پاکستانی اقلیتوں کا درد
حال ہی میں پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ایک ہندومندر کی تعمیر کاکام شروع ہوا تھا جو انتہاپسند حلقوں کے دباؤ کے باعث روک دیا گیا۔ اس پر پاکستان میں اقلیتوں کے مستقبل، ان کی موجودہ صورتحال اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں وہاں کے اخبارات اور میڈیا میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ پاکستان میں ایک انصاف پسند اور سیکولر حلقہ ایسا بھی ہے جو ہر طرح کے دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اقلیتوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھاتا ہے اور خطرات مول لے کر اپنے دل کی بات کہتا ہے۔ بیورو کریٹس جو سرکاری مشینری کا حصہ ہوتے ہیں، وہ دوران ملازمت تو حکومت کے فیصلوں کو ہی رو بہ عمل لانے کا کام انجام دیتے ہیں کیونکہ وہ ان کی مجبوری بھی ہوتی ہے لیکن کچھ ایماندار اور انصاف پسند افسران ایسے بھی ہوتے ہیں جو ملازمت سے سبکدوشی کے بعد حکومت کی جانب سے ہونےوالی دانستہ کوتاہیوں اور بےانصافیوں کا ذکر کرتے ہیں نیز اپنے مشاہدات کی روشنی میں صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ ظفر عزیز چودھری صوبائی سول سروس کے ایک سابق رکن اور بعض اہم کتابوں کے مصنف بھی ہیں، انہوں نے ڈیلی ٹائمز میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے ...