Posts

پاکستانی اقلیتوں کا درد

حال ہی میں پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ایک ہندومندر کی تعمیر کاکام شروع ہوا تھا جو انتہاپسند حلقوں کے دباؤ کے باعث روک دیا گیا۔ اس پر پاکستان میں اقلیتوں کے مستقبل، ان کی موجودہ صورتحال اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں وہاں کے اخبارات اور میڈیا میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ پاکستان میں ایک انصاف پسند اور سیکولر حلقہ ایسا بھی ہے جو ہر طرح کے دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اقلیتوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھاتا ہے اور خطرات مول لے کر اپنے دل کی بات کہتا ہے۔ بیورو کریٹس جو سرکاری مشینری کا حصہ ہوتے ہیں، وہ دوران ملازمت تو حکومت کے فیصلوں کو ہی رو بہ عمل لانے کا کام انجام دیتے ہیں کیونکہ وہ ان کی مجبوری بھی ہوتی ہے لیکن کچھ ایماندار اور انصاف پسند افسران ایسے بھی ہوتے ہیں جو ملازمت سے سبکدوشی کے بعد حکومت کی جانب سے ہونےوالی دانستہ کوتاہیوں اور بےانصافیوں کا ذکر کرتے ہیں نیز اپنے مشاہدات کی روشنی میں صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ ظفر عزیز چودھری صوبائی سول سروس کے ایک سابق رکن اور بعض اہم کتابوں کے مصنف بھی ہیں، انہوں نے ڈیلی ٹائمز میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے ...

ہند-بنگلہ دیش ریل کنکٹیویٹی بحال

برطانوی حکومت کے دوران مشرقی اور مغربی بنگال کے درمیان ریل کی بہت عمدہ کنکٹیویٹی تھی۔ لیکن عوام سے عوام کے رابطہ کو ختم کرنے کیلئے پاکستان نے 1965 میں اس ریل رابطہ کو توڑ دیا تھا۔ لیکن اتنے برسوں بعد اسے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی گئی اور وزیراعظم نریندر مودی اور بنگلہ دیش کی ان کی ہم منصب شیخ حسینہ کے درمیان اس سلسلے میں ایک معاہدہ ہوا۔ بنگلہ دیش کی کنکٹیویٹی کے ایک مرکز کے طور پر ابھرنے کی خواہش اور بھارت کی اپنے شمال مشرقی علاقہ کو قریب ترین بندرگاہوں سے جوڑنے کی ترجیح کے باعث یہ معاہدہ ممکن ہوسکا۔ بھارت کے شمال مشرقی علاقے کے قریب ترین بندرگاہوں سے جڑنے سے علاقہ میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوجائیں گی۔ 1965 سے پہلے صرف 13 مسافر ٹرینیں ہوا کرتی تھیں جوبھارت اور سابق مشرقی پاکستان کے درمیان چلا کرتی تھیں 2008 میں بھارت اور بنگلہ دیش نے میتری ایکسپریس کی سروسز بحال کیں جو کولکاتااور ڈھاکہ کے درمیان چلا کرتی تھی اور 2017 میں کولکاتا اور کھلنا کے درمیان چلنے والی ایک اور مسافر ٹرین ‘‘بندھن ایکسپریس’’ کا افتتاح کیا گیا۔ اس کے علاوہ بھارت نے 17-2016 کے درمیان 120 مسافر کوچیز بنگلہ دیش کو فراہم ...

پاکستان سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی، بنگلہ دیش کی شرط!

1971 تک بنگلہ دیش پاکستان ہی کا حصہ اور اس کا مشرقی بازو تھا جو مشرقی پاکستان کہلاتا تھا لیکن 1970 کے عام انتخابات کے بعد جب شیخ مجیب الرحمن کی پارٹی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کے لئے سب سے زیادہ سیٹیں جیت لیں تو انہیں اقتدار منتقل کرنے کی بجائے یحیٰ خان کی فوجی حکومت نے شیخ مجیب الرحمن کو ‘‘غدار’’ قرار دے کر انہیں جیل میں بند کردیا اور مشرقی پاکستان میں آرمی کریک ڈاؤن کے ذریعہ قتل وغارت گری کا سلسلہ شروع کردیا۔ وہ تاریخ کا ایک بڑا ہی سیاہ ورق تھا۔ عوامی لیگ کے دعوے کے مطابق، کم وبیش 30 لاکھ افراد فوج کے ظلم کا شکار ہوئے تھے۔ اگرچہ پاکستانی حکمراں اس تعداد کو مبالغہ آمیز بتاتے ہیں لیکن اتنا تو طے ہے کہ لاکھوں بنگالی باشندے لقمہ اجل بنے تھے۔ پاکستان میں ویسے بھی مشرقی پاکستان والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ بہرحال، فوجی کاررروائی کے بعد مشرقی پاکستان میں جو غم وغصہ کا ماحول پیداہوا، وہ پاکستان کے دو لخت ہونے کا سبب بنا اور ایک نیا ملک بنگلہ دیش کے نام سے وجود میں آیا۔ پاکستان نے بھی کچھ دن بعد ہی بنگلہ دیش کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرلیا لیکن دونوں ملکوں کے تعلقات کبھی...

پاکستان کو داخلی انتشار کا سامنا

حکومت پاکستان نے داخلی طور پر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کیلئے ایک اور مضحکہ خیز اور شرارت آمیز کوشش کی ہے۔ منگل کے روز اسلام آباد نے ایک نیا نقشہ جاری کیا جس میں جموں وکشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے سرکریک اور گجرات میں جوناگڑھ کے علاقوں کو پاکستانی علاقے بتائے گئے ہیں۔ کابینہ کی منظوری کے بعد اس نقشہ کو میڈیا کی موجودگی میں جاری کیاگیا۔ اس سے پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں ایک میٹنگ کے دوران اپوزیشن پارٹیوں کے قانون سازوں کو بل کے بارے میں آگاہ کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ خود پاکستانی شہریوں نے اس نقشہ کا مذاق اڑایا ہے۔  نقشہ جاری ہونے کے فوراً بعد ہی بھارت نے پاکستان کے تمام دعووں کو خارج کردیا۔ وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں جاری ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جاری کئے گئے نقشہ کوہم نے دیکھا اور ہم اسلام آباد کو واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہندوستانی گجرات، جموں وکشمیر اور لداخ کے علاقوں پر پاکستانی دعویٰ بے بنیاد اور بکواس ہے۔ اس طرح کی مضحکہ خیز باتوں کی نہ تو کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر ان کی...

اہانت دین روکنے کا قانون یا لاقانونیت پھیلانے کا ایک وسیلہ

اہانت دین قانون کوئی نیا قانون نہیں ہے، یہ کسی نہ کسی شکل میں مختلف ملکوں میں نافذ ہے اور دین کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو سزا بھی دی جاتی ہے۔ خود برصغیر میں ایک قانون 1927 میں نافذ ہوا تھا لیکن پاکستان میں جنرل ضیا الحق کے دورِ اقتدار میں اس میں ترمیم کرکے اتنا سخت بنادیا گیا کہ اس کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ ایک انتہائی تکلیف دہ بات یہ ہوئی کہ اس قانون کے تئیں لوگوں کو اتنا جذباتی بنادیا گیا کہ لوگ قانون کی پاسداری کرنا ہی بھول گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس قانون کا غلط استعمال اس بڑے پیمانے پر ہونے لگا کہ بس کسی پر یہ لزام لگانا ہی کافی سمجھ لیا گیا کہ فلاں شخص نے اسلام کی شان میں گستاخی کی۔ کسی پر یہ الزام لگاکہ اس نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی، اس کے اوراق جلائے یا پیغمبر اسلام کے خلاف گستاخانہ جملے ادا کئے۔ صرف الزام یا افواہ کی بنیاد پر ماحول میں اتنا اشتعال پیدا ہوجاتا ہے یا اشتعال پیدا کردیا جاتا ہے کہ لوگ خود ہی ملزم کو سزا دینے کی ٹھان لیتے ہیں اور جہاں کہیں موقع ملتا ہے، اس کا کام تمام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں تصور کرتے۔ شاید اس طور پر وہ اپ...

پاکستان میں بدعنوانی کا بول بالا

تمام دنیا میں بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جسے ختم کرنا اگرناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے کیوں کہ اس میں عام طور پر بدعنوان سیاستداں اور طاقتور اعلیٰ سرکاری عہدیداران ملوث ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کا تو کافی براحال ہے۔ بدعنوانی نے ملک کو مکمل طور پر برباد کرکے رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے ملک میں غربت، بے روزگاری اور بھکمری بڑھتی جارہی ہے۔ حکومت کا کوئی بھی شعبہ ہو ہر طرف بدعنوانی ہی بدعنوانی نظر آتی ہے۔ اس لعنت کے باعث کورونا وائرس جیسی وبا کے زمانے میں صحت کا شعبہ مفلوج ہوکر رہ گیاہے۔ پولیس اور دوسری ایجنسیوں کا تو کہنا ہی کیا۔ حکومت کے ہر شعبہ میں نیچے سے لیکر اوپر تک ہر سرکاری اہلکار اس میں ڈوبا ہوا ہے۔ پاکستان میں تقریباً ہر زمانے میں بدعنوانی کا بول بالا رہاہے۔ لیکن بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوار میں تو حد ہی ہوگئی تھی۔ جنوری 1998 میں نیویارک ٹائمز میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں آصف علی زرداری کے بدعنوانی میں ملوث ہونے کی تمام تفصیلات دی گئی تھیں۔ زرداری کی اس حرکت کے باعث ہی صدر غلام اسحاق خان نے 1990 میں بے نظیر بھٹو حکومت کو برخواست کردیاتھا۔ 1993 میں بے نظیر جب دوبارہ اق...

بلوچ قوم پرستی کو سمجھنے کےلئے بلوچستان کی تاریخ اور کلچر سے واقفیت ضروری

قیام پاکستان اور بلوچستان کا اس سے الحاق ہونے کے بعد سے اب تک پاکستان سے اس صوبے کے تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔ پاکستان کی متعدد حکومتیں جن میں فوجی اور سیویلین دونوں حکومتیں شامل تھیں، اکثر یہاں کے عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہیں اور ان کی آواز کو دبانے اور کچلنے کےلئے انھوں نے سخت قدم اٹھائے جس کے نتیجہ میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور بلوچ قوم پرستی کے نعرے لگنے لگے۔ بلوچستان کے ایک سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس طارق کھوسہ نے حال ہی میں اخبار ڈان میں ایک مضمون لکھا ہے جس میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ بھائی چارے اور متحدہ قومیت کے جذبے کو فروغ دینے کے لئے سخت کارروائیوں ،تباہ کن اقدامات اور موت کا تحفہ بانٹ کر آپ کامیاب نہیں ہوسکتے۔ طارق کھوسہ نے چونکہ بلوچستان میں محکمہ پولیس کے ایک کلیدی عہدے پر رہ کر کام کیا ہے اس لئے ظاہر ہے وہاں پر ہونے والی حکومت کی سخت گیریوں اور وہاں کے عوام کی بے چینیوں کا بھی بخوبی مشاہدہ کیا ہوگا۔ کھوسہ کے مطابق برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کرنے اور قیام پاکستان کے بعد آزاد ریاست کے طور پر227 دن تک اپنا وجود برقرار رکھنے کے بعد کلات کے خان یعنی میراحم...