پاکستان میں بدعنوانی کا بول بالا

تمام دنیا میں بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جسے ختم کرنا اگرناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے کیوں کہ اس میں عام طور پر بدعنوان سیاستداں اور طاقتور اعلیٰ سرکاری عہدیداران ملوث ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کا تو کافی براحال ہے۔ بدعنوانی نے ملک کو مکمل طور پر برباد کرکے رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے ملک میں غربت، بے روزگاری اور بھکمری بڑھتی جارہی ہے۔ حکومت کا کوئی بھی شعبہ ہو ہر طرف بدعنوانی ہی بدعنوانی نظر آتی ہے۔ اس لعنت کے باعث کورونا وائرس جیسی وبا کے زمانے میں صحت کا شعبہ مفلوج ہوکر رہ گیاہے۔ پولیس اور دوسری ایجنسیوں کا تو کہنا ہی کیا۔ حکومت کے ہر شعبہ میں نیچے سے لیکر اوپر تک ہر سرکاری اہلکار اس میں ڈوبا ہوا ہے۔

پاکستان میں تقریباً ہر زمانے میں بدعنوانی کا بول بالا رہاہے۔ لیکن بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوار میں تو حد ہی ہوگئی تھی۔ جنوری 1998 میں نیویارک ٹائمز میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں آصف علی زرداری کے بدعنوانی میں ملوث ہونے کی تمام تفصیلات دی گئی تھیں۔ زرداری کی اس حرکت کے باعث ہی صدر غلام اسحاق خان نے 1990 میں بے نظیر بھٹو حکومت کو برخواست کردیاتھا۔ 1993 میں بے نظیر جب دوبارہ اقتدار میں آئیں تو زرداری کا زور پھر چلنے لگا اور انہوں نے پرانی روش دوبارہ اختیار کرلی جس کے باعث انہیں جیل بھی جانا پڑا۔ نواز شریف نے تو زرداری کا بھی ریکارڈ توڑ دیا اور انہیں بدعنوانی کے معاملات میں 2018 میں سات سال کی سزا بھی سنائی گئی۔

کرپشن کے اس پس منظر میں جب ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہوا تو عمران خان نے اپنی انتخابی مہموں میں اس لعنت کو ختم کرنے کیلئے بڑے بڑے وعدے کئے۔ لیکن اقتدار میں آنے کے دو سال بعد بھی اسے ختم کرنے کی بات تو چھوڑیئے وہ اسے کم کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لعنت آج پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور عمران حکومت کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے۔

بدعنوانی پر لگام لگانے کیلئے 16نومبر 1999 کو قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں آیا تھا۔ پاکستانی عوام کو امید تھی کہ اس ادارے کے قیام کے بعد ملک کو بدعنوانی سے کچھ راحت ملے گی لیکن ایسا بالکل نہیں ہوا۔ اس کے قیام کے فوراً بعد ہی اس پر جانب داری اور بے ایمانی پر مبنی سخت گیری کے الزامات لگنے لگے۔ احتساب بیورو کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ یہ ایک خود مختار ادارہ ہوگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے قیام سے لیکر اب تک اس کی غیرجانبداری مشکوک رہی ہے اور یہ کہا جاتا رہا کہ سیاسی طور پر بلیک میلنگ کرنے اور اپنے حق میں حالات کو ڈھالنے کے ایک اوزار کے طور پر اس کااستعمال ہوتا رہا ہے۔ لوگوں کا الزام ہےکہ بے ایمانی کا الزام لگاکر سیاست دانوں کی وفاداریاں خریدی جاتی رہی ہیں اور جیسے ہی انہوں نے اپنی وفاداریاں بدلیں ویسے ہی ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات دور ہوجاتے ہیں اور انہیں فوراً ہی کابینہ میں بھی شامل کرلیاجاتا ہے۔ جنرل مشرف نے اعلان کیا تھا کہ قومی احتساب بیورو کے قیام سے بے ایمان لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا ہوگا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ اس وقت کوئی بھی اہم اپوزیشن لیڈر احتساب بیورو کی چھان بین سے بچا نہیں ہوگا۔ ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو سلاخوں کے پیچھے ہیں، حتی کہ ان پر باقاعدہ کوئی الزام بھی طے نہیں کیا جاسکا۔ لیکن حکومت کے شاید ہی کسی شخص کو یہ دن دیکھنا پڑا ہو حالانکہ ان میں بہت سے ایسے ہیں جو دوسری حکومتوں کے زمانے میں بھی عہدے سنبھال چکے ہیں اور ان پر بدعنوانی کے الزامات لگ چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بیورو نے سیاسی صف بندی کی ایک صف کے خلاف کارروائی کرنے میں کافی دلچسپی دکھائی ہے جبکہ دوسری کےخلاف ہمیشہ پس وپیش سے کام لیا ہے۔ حالانکہ حکومت سے تعلق رکھنے والے بعض لوگوں پر سنگین مالی گھپلوں کے الزام ہیں۔ اس ادارے نے اختیارات کا اتنازیادہ غلط استعمال کیا کہ صرف اپوزیشن لیڈر ہی نہیں بلکہ اعلیٰ سرکاری عہدیداران اور صنعتکار بھی اس کا نشانہ بنے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس کی کارکردگی پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ بعض سیاسی رہنماؤں کے خلاف مبینہ طور پر فوج کے اشاروں پر معاملات درج ہوئے اور انہیں سزائیں بھی ملیں حالانکہ ان معاملات میں واضح طور پر محسوس کیا گیا تھا کہ جن معاملات میں ملزموں کو سزا تک دی گئی وہ معاملات کسی عدالت میں پیش ہونے کے لائق بھی نہیں تھے۔ اس لئے خود عدلیہ کا رول بھی بعض اوقات مشکوک تصور کیا گیا۔

صرف شہری انتظامیہ میں ہی نہیں بلکہ پاکستانی فوج میں بھی کرپشن عام ہے۔ یہاں بھی ان کا کمیشن دیے بغیر آپ کا کام ہوہی نہیں سکتا۔ اور اگر اس بدعنوانی کے خلاف آپ نے عدالت سے رجوع کیا تو معاملہ اتنا لمبا کھنچے گاکہ آپ تنگ آکر اپنی ہار مان لیں گے۔

سرکاری اداروں میں بدعنوانی پر تحقیق کرنے والی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان کا 180 ملکوں میں 120 واں مقام ہے۔ یعنی 180 ملکوں میں سے 119 ممالک اس سے بہتر ہیں۔ اگر ملک میں کرپشن کا یہی حال رہا اور اسے روکنے کیلئے پاکستان نے کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا تو وہ دن دور نہیں جب اس کا صومالیہ جیسا حال ہو گا جو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق دنیا کا سب سے زیادہ بدعنوان ملک ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ