پاکستان کو داخلی انتشار کا سامنا
حکومت پاکستان نے داخلی طور پر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کیلئے ایک اور مضحکہ خیز اور شرارت آمیز کوشش کی ہے۔ منگل کے روز اسلام آباد نے ایک نیا نقشہ جاری کیا جس میں جموں وکشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے سرکریک اور گجرات میں جوناگڑھ کے علاقوں کو پاکستانی علاقے بتائے گئے ہیں۔ کابینہ کی منظوری کے بعد اس نقشہ کو میڈیا کی موجودگی میں جاری کیاگیا۔ اس سے پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں ایک میٹنگ کے دوران اپوزیشن پارٹیوں کے قانون سازوں کو بل کے بارے میں آگاہ کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ خود پاکستانی شہریوں نے اس نقشہ کا مذاق اڑایا ہے۔
نقشہ جاری ہونے کے فوراً بعد ہی بھارت نے پاکستان کے تمام دعووں کو خارج کردیا۔ وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں جاری ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جاری کئے گئے نقشہ کوہم نے دیکھا اور ہم اسلام آباد کو واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہندوستانی گجرات، جموں وکشمیر اور لداخ کے علاقوں پر پاکستانی دعویٰ بے بنیاد اور بکواس ہے۔ اس طرح کی مضحکہ خیز باتوں کی نہ تو کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر ان کی کوئی اہمیت۔ اس طرح کی حرکتیں سیاسی بکواس کے سوا کچھ نہیں۔
ایک طرف پاکستان ایسی فضول حرکتیں کررہا ہے تو دوسری جانب پاکستانی سماج کے مختلف طبقوں کے درمیان حکومت کے خلاف بے چینی جاری ہے۔ بلوچیوں اور سندھیوں کے مختلف گروپوں نے مل کر حکومت کے خلاف اب ایک متحدہ محاذ بنالیا ہے۔ بلوچ راج اجوئی سانگر اور سندھو دیش ریوولیوشنری آرمی اب حکومت کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر آگئے ہیں اور ابھی حال ہی میں اس محاذ نے کسی نامعلوم جگہ پر اپنی میٹنگ بھی کی تھی۔ اس میٹنگ کے شرکاء نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سندھی اور بلوچ قوموں کے درمیان صدیوں سے سیاسی، تاریخی اور ثقافتی رشتے رہے ہیں اس لئے اب ان صدیوں پرانے رشتوں کی تجدید کرنے کی ضرورت ہے۔
قیام پاکستان کے بعد سے سندھیوں اور بلوچیوں کے خلاف ناانصافی ہوتی رہی ہے۔ جو بھی حکومتیں آئیں انہوں نے ان کے خلاف ناروا سلوک جاری رکھا۔ اس وقت سندھ اور بلوچستان دونوں صوبوں میں صورتحال خراب ہے، یہ دونوں اب آزادی چاہتے ہیں۔
محاذ نے کہا ہے کہ 60 ارب ڈالر والی چین- پاکستان معاشی راہداری نے دونوں صوبوں کو متاثر کیا ہے اور سندھیوں اور بلوچیوں کو چین کے ارادوں کے بارے میں کافی شک ہے۔ ان کے خیال میں چین اس راہداری کے ذریعے اپنی توسیع پسندی کو فروغ دے رہا ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ مستقبل میں انہیں چین کے زیرکنٹرول رہنا پڑسکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سندھ اور بلوچستان کا ایک لمباساحلی علاقہ ہے جو بحرہند سے جڑا ہوا ہے۔ بلوچیوں اور سندھیوں دونوں کا خیال ہے کہ یہ لمبا ساحلی علاقہ اسٹریٹیجک اہمیت کا ہے۔
نامعلوم جگہ پر ہوئی اس میٹنگ میں محاذ کے شرکاء نے یہ بات بھی کہی کہ سندھی ہزاروں سال پرانی وادیٔ سندھو تہذیب کے نگہبان ہیں۔ بلوچیوں کی بھی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے۔مہرگڑھ تہذیب بلوچیوں کی میراث ہے۔ ان دونوں قوموں نے مختلف حملہ آوروں اور غارت گروں سے اپنی زمین، تہذیب اورآزادی کی ہمیشہ حفاظت کی ہے۔ تاہم قیام پاکستان کے بعد سے اس کے ساتھ دوسرے درجہ کے شہریوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔ اس اکیسویں صدی میں بھی انہیں وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں۔ بلوچستان اور سندھ دونوں صوبوں میں بدعنوانی، کنبہ پروری اور دوسری برائیاں عام ہیں۔ یہاں بے روزگاری اتنی زیادہ ہےکہ یہاں کے سماج میں انتشار جیسی صورتحال ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر سندھی اور بلوچی رہنماؤں نے متحد ہوکر وفاقی حکومت کے خلاف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ محاذ مظلوم اور مزاحمت کرنے والی تنظیموں کے رابطہ میں بھی ہے۔ وہ دنیا کی مختلف حکومتوں اور اقوام متحدہ سے بھی رابطہ کررہا ہے تاکہ ان دونوں قوموں کو انصاف مل سکے۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنی انتخابی مہموں میں ایک نیا پاکستان تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لہٰذا انہیں اپنے اس وعدے کو نبھانے کی ضرورت ہے۔ تصوراتی نقشہ جاری کرکے فضول کی باتوں میں پڑنے اور وقت برباد کرنے کی بجائے انہیں سندھیوں اور بلوچیوں کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہئے تاکہ ان کے زخم بھرسکیں۔
Comments
Post a Comment