پاکستان میں زیر حراست اذیت رسانی کے خلاف بل
اذیت رسانی ایک ایسی لعنت ہے جو مختلف ملکوں اور سماج میں زمانہ ٔقدیم سے بروئے کار لائی جا رہی ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقا کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیلیاں ضرور نظر آئیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ ظلم و جبرکو فروغ دینے والے عناصر ہر دور میں اپنے لئے ظلم ڈھانے کے راستے تلاش کر لیتے ہیں۔ نئے زمانے میں بھی مطلق العنان حکمرانوں کی سرشت میں اس طرح کی باتیں شامل ہوگئی ہیں حد تو یہ ہے جمہوریت کے دور میں بھی نفاذ قانون کے ادارے کسی ملزم کو مجرم ثابت کرنے کے لئے انہیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں دے کران سے اپنے مطلب کی بات اگلوالیتے ہیں اور پھر عدالتوں میں بطور ثبوت اپنی باتوں کو پیش کرتے ہیں اب سے 33 سال قبل اقوام متحدہ نے 26 جون 1987 کو اذیت رسانی کو پورے طور پر غیر قانونی قرار دے دیا تھا اور اسے انسانیت کے خلاف ایک ناقابل تلافی جرم گردانا تھا۔لیکن عالمی ادارے کے ذریعہ اس لعنت کو غیر قانونی اور ناقابل تلافی جرم قرار دیئے جانے کے بعد بھی بہت سے لوگ اسے جرم نہیں تصور کرتے ۔ پاکستان کے سوشل میڈیا پر آج کل اس بات کا بڑا چرچہ ہے۔ یہ چرچہ اس لئے شروع ہوا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک رہنما شیری رحمٰن نے پارلیمنٹ میں ...