پاکستانی اقلیتوں کا درد
حال ہی میں پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ایک ہندومندر کی تعمیر کاکام شروع ہوا تھا جو انتہاپسند حلقوں کے دباؤ کے باعث روک دیا گیا۔ اس پر پاکستان میں اقلیتوں کے مستقبل، ان کی موجودہ صورتحال اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں وہاں کے اخبارات اور میڈیا میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ پاکستان میں ایک انصاف پسند اور سیکولر حلقہ ایسا بھی ہے جو ہر طرح کے دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اقلیتوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھاتا ہے اور خطرات مول لے کر اپنے دل کی بات کہتا ہے۔ بیورو کریٹس جو سرکاری مشینری کا حصہ ہوتے ہیں، وہ دوران ملازمت تو حکومت کے فیصلوں کو ہی رو بہ عمل لانے کا کام انجام دیتے ہیں کیونکہ وہ ان کی مجبوری بھی ہوتی ہے لیکن کچھ ایماندار اور انصاف پسند افسران ایسے بھی ہوتے ہیں جو ملازمت سے سبکدوشی کے بعد حکومت کی جانب سے ہونےوالی دانستہ کوتاہیوں اور بےانصافیوں کا ذکر کرتے ہیں نیز اپنے مشاہدات کی روشنی میں صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ ظفر عزیز چودھری صوبائی سول سروس کے ایک سابق رکن اور بعض اہم کتابوں کے مصنف بھی ہیں، انہوں نے ڈیلی ٹائمز میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کا پرانا مسئلہ ایک بارپھر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ہوا یہ کہ راجدھانی کی 3000 سے زیادہ کی ہندو آبادی کے لئے ایک مندر کی تعمیر کے مقصد سے اسلام آباد میں زمین کا ایک ٹکڑا الاٹ کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس کے لئے 10 کروڑ روپئے بھی منظور کئے۔ اس شہر میں کچھ پرانے مندر تو ہیں لیکن وہ ناقابل استعمال ہیں۔ کوئی دوسری ایسی جگہ بھی نہیں ہے جسے ہندو فرقہ کے لوگ اپنے سماجی کاموں مثلاً شادی بیاہ اور دوسری رسوم کے لئے استعمال کرسکیں۔ پھر مردوں کو سپردِ آتش کرنے کے لئے کوئی شمشان گھاٹ بھی نہیں ہے۔ ہندوؤں نے 2016 میں مندر کے لئے درخواست دی تھی جسے کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے منظور بھی کرلیا تھا۔ لیکن مندر کی تعمیر کا ابتدائی مرحلہ شروع ہی ہوا تھا کہ ایک قریبی مدرسے کے کچھ نوجوانوں نے آکر رکاوٹ پیداکی اور کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نےتعمیر کاکام روک دیا ۔ بعد میں معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ گیا۔ ہائی کورٹ نے مندر تعمیر کرنے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ یہ بھی کہا کہ آئین کے تحت اقلیتوں کو اس کا حق حاصل ہے۔ لیکن بعد ازاں اندرون عدالت ایک اپیل داخل کی گئی جہاں یہ معاملہ زیرغور ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں خود حکومت کیا رول اداکرتی ہے۔
ظفر عزیز چودھری کے مطابق پاکستان میں مسلمان، 96.28 فیصدآٓبادی کا احاطہ کرتے ہیں جبکہ ہندوؤں کی آبادی 1.85 فیصد کے قریب ہے۔ عیسائی 1.59 فیصد، احمدیہ 0.22 فیصد اور دیگر 0.7فیصد کے قریب ہیں۔ آزادی اور تقسیم کے بعد 50 لاکھ کے قریب ہندو اور سکھ مغربی پاکستان سے بطور رفیوجی ہندوستان چلے گئے۔ پاکستان میں ہندوؤں کی بڑی تعداد صوبہ سندھ میں رہتی ہے جبکہ سکھ زیادہ تر صوبہ خیبر پختون خوا میں آباد ہیں۔ پاکستان کی نئی ریاست کی اساس کی بات اگر کی جائے تو ظفر عزیز کے مطابق اس کا بنیادی خاکہ تو خود بانی پاکستان جناح نے 11 اگست 1947 کو آئین ساز اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ ظفر عزیز کا کہنا ہے کہ اس تقریر کا حوالہ تو اکثر دیا جاتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ کسی بھی شہری کے ساتھ مذہب ، عقیدے یا ذات پات کی بنیاد پر کوئی امتیازی سلوک نہیں روا رکھا جائےگا۔ پاکستان کے ہر شہری کے حقوق یکساں ہونگے۔ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ ریاست کا اس سے کوئی سروکار نہ ہوگا۔ ظفر عزیز اس کے بعد لکھتے ہیں کہ بانی پاکستان نے تو ریاست پاکستان کے لئے یہ نظریہ پیش کیا تھا، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ اقلیتوں کیلئے پاکستان دنیا کا ساتواں سب سے خطرناک ملک ہے۔
1949 میں لیاقت علی خان نے پاکستانی ریاست کے بنیادی اجزاء اور مقاصد سے متعلق جو قرارداد پیش کی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اس کے قوانین اور ضابطے اسلامی ضابطوں سے ہم آہنگ ہونگے۔ اس سے اسلامی علماء کو طاقت حاصل ہوئی لیکن اقلیتوں میں کچھ اور پیغام گیا۔ علماء نے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کوغیرمسلم قرار دیا جائے اور ظفر اللہ خان سے وزارت خارجہ چھینی جائے۔ حالانکہ انہیں خود محمد علی جناح نے اس عہدے پر بحال کیا تھا۔ اس کے بعد اعتدال پسند مسلمانوں اور قدامت پسندوں کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہوا۔ بھیانک فسادات بھی ہوئے جس کے نتیجہ میں پاکستان میں پہلی بار مارشل لاء نافذ ہوا۔
1973 میں پاکستان کا نیا آئین بنا تو پاکستان کو ایک اسلامی ریاست قرار دیا گیا جس میں صدر اور وزیراعظم کوئی غیرمسلم نہیں ہوسکتا۔ بعد میں دفعہ260 کے تحت احمدیوں کو غیرمسلم قرار دے دیا گیا۔ فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور اقتدار میں آئین میں کچھ ایسی ترمیمیں کیں کہ اس آئین کی شکل خاصی مسخ ہوگئی۔ جنرل ضیاء کے اسلامائزیشن کے منصوبے کے تحت اقلیتوں کے خلاف ایک فضا سی بن گئی اور منافرت کا ماحول بڑھتا ہی گیا۔ تشدد کے واقعات 12-2011 میں بہت بڑھ گئے، ہر طرف گرجاگھروں پر حملے ہونے لگے، عیسائیوں کے گھر بھی لوٹے گئے۔ غیر مسلم افسران کو قتل بھی کیا گیا اور ہندو اور عیسائی فرقے کے لوگوں کا جبراً مذہب تبدیل کرانے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔
ظفر عزیز چودھری کے مطابق یہ سب کچھ تو ہوتا ہی رہا لیکن اب نوبت ایں جا رسید کہ پاکستان کی اقلیتیں، اکثریت کے خوف سے ہمہ وقت گھبرائی اور سہمی سی رہتی ہے۔ اقلیتوں پر ہونے والے اس سلوک کےبارے میں کچھ لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ پاکستان کے دشمن ملکوں کا ایجنڈا ہے تاکہ پاکستان کو عالمی برادری میں بدنام کیا جاسکے۔کچھ اور لوگوں کاکہنا ہے کہ یہ خود اقلیتوں کا بچھایا ہوا جال ہے تاکہ انہیں غیرممالک میں آباد ہونے کا موقع مل جائے۔ اب اگر اس منطق کو مان لیا جائے کہ پاکستان کے دشمن پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں یا اقلیت کے لوگ خودغیرممالک میں پناہ حاصل کرنے کے لئے یہ جال بچھا رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر روکنے کے جتن کون کررہاہے؟ مندر کی تعمیر کاکام کیوں رُک گیا؟ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے مندر کی اجازت دے دی تو اس فیصلے کے خلاف اپیل کس نے کی؟ خود ہندوؤں نے؟
ظفر عزیز کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان کی اس صورتحال کی بنیادی وجہ جاننے کے لئے بہت سے مصنفین اور محققین کی تحریریں کھنگالیں تو پاکستان کے ایک مؤرخ کی پیش کی گئی وضاحت ہی سب سے جامع نظر آئی۔ اس مؤرخ کا کہنا ہے کہ دراصل پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو خود اپنے آپ سے برسر پیکار ہے۔ اس ملک کے بانی نے جس منزل کے لئے راستہ دکھایا تھا اسے بھول کر لوگ اتنی دور چلے گئے ہیں کہ انہیں وہ راستہ کہیں مل ہی نہیں رہاہے۔ بہرحال عالمی برادری میں پاکستان کی بہتر امیج بننے کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہاں اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے!!
Comments
Post a Comment