پاکستان سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی، بنگلہ دیش کی شرط!



1971 تک بنگلہ دیش پاکستان ہی کا حصہ اور اس کا مشرقی بازو تھا جو مشرقی پاکستان کہلاتا تھا لیکن 1970 کے عام انتخابات کے بعد جب شیخ مجیب الرحمن کی پارٹی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کے لئے سب سے زیادہ سیٹیں جیت لیں تو انہیں اقتدار منتقل کرنے کی بجائے یحیٰ خان کی فوجی حکومت نے شیخ مجیب الرحمن کو ‘‘غدار’’ قرار دے کر انہیں جیل میں بند کردیا اور مشرقی پاکستان میں آرمی کریک ڈاؤن کے ذریعہ قتل وغارت گری کا سلسلہ شروع کردیا۔ وہ تاریخ کا ایک بڑا ہی سیاہ ورق تھا۔ عوامی لیگ کے دعوے کے مطابق، کم وبیش 30 لاکھ افراد فوج کے ظلم کا شکار ہوئے تھے۔ اگرچہ پاکستانی حکمراں اس تعداد کو مبالغہ آمیز بتاتے ہیں لیکن اتنا تو طے ہے کہ لاکھوں بنگالی باشندے لقمہ اجل بنے تھے۔ پاکستان میں ویسے بھی مشرقی پاکستان والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ بہرحال، فوجی کاررروائی کے بعد مشرقی پاکستان میں جو غم وغصہ کا ماحول پیداہوا، وہ پاکستان کے دو لخت ہونے کا سبب بنا اور ایک نیا ملک بنگلہ دیش کے نام سے وجود میں آیا۔

پاکستان نے بھی کچھ دن بعد ہی بنگلہ دیش کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرلیا لیکن دونوں ملکوں کے تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔ ایک آزاد ملک کے طور پر بنگلہ دیش اپنی ایک اچھی امیج بنارہا ہے اور حالیہ برسوں میں اس نے معاشی محاذ پر بہت اچھی کارکردگی کامظاہرہ کیا ہے۔ اس کی معیشت ترقی کی منزلیں طے کررہی ہے۔ حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے مابین ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ ظاہر ہے وزرائے اعظم کی سطح پر ہونےو الی بات چیت کے نتیجہ میں کچھ قیاس آرائیاں بھی ہوتی ہیں اور متعلقہ ملکوں میں سیاسی سطح پر نیز میڈیا میں بھی طرح طرح کی باتیں ہوتی ہیں اور کئی طرح کے سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ چنانچہ بنگلہ دیش اور پاکستان میں بھی اس بات چیت کے حوالے سے کچھ قیاس آرائیاں ہوئیں۔ اس پس منظرمیں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے وضاحت پیش کی کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔ دراصل بنگلہ دیش کے ایک ٹی وی چینل ‘نیوز 24’ پر ایک مباحثہ ‘‘ہندبنگلہ دیش تعلقات’’ کے موضوع پر نشر ہوا۔ اس میں ان سے یہ سوال کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں کچھ ایسی پیش رفت ہوئی ہے کہ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات کی نوعیت میں کچھ تبدیلی آنے والی ہے۔ اس کے جواب میں وزیر خارجہ عبدالمومن نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے جو بنگلہ دیش کی وزیراعظم کو فون کیاتھا اس میں عام نوعیت کی سفارتی باتیں ہوئیں تھیں۔ اس کے علاوہ کوئی خاص بات نہیں تھی۔ پاکستان نے کوشش کی تھی کہ کشمیر کے سوال پر کچھ سوالات اٹھا کر فضا کو گرم کیا جائے لیکن بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان غیرضروری باتوں کو خواہ مخواہ طول دینا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ادھر کے دوبرسوں میں تو پاکستان کاکوئی سفیر بھی بنگلہ دیش میں تعینات نہیں ہواتھا۔ اس سال جنوری میں پاکستان کا نیا ہائی کمشنر تعینات ہوا۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے انہوں نے اس کے کاغذات دیکھے تھے لیکن یکم جولائی سے قبل وہ پاکستان ہائی کمشنر سے ملاقات نہ کرسکے تھے کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بندشیں تھیں۔ بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کے مطابق یہ سب معمول کی کارروائیاں تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب وہ پاکستان کےہائی کمشنر سے یکم جولائی کو ملے تو ان سے یہ صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اگر پاکستان، بنگلہ دیش سے بہتر تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے تو اسے سرکاری سطح پر یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ اس نے بنگلہ دیش میں قتل عام کرایا تھا اور اس کے لئے اسے معافی بھی مانگنی ہوگی کیونکہ وہ زخم اتناگہرا تھا کہ اسے بنگلہ دیش کے عوام فراموش نہیں کرسکتے۔ جب تک یہ عمل پورا نہیں ہوتا، اس وقت تک دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری نہیں پیدا ہوسکتی۔

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے اپنے دوسرے پڑوسی ملکوں سے تعلقات کی نوعیت پر بھی روشنی ڈالی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ حالیہ ہند۔ چین کشیدگی کے پس منظر میں دونوں ملکوں کے تعلق سے ان کا کیا خیال ہے تو انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے اپنے ان دونوں پڑوسیوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ ان کے مطابق دونوں پڑوسیوں کے دل بنگلہ دیش کے لئے بڑے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش کے بانی بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمن کی پالیسی پر بنگلہ دیش قائم ہے اور تمام پڑوسیوں سے اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش اس اعتبار سے ایک خوش قسمت ملک ہے کہ دو بڑے ترقی پذیر ممالک اس کے پڑوسی ہیں اور کسی حد تک بنگلہ دیش بھی ان سےاستفادہ کررہا ہے۔ ان کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس کے اس زمانے میں بھی بنگلہ دیش کو ان سے حمایت مل رہی ہے۔ ابھی ابھی ہندوستان نے بنگلہ دیش کو 10 لوکوموٹیو ریلوے انجن بطور تحفہ پیش کیے ہیں۔

ہندوستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ عبدالمومن نے کہا کہ یہ تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں جیسے ایک ماں کا رشتہ اپنے بیٹے سے ہوتا ہے۔ دونوں ملک کے درمیان اعتماد کے رشتے بڑے گہرے اور علامتی نوعیت کے ہیں۔ ان کے مطابق خوشگوار رشتوں کے جس تحفے کا تبادلہ شیخ مجیب الرحمن اور اندراگاندھی نے دونوں ملکوں کے عوام کو پیش کیا تھاوہ ‘‘سونالی ادھیائے’’یعنی سنہرا ورق تھا اور شیخ حسینہ اور نریندر مودی کی قیادت میں اب وہ تعلقات نئی بلندیوں کی طرف گامزن ہیں۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی پختگی میں حاصل ہونے والی کچھ کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زمینی سرحدوں کے ساتھ ساتھ سمندری سرحدوں اور شمال مشرق کے علاقوں کے کچھ حل طلب معاملات کو دونوں ملکوں نے مل کر جس خوش اسلوبی سے حل کیا وہ اپنی مثال آپ ہے اگرچہ تیستا کے پانی اور بعض دوسرے چھوٹے بڑے معاملات ابھی حل طلب ہیں لیکن اس جانب بھی صحیح سمت میں پیش قدمی ہورہی ہے اورامید ہے کہ دوستی اور گرمجوشی کے اس ماحول میں تمام دوسرے مسائل بھی حل کرلئے جائیں گے۔ غرضیکہ ہند بنگلہ دیش تعلقات آئندہ بھی اسی طرح رواں دواں رہیں گے، گنگا اور جمنا کی موجوں کی طرح، پدما اور میگھنا کی چنچل لہروں کی طرح!!


Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ