بلوچ قوم پرستی کو سمجھنے کےلئے بلوچستان کی تاریخ اور کلچر سے واقفیت ضروری

قیام پاکستان اور بلوچستان کا اس سے الحاق ہونے کے بعد سے اب تک پاکستان سے اس صوبے کے تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔ پاکستان کی متعدد حکومتیں جن میں فوجی اور سیویلین دونوں حکومتیں شامل تھیں، اکثر یہاں کے عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہیں اور ان کی آواز کو دبانے اور کچلنے کےلئے انھوں نے سخت قدم اٹھائے جس کے نتیجہ میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور بلوچ قوم پرستی کے نعرے لگنے لگے۔ بلوچستان کے ایک سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس طارق کھوسہ نے حال ہی میں اخبار ڈان میں ایک مضمون لکھا ہے جس میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ بھائی چارے اور متحدہ قومیت کے جذبے کو فروغ دینے کے لئے سخت کارروائیوں ،تباہ کن اقدامات اور موت کا تحفہ بانٹ کر آپ کامیاب نہیں ہوسکتے۔ طارق کھوسہ نے چونکہ بلوچستان میں محکمہ پولیس کے ایک کلیدی عہدے پر رہ کر کام کیا ہے اس لئے ظاہر ہے وہاں پر ہونے والی حکومت کی سخت گیریوں اور وہاں کے عوام کی بے چینیوں کا بھی بخوبی مشاہدہ کیا ہوگا۔

کھوسہ کے مطابق برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کرنے اور قیام پاکستان کے بعد آزاد ریاست کے طور پر227 دن تک اپنا وجود برقرار رکھنے کے بعد کلات کے خان یعنی میراحمد یار خان نے ریاست کلات کے 1948میں پاکستان سے الحاق کے معاہدے پر دستخط کئے۔ اس وقت سے آج تک بلوچستان کی کہانی حکومت پاکستان کی تمام مواقع گنوانے اور وعدہ خلافی کرنے کی کہانی ہے۔ پاکستان سے الحاق کے قبل کچھ دن تو ریاست کلات آزادتھی لیکن اس سے قبل 300سال تک یہ علاقہ ایک وسیع تر اتحاد یاوفاق کے نظام کے تحت کام کررہا تھا۔ بہر حال خان آف کلات کے بھائی عبدالکریم نے جلوان میں بغاوت کا اعلان کردیا۔ 1955 میں اسکند مرزانے بلوچستان کو مغربی پاکستان یونٹ میں شامل کردیا۔ دوسری بار پھر بے چینی پیدا ہوئی جس کی قیادت نواب نوروز زہری نے کی۔ عبدالکریم اور نواب نوروزکو مجبور کیا گیا کہ اگر وہ سرینڈر کردیں تو انھیں آسانی سے باہر جانے کا راستہ دے دیا جائے گا لیکن ان کے ساتھ شدید دھوکہ ہوا۔ انھیں فوجی عدالتوں کے ذریعہ لمبی مدت کے لئے جیل بھیج دیا گیا جبکہ نوروز خان کے بیٹے اور ساتھیوں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ تیسری شورش بلوچستان میں اس وقت شروع ہوئی جب 1962 کے انتخابات کے بعد خبیر بخش مرّی اور عطا اللہ مینگل سمیت متعدد قوم پرست لیڈروں کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ ایوب خان نے انھیں برخاست کردیا تھا اور انھوں نے اسی طرح کی دھمکی انھیں دی تھی جیسی دھمکی جنرل مشرف نے اپنے زمانے میں بلوچوں کو دی تھی۔ یعنی اگر تم میری مخالفت کرو گے تو تمہیں برباد کردیا جائے گا۔ 1973میں ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کے لوگوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر 1973 کے آئین کو اتفاق رائے سے منظور کرانے میں تعاون کریں گے تو انھیں صوبائی خود اختیاری دی جائے گی۔ لیکن بجائے خود اختیاری دینے کے بھٹونے عطا اللہ مینگل کی حکومت ہی کو ڈسمس کردیا اور اس طور پر بلوچستان میں چوتھی شورش شروع ہوئی۔ موجودہ یعنی پانچویں شورش جو بلوچستان میں شروع ہوئی اس کا آغاز 2005 میں ہوا۔ اس وقت ایک خاتون ڈاکٹر نے ایک فوجی افسر کے خلاف الزام لگایا کہ اس نے سوئی کے قریب اس کی آبروریزی کی تھی ۔ اس کے بعد وہاں کے بزرگ رہنما نواب اکبر بگتی نے اس بنیاد پر ایک تحریک چلائی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ جنرل مشرف کی فوج نہ صرف اس خطاکار فوجی افسر کا بچاؤ کرنے لگی بلکہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے لگی۔ بالآخر اسی کارروائی کے نتیجہ میں نواب اکبر بگتی ہلاک ہوگئے۔ سابق انسپکٹر جنرل کھوسہ کے مطابق 2006میں اکبر بگتی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں علیحدگی کا احساس مزید بڑھ گیا۔

اب اس علاقے کی تاریخ اور کلچرل پس منظر پر نظر ڈالتے ہیں جیسا کہ طارق کھوسہ نے اپنے مضمون میں پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق بارہویں صدی عیسوی میں میر جلال خان کی سربراہی میں 44 قبائل پرمشتمل ایک اتحاد یا وفاق قائم ہوا تھا پندرہویں صدی تک آتے آتے ایک طاقتور اور وسیع تر وفاقی ڈھانچہ میر سکندر کی قیادت میں قائم ہوا جو مغرب میں کِرمان سے لے کر مشرق میں سندھ تک پھیلا ہوا تھا۔ لیکن میرسکندر کی وفات کے بعد اتحاد بکھر گیا۔ 1666میں میر احمد خان/خان آف کلات منتخب کئے گئے۔ وہی کلات کا پہلا وفاق تھا جس میں قندھار ،بندرعباس، ڈیرا غازی خان اور کراچی کے علاقے شامل تھے۔ اس کے پوتے میرناصر خان کی قیادت میں ایک متحدہ فوج اور انتظامی سسٹم قائم ہوا۔ کلات دو یونٹوں میں تقسیم ہوگیا۔ ایک یونٹ سراون کہلائی جس کے سربراہ رائے ساز قبیلے کے لوگ تھے اور دوسری کا نام تھا جھلوان جس کے سربراہ زہری قبیلے والے ہوا کرتے تھے۔ گویا اس طرح سرداروں کی کونسل کے ذریعہ بلوچ حکومت کا سلسلہ شروع ہوا ۔1805 سے 1939 یعنی برطانوی مداخلت تک ناصر خان کے جانشیں برائے نام فرماں روا رہے۔

وسطی ایشیا میں روس کی پیش رفت نے بلوچستان کے معاملات میں انگریزوں کو ملوث کردیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے حملہ آور فوج کوپشاور اور درۂ خیبر کے راستے سے کابل کی طرف کوچ کرنے سے روک دیا لہذا انگریزوں نے 1838 میں خان آف کلات محراب خان سے درۂ مومن کا راستہ حاصل کرنے کے لئے معاہدہ کیا لیکن معاہدہ کی خلاف ورزی کے الزام میں انگریزوں نے محراب خان کو قتل کردیا۔ اس کے بیٹے میرناصر خاں دوئم کو سربراہ مقرر کیا گیا۔ پہلی افغان جنگ انگریزوں کے لئے فوجی اعتبار سے تباہ کن ثابت ہوئی۔ 1875 میں انھوں نے ایک معاہدہ پر دستخط کئے جس کے تحت کلات کی آزادی کا احترام کرنے کا وعدہ کرنا پڑا، اور اس طرح سرداروں کی فرماں روائی بحال ہوئی۔ اگر بلوچ قوم پرستی کے وقت کا تعین کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس کا آغاز 1929 میں ہوا جب میر محمد یوسف علی مگسی اور عبدالعزیز کرد نے انجمن اتحاد بلوچستان قائم کی تھی۔ دراصل یہ ایک غیر قبائلی قوم پرست تحریک تھی، اس میں بلوچوں کی مفت لازمی تعلیم اور عورتوں کی آزادی پر خاص زور تھا۔ اس کے علاوہ بلوچ کلچر کے تحفظ کی بات بھی شامل تھی۔

بلوچستان کی تاریخ وقت کے نشیب وفراز سے گزرتی ہوئی 1948تک پہنچی جب پاکستان سے اس کا الحاق ہوا لیکن جیسا کہ طارق کھوسہ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد کی کہانی وعدہ خلافیوں موقع گنوانے اور فوجی بوٹوں تلے بلوچ قوم پرستوں کی آواز دبانے اور انھیں دھوکہ دینے کی کہانی ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ان کے زخموں پر مرہم لگایا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا پے بہ پے ان کی دل شکنی اور دل آزاری ہوتی رہی ۔ کھوسہ نے آخر میں لکھا ہے کہ ایک بلوچ رہنما مرحوم غوث بخش بزنجو کی یہ بات دعوت فکر دیتی ہے ‘‘آپ سختیوں ہلاکتوں اور تباہی پھیلا کر بزورِ طاقت متحدہ قومیت تشکیل نہیں دے سکتے’’۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ