے اس مشن کے سلسلے میں خلیل زاد نے جتنے دورے کئے اتنے دورے تو خود امریکی وزیر خارجہ نے بھی نہیں کئے ہوں گے۔
ایسا نہیں ہے کہ طالبان سے بات چیت کرنے کا یہ کوئی پہلا تجربہ ہے ، جس زمانے میں نجیب اللہ کی کمیونسٹ حکومت گر گئی تو اقوام متحدہ نے ثالث کا رول ادا کرنا چاہا۔اس وقت طالبان نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بات چیت کے ذریعہ معاملات کو سلجھایا جائے اور یہ کہ طاقت کے زور پر وہ کابل پر قبضہ نہیں کریں گے لیکن ابھی بات چیت چل رہی تھی کہ طالبان نے کابل میں سب کچھ الٹ پلٹ کر رکھ دیا ، اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ کو تباہ و برباد کیا اور سابق حکمراں کو مار کر لٹکا دیا۔
جو سفارت کار یا تجزیہ کار یہ سوچ رہے ہیں کہ کولمبیا میں ریولوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا یعنی ایف اے آرسی سے سفارت کاری اور طویل مذاکرات کے ذریعہ سمجھوتہ ہو گیا تھا اسی طرح طالبان سے بات چیت کے ذریعہ افغانستان کا معاملہ بھی سلجھایا جا سکتا ہے ، لیکن وہ ایک بات بھول جاتے ہیں کہ طالبان اور ایف اےآرسی میں کچھ باتیں تو ایک جیسی ہیں یعنی ان دونوں کا تشدد پر یقین تھا اور یہ دونوں گروپ منشیات کی ناجائز اسمگلنگ اور جرائم سے جڑے رہے ہیں لیکن ایک بنیادی فرق بھی دونوں میں نمایاں رہا ہے۔ایف اے آر سی اپنے کمیونسٹ نظریہ کو بتدریج ترک کر تا گیا اور سیاسی طاقت کو وہ آئیڈیا لوجی یا فلسفہ پر ترجیح دینے لگا۔ اسی لئے کولمبیا میں سمجھوتہ ممکن ہو سکا۔ لیکن طالبان کے معاملے میں یہ بات سب کو معلوم ہے کہ وہ سب کچھ ترک کر سکتے ہیں لیکن اپنا اسلامی انتہا پسندانہ نظریہ ترک نہیں کر سکتے۔ ان کے نزدیک افغان قوم پرستی، پاکستان کی خوشنودی حاصل کرنے کے مقابلے کمتر درجہ کی چیز ہے ۔اگر ویت نام کی مثال کو سامنے رکھا جائے تو بھی یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔مثلاً ہوچی منھ قوم پرستانہ خیالات کو کمیونلزم پر ترجیح دیتے تھے لیکن طالبان کے نزدیک افغان قوم پرستی یا افغانستان کا مفاد کوئی اہم بات نہیں ہے بلکہ ان کا انتہا پسندانہ نظریہ ہی ان کے لئے سب کچھ ہے ۔
میخائیل روبن کے مطابق طالبان کسی بھی حال میں اپنے نظریہ پر سمجھوتہ کرتے نظر نہیں آتے۔ وہ اسلامی امارت قائم کرنے کے حق میں اب بھی ہیں۔ وہ ایک تکثیریت پسند سماج کو قطعی پسند نہیں کرتے ۔ ہو سکتا ہے کہ امریکہ اب بھی یہ سمجھ رہا ہو کہ ڈپلو میسی ہر حال میں کامیاب ہو گی لیکن اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کچھ گروپ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنا نظریہ کسی حال میں نہیں چھوڑتے۔ بہر حال ان کی ایک تجویز یہ ہے کہ اگر امریکہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ سفارت کاری کار آمد نہیں ثابت ہوئی تو وہ اس بات پر غور کرے کہ اب کیا کیا جانا چاہئے ۔ اور اس صورت میں امریکہ اور علاقائی ممالک افغان حکومت کو کیا پیش کر سکتے ہیں۔جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ طالبان کا غلبہ نہ ہونے پائے ۔ اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ پاکستان پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے اور نہ صرف اندرون افغانستان ، طالبان کی کمین گاہوں پر حملے کئے جائیں بلکہ پاکستان میں واقع ان کی محفوظ پناہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایا جائے۔ یا پھر دوسری صورت میں افغان حکومت کو نئی ٹکنا لوجی اور پلیٹ فارم مہیا کرائے جائیں تاکہ وہ طالبان سے خود نمٹ سکے اور وہ جہاں کہیں بھی ہوں ان کا تعاقب کر سکے ۔ اسے پلان بی کا نام دیا جا سکتاہے ۔
Comments
Post a Comment