ہند-بنگلہ دیش ریل کنکٹیویٹی بحال

برطانوی حکومت کے دوران مشرقی اور مغربی بنگال کے درمیان ریل کی بہت عمدہ کنکٹیویٹی تھی۔ لیکن عوام سے عوام کے رابطہ کو ختم کرنے کیلئے پاکستان نے 1965 میں اس ریل رابطہ کو توڑ دیا تھا۔ لیکن اتنے برسوں بعد اسے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی گئی اور وزیراعظم نریندر مودی اور بنگلہ دیش کی ان کی ہم منصب شیخ حسینہ کے درمیان اس سلسلے میں ایک معاہدہ ہوا۔ بنگلہ دیش کی کنکٹیویٹی کے ایک مرکز کے طور پر ابھرنے کی خواہش اور بھارت کی اپنے شمال مشرقی علاقہ کو قریب ترین بندرگاہوں سے جوڑنے کی ترجیح کے باعث یہ معاہدہ ممکن ہوسکا۔ بھارت کے شمال مشرقی علاقے کے قریب ترین بندرگاہوں سے جڑنے سے علاقہ میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوجائیں گی۔

1965 سے پہلے صرف 13 مسافر ٹرینیں ہوا کرتی تھیں جوبھارت اور سابق مشرقی پاکستان کے درمیان چلا کرتی تھیں 2008 میں بھارت اور بنگلہ دیش نے میتری ایکسپریس کی سروسز بحال کیں جو کولکاتااور ڈھاکہ کے درمیان چلا کرتی تھی اور 2017 میں کولکاتا اور کھلنا کے درمیان چلنے والی ایک اور مسافر ٹرین ‘‘بندھن ایکسپریس’’ کا افتتاح کیا گیا۔ اس کے علاوہ بھارت نے 17-2016 کے درمیان 120 مسافر کوچیز بنگلہ دیش کو فراہم کئے۔

لائن آف کریڈٹ کے ایک حصہ کے طور پر بھارت بنگلہ دیش میں ریلوے کے 17 پروجیکٹوں کو مالی امداد فراہم کررہا ہے۔ نئی دہلی نے ڈھاکہ کو دو اعشاریہ چار چار ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جس سے میٹرگیج کو براڈگیج میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس امداد سے نہ صرف نئے پلوں کی تعمیر ہوگی بلکہ پرانے پلوں کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ ان میں سے 9 پروجیکٹوں کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت میں کریم گنج– مہی ساسن ریلوے لائن جو بنگلہ دیش میں شہباز پور ریلوے لائن اور بھارت میں ہلدی باری ریلوے لائن کو بنگلہ دیش کی چلہٹی سے جوڑتی ہیں، بحال کردی گئی ہیں۔ دونوں ممالک نے اگرتلہ کو اخووارہ سے جوڑنے کیلئے ایک نئی ریلوے لائن کی تعمیر سے بھی اتفاق کرلیا ہے۔

بنگلہ دیش ریلویز کو اس وقت ویگنوں کی سخت ضرورت ہے۔ ان کی کمی کی وجہ سے وہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرپارہی ہے۔ لہٰذا بنگلہ دیش کی اس دقّت کو دیکھتے ہوئے بھارتی ریلوے سامان ڈھونے کیلئے اپنے ویگنس استعمال کررہی ہے۔ نئی دہلی کے مطابق سالانہ تقریباً دو ملین میٹرک ٹن سامان بنگلہ دیش لے جایا جاتا ہے۔ اس میں سے 99فیصد وہ سامان ہیں جو بنگلہ دیش بھارت سے درآمد کرتا ہے۔ اس سال جون میں سو سے زیادہ مال گاڑیاں بنگلہ دیش گئیں جن میں ضروری اشیاء لدی ہوئی تھیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان ٹرانسپورٹ کی کنکٹیویٹی کو بہتر بنانے میں دوباتوں پر دھیان دینا ضروری ہے۔ اوّل یہ کہ آندھراپردیش سے 384 ٹن مرچ لیکر ایک خصوصی مال گاڑی 13 جولائی کو بنگلہ دیش پہنچی۔ دوسری یہ کہ 26جولائی کو ایک دوسری مال گاڑی بھارت کے مجرہاٹ سے بنگلہ دیش کے شہر بینا پول پہنچی جس میں 50 کنٹینر لدے ہوئے تھے۔ خبروں کے مطابق یہ ایک مستقل سروس ہونے جارہی ہے اور یہ کنٹینر کارپوریشن آف انڈیا کے نامزد ٹرمنلوں کو بنگلہ دیش کے بیناپول، جسّور، سینگیا، نواپارہ اور بنگ بندھو سیتو ویسٹرن ریلوے اسٹیشنوں سے جوڑے گی۔ کووڈ-19 کے دور میں بنگلہ دیش کو ضروری اشیاء بھیجنے کیلئے ریلوے سب سے اہم ذریعہ ثابت ہوا ہے۔

بھارت نے بنگلہ دیش کو تحفہ کے طور پر براڈ گیج کے دس لوکوموٹیو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 60 کروڑ کی لاگت سے تیار ان انجنوں سے بنگلہ دیش ریلویز کی طاقت میں اضافہ ہوگا۔ ستمبر 2012 اور دسمبر 2015 کے درمیان بنگلہ دیش ریلویز نے براڈ گیج کے دس اور اتنے ہی میٹرگیج کے لوکوموٹیو شامل کئے تھے تاکہ ان کی کمی کو دور کیا جاسکے۔ بنگلہ دیش ریلویز کے پاس اس وقت میٹر گیج کے 178 لوکو موٹیوانجن ہیں جن میں سے 139 کافی پرانے ہوچکے ہیں جن کی اب بہت دنوں تک خدمات لینا مشکل ہوگا۔ اس لئے بھارت کی جانب سے دس انجنوں کا تحفہ بنگلہ دیش کیلئے کافی اہم ثابت ہوگا۔ جہاں تک براڈ گیج لوکوموٹیو کا تعلق ہے تو 90 میں سے 55 کافی پرانے ہوچکے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ بنگلہ دیش میں ریلوے کے نظام کے بہتر ہونے سے سڑکوں کے ذریعے سامان ڈھونے کے طریقہ پر انحصار کافی کم ہوجائے گا۔ اس سے سامان ڈھونے کے کرایہ میں بھی کافی کمی آئے گی۔ برطانوی دور کے زمانے کی ریل کنکٹیویٹی بحال کرنے سے علاقہ کی معیشت بھی کافی حد تک بہتر ہوگی۔ اس سے علاقہ کے لوگوں کو صدیوں پرانے اپنے تاریخی اور ثقافتی رشتوں کو جوڑنے کا بھی موقع فراہم ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ