Posts

پاکستان میں زیر حراست اذیت رسانی کے خلاف بل

اذیت رسانی ایک ایسی لعنت ہے جو مختلف ملکوں اور سماج میں زمانہ ٔقدیم سے بروئے کار لائی جا رہی ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقا کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیلیاں ضرور نظر آئیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ ظلم و جبرکو فروغ دینے والے عناصر ہر دور میں اپنے لئے ظلم ڈھانے کے راستے تلاش کر لیتے ہیں۔ نئے زمانے میں بھی مطلق العنان حکمرانوں کی سرشت میں اس طرح کی باتیں شامل ہوگئی ہیں حد تو یہ ہے جمہوریت کے دور میں بھی نفاذ قانون کے ادارے کسی ملزم کو مجرم ثابت کرنے کے لئے انہیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں دے کران سے اپنے مطلب کی بات اگلوالیتے ہیں اور پھر عدالتوں میں بطور ثبوت اپنی باتوں کو پیش کرتے ہیں اب سے 33 سال قبل اقوام متحدہ نے 26 جون 1987 کو اذیت رسانی کو پورے طور پر غیر قانونی قرار دے دیا تھا اور اسے انسانیت کے خلاف ایک ناقابل تلافی جرم گردانا تھا۔لیکن عالمی ادارے کے ذریعہ اس لعنت کو غیر قانونی اور ناقابل تلافی جرم قرار دیئے جانے کے بعد بھی بہت سے لوگ اسے جرم نہیں تصور کرتے ۔ پاکستان کے سوشل میڈیا پر آج کل اس بات کا بڑا چرچہ ہے۔ یہ چرچہ اس لئے شروع ہوا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک رہنما شیری رحمٰن نے پارلیمنٹ میں ...

ہند-چین سرحد پر فوجوں کی واپسی

ہند-چین سرحدی معاملہ پر چین اور بھارت کے خصوصی نمائندوں کے درمیان دو گھنٹوں کی بات چیت کے بعد فریقین نے اصل کنٹرول لائن سے اپنی اپنی فوجوں کے پیچھے ہٹنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس اعلان سے لداخ میں ہندوستان اور چین کے درمیان پانچ مئی سے جاری کشیدگی کو کم کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور چین کے وزیر خارجہ وینگ ای (Wang Yi) کو علاقائی تنازعہ اور دونوں ملکوں کے درمیان سیکورٹی سے متعلق معاملات کو حل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ دونوں کے درمیان بات چیت کے بعد طے پایا گیا کہ سرحد کے مغربی سیکٹر میں دونوں ملکوں کی فوجیں جلد از جلد مکمل طور پر پیچھے ہٹ جائیں گی۔ اس اعلان کے بعد امید ہے کہ سرحدوں پر اب مکمل طور پر امن بحال ہوجائے گا۔ اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ملکوں کو اصل کنٹرول لائن کی پابندیوں اور اس کا احترام کرنا چاہیے۔نیز یہ کہ کسی کو بھی سرحد کی اصل صورت حال کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ میٹنگ کے فورا بعد خبر آئی کہ فوجوں کی واپسی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ اس خبر کے سننے کے بعد لوگوں نے راحت کی سانس لی کیونکہ کشیدگی کے ب...

موضوع: پاکستان میں مذہبی انتہاپسندوں کا بول بالا

پاکستان کی تحریک انصاف حکومت نے حال ہی میں مذہبی شدت پسندوں کے دباؤ میں آکر اسلام آباد میں پہلے ہندو مندر کی تعمیر پر روک لگا دی۔ وزیراعظم عمران خان نے پہلے تو مندر کی تعمیر کی اجازت دے دی لیکن بعد میں جب شدت پسندوں نے اعتراض کیا اور اس کی تعمیر پر روک لگانے کا مطالبہ کیا تو جیسا کہ ان کی عادت ہے عمران خان نے یوٹرن لیتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں مندر کی تعمیر رکوادی۔ مندر کی تعمیر کی اجازت دینے کے فیصلہ سے حقوق انسانی کیلئے کام کرنے والے لوگ نیز ملک کا ترقی پسند طبقہ کافی خوش تھا اور اسے ایک دانشمندانہ قدم قرار دے رہا تھا لیکن تبھی عمران خان حکومت نے فیصلہ کو منسوخ کردیا جس کی سخت الفاظ میں تنقید کی جارہی ہے۔  دراصل پاکستانی سماج میں شدت پسندوں کا غلبہ ذوالفقار علی بھٹّو کے زمانے سے ہی شروع ہوگیا تھا اگرچہ محمد علی جناح نے 1947 میں کانسٹوینٹ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان ایک ترقی پسند اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ملک ہوگا جہاں اقلیتوں کو اپنے مذہب کے ماننے اور اس کی تبلیغ کی پوری آزادی ہوگی۔ بھٹّو کے زمانے میں آئینی ترمیمات کے ذریعہ احمدیہ فرقہ کو اسلام...

پاکستان اب بھی دہشت گردوں کو بچاتا اورمحفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے 

چند روز قبل کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر جو حملہ ہوا تھا اور جس کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ نے لی تھی۔ اس کے بارے میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور خود وزیراعظم عمران خان نے ہندوستان پر انگلی اٹھا کر شاید یہ سوچا کہ اس طور پر ہندوستان کو بدنام کرکے ، وہ اپنی اس حکمت عملی پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہوجائیں گے ، جس کے تحت وہ اندرون پاکستان دہشت گردوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ انہیں محفوظ پناہ گاہیں بھی مہیا کراتے ہیں اور ٹریننگ اور اسلحوں سے لیس بھی کرتے ہیں۔ عمران خان نے بغیر کسی ثبوت کے الزام تو جڑ دیا اور ساتھ ہی اپنے دعوے کو تقویت دینے کے لئے انہوں نے ایک اٹکل یہ بھی لگائی کہ چونکہ 2008 میں ممبئی پر حملہ ہوا تھا، اس لئے ہندوستان نے انتقامی کارروائی کے طور پر کراچی پر حملہ کرانے کی کوشش کی تھی۔ ایک بڑی نرالی منطق دریافت کی وزیراعظم پاکستان نے ! دراصل ابھی ہفتہ دس روز قبل امریکہ نے یہ کہا تھا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ 2008 کے ممبئی حملوں کا ’’پروجیکٹ منیجر ‘‘پاکستان میں بالکل آزاد گھوم رہا ہے ۔ ممبئی پر ہونے والے لشکرِ طیبہ...

حقانی  نٹ ورک، طالبان اور القاعدہ کے اٹوٹ آپسی رشتے

امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے تعلق سے کوئی چارماہ قبل ایک سمجھوتے پر دستخط ہوئے تھے لیکن اس عرصہ میں ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے یہ امید کی جا سکے کہ افغانستان میں مستقبل قریب میں امن قائم ہونے کا کوئی امکان ہے، تجزیہ کار اس بات پر حیرت ظاہر کر رہے ہیں کہ کیا اس سمجھوتے سے واقعی کچھ حاصل ہونے والا ہے؟ اگر سمجھوتہ ہونے کے بعد سے اب تک کی صورت حا ل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات تو بالکل ہی واضح ہو جاتی ہے کہ طالبان کو نہ تو افغانستان میں قیام امن سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی وہ حکومت افغانستان سے بات چیت کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے ۔ اگر چہ کابل حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی تیاری کر رہی ہے اور طالبان قیدیوں کو رہا بھی کر رہی ہے لیکن دوسری طرف اس ملک میں تشدد کے واقعات بھی ہر روز رونما ہو رہے ہیں ۔ کہیں بم پھٹ رہے ہیں ، کہیں فائرنگ ہو رہی ہے اور کہیں سرکار ی تنصیبات اور عمارتوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ان حملوں میں افغان سیویلین اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان ،حقانی نٹ ورک ، القاعدہ ا...

پاکستان کے بے بنیاد الزامات

جون کے آخری ہفتے میں کراچی کے ’پاکستان اسٹاک ایکسچینج‘کی عمارت پر ہوئے دہشت گردانہ حملے نے ایک مرتبہ پھر انسداد دہشت گردی کے پاکستانی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ اس حملے نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اب تک دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ حالانکہ سلامتی دستوں نے دہشت گردانہ حملے کو ناکام بنانے اور صرف ۸ منٹ میں ہی حملہ آوروں کو ڈھیر کرنے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ دہشت گرد مذکورہ عمارت کے احاطے تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟ اپنی اس ناکامی کو چھپانے اور اپنی کوتاہی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان بھارت پر الزام لگا رہا ہے کہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں کی مدد اور شہ پر یہ حملہ کیا گیا۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس سلسلے کے بے بنیاد الزامات اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ پاکستان کس طرح عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور ہندوستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔حالانکہ ایسے الزامات خود پاکستان کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچنج کی عمارت کے احاطے میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں سلامتی دس...

موضوع : نیپال میں سیاسی بحران

نیپال بھی اس وقت دوسرے ملکوں کی طرح کووڈ ۔19وبا کا مقابلہ کر رہا ہے لیکن اس وبا کے ساتھ اسے ایک بڑے سیاسی بحران کا بھی سامنا ہے کیونکہ حکمراں نیپال کمیونسٹ پارٹی کے کچھ سینئر رہنماؤں نے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔یہ پہلی بار ہے جب قائمہ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران 44 میں سے 31ارکان نے وزیر اعظم اولی کی سخت مخالفت کی ہے۔ قائمہ کمیٹی کی میٹنگ 24 مئی کو ہوئی جس کے تین ایجنڈے تھے۔ اس یجنڈے میں حکومت کی پالیسیوں اور کار کردگیوں کا جائزہ لینا،ہند۔نیپال سرحدی تنازعہ اور اقوام متحدہ کے ملینیم چیلنج کو آپریشن کی پارلیمانی منظوری شامل تھے۔جس کی حکمراں پارٹی کے معروف ارکان سمیت بہت سے گروپوں نے سخت مخالفت کی ہے۔ شروع میں میٹنگ کے دوران ارکان نے اچھی حکمرانی میں نا کامی، بد عنوانی اور کووڈ۔19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں حکومت کی نااہلی کے لئے وزیر اعظم اولی کی سخت تنقید کی تا ہم پارٹی کے اندر گھماسان اس وقت شروع ہو گیا جب پشپ کمل دہل عرف پرچنڈا جو اولی کے ساتھ میٹنگ کی مشترکہ صدارت کر رہے تھے اور مادھو کمار نیپال، جھالا ناتھ کھنل اور بام دیو گوتم جیسے سینئر لیڈروں...