پاکستان اب بھی دہشت گردوں کو بچاتا اورمحفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے
چند روز قبل کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر جو حملہ ہوا تھا اور جس کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ نے لی تھی۔ اس کے بارے میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور خود وزیراعظم عمران خان نے ہندوستان پر انگلی اٹھا کر شاید یہ سوچا کہ اس طور پر ہندوستان کو بدنام کرکے ، وہ اپنی اس حکمت عملی پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہوجائیں گے ، جس کے تحت وہ اندرون پاکستان دہشت گردوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ انہیں محفوظ پناہ گاہیں بھی مہیا کراتے ہیں اور ٹریننگ اور اسلحوں سے لیس بھی کرتے ہیں۔ عمران خان نے بغیر کسی ثبوت کے الزام تو جڑ دیا اور ساتھ ہی اپنے دعوے کو تقویت دینے کے لئے انہوں نے ایک اٹکل یہ بھی لگائی کہ چونکہ 2008 میں ممبئی پر حملہ ہوا تھا، اس لئے ہندوستان نے انتقامی کارروائی کے طور پر کراچی پر حملہ کرانے کی کوشش کی تھی۔ ایک بڑی نرالی منطق دریافت کی وزیراعظم پاکستان نے !
دراصل ابھی ہفتہ دس روز قبل امریکہ نے یہ کہا تھا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ 2008 کے ممبئی حملوں کا ’’پروجیکٹ منیجر ‘‘پاکستان میں بالکل آزاد گھوم رہا ہے ۔ ممبئی پر ہونے والے لشکرِ طیبہ کے حملے میں بڑی زبردست منصوبہ بندی کی گئی تھی اور مختلف سطحوں پر آئی ایس آئی کے تربیت یافتہ دہشت گردوں نے اپنا اپنا رول نبھایا تھا۔ جس دہشت گرد کو پروجیکٹ منیجر کہا جاتا ہے ، اس کا نام ہے ساجد میر! ہندوستان نے متعدد بار پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ساجد میر کو ہندوستان کے حوالے کرے لیکن ظاہر ہے پاکستان ساجد میر کو ہندوستان کے حوالے کیوں کرنے لگا!اس نے تو ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کے خلاف گزشتہ سال تک کوئی ایسی کارروائی نہیں کی تھی جس سے لشکر طیبہ کے بانی اور سرغنہ پر کوئی آنچ آسکے۔ وہ تو فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کی سخت وارننگ کی وجہ سے اس نے یہ کارروائی محض اس لئے کی تھی کہ کہیں وہ بلیک لسٹ میں شامل نہ کر لیا جائے۔پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان اس حیثیت سے بخوبی واقف ہیں کہ لشکر طیبہ کو ہمیشہ آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کی حمایت حاصل رہی ہے اور حافظ سعید نے جو فلاحی اداروں کے نام پر اتنی بڑی سلطنت قائم کر رکھی ہے، اس میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی پوری حمایت حاصل رہی ہے ، حتی کہ ان کے بعض اداروں کو حکومت پنجاب سے گرانٹ بھی ملتی رہی ہے۔ عمران خان کو یہ بھی معلوم ہے کہ پاکستان کے لاکھ انکار کے باوجود یہ بات دنیا کی نظروں سے نہ چھپ سکی کہ ممبئی حملوں کی تیاری بہت بڑی منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ ہر طرح کے ثبوت اور شواہد بھی سامنے آئے ۔ ممبئی پہنچ کر حملے کرنے والے دہشت گرد ایک چھوڑ کر سب کے سب مارے گئے تھے۔ ایک دہشت گرد اجمل قصاب زندہ پکڑا گیا تھا، جس پر مقدمہ چلا اور پوری عدالتی کارروائی کے بعد اسے پھانسی دی گئی تھی۔ اجمل قصاب کو پاکستان مسلسل پاکستانی شہری ماننے سے انکار کرتا رہا لیکن جب خود پاکستانی میڈیا نے چھان بین کرکے یہ پتہ لگایا کہ وہ واقعی پاکستانی ہے،اس کے گاؤں ، والدین اور اس کے بیک گراؤنڈ کی پوری تفصیل جب سامنے آئی تو پھر حقیقت کو جھٹلانا ناممکن تھا۔ ان باتوں کا اعتراف جب اس وقت کے قومی سلامتی کے مشیر نے کھلم کھلا کیا تھا کہ تو انہیں فوراً ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔ ان حملوں میں پاکستانی نژاد ڈیوڈ ہیڈلی اور تہور رانا بھی ملوث تھے اور ان پر بھی امریکی عدالت میں مقدمہ چلا ،جرم ثابت ہوا اور سزا بھی ہوئی۔ پاکستان نے بھی ممبئی حملوں میں ملوث کچھ لوگوں کے خلاف مقدمہ قائم کیا لیکن آج تک اس کی کارروائی پوری نہیں ہوئی بلکہ اس کے برعکس سب سے سینئر دہشت گرد ذکی الرحمٰن لکھوی کو ضمانت بھی مل گئی اور وہ کئی برسوں سے آزاد ہے۔
ساجد میر انہی حملوں کا پروجیکٹ منیجر تھا اور اسے ہندوستان اور امریکہ دونوں نے ملزم گردانا ہے ، ہندوستان لمبے عرصے سے اس کی حوالگی کی مانگ کر رہا ہے۔ ممبئی حملوں میں جو 166 افراد ہلاک ہوئے تھے ان میں 6 امریکی شہری بھی تھے۔ گزشتہ سال کی امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی دہشت گردی سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ پاکستان نے گزشتہ سال لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کے خلاف کچھ کارروائی کی لیکن اس تنظیم کے دوسرے اعلیٰ جنگجو لیڈروں کو وہ اب بھی محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرا رہا ہے اور وہ سب کے سب آزاد گھوم بھی رہے ہیں، ساجد میر انہی میں سے ایک ہے۔ اس کے خلاف یہ الزام ہے کہ اس نے ممبئی حملوں کے سلسلے میں سب سے اہم منصوبہ ساز کا رول ادا کیا تھا۔ حملوں کے دوران وہ نہ صرف اس پلان کی عمل آوری کی نگرانی کر رہا تھا بلکہ اپنے ساتھیوں کو ہدایت بھی دے رہا تھا۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ آنے کے بعد مشہور خبر رساں ایجنسی رائٹرس نے پاکستان کی وزارت خارجہ سے اس کا رد عمل جاننے کی درخواست کی تھی لیکن فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔ یہ ہے دہشت گردی کے معاملے میں پاکستان کی کارکردگی!پوری دنیا اس کی اس کارکردگی سے واقف ہے۔ عمران خان نے پارلیمنٹ میں ہندوستان پر الزام لگایا تھا ۔پاکستان کے پاس لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی خونخوار تنظیموں کی مدافعت میں کچھ بھی بولنے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ لہٰذا وہ اسی قسم کے جھوٹے الزام لگاکر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ جس دن کراچی حملے کے بارے میں انہیں کوئی ثبوت مل جائے کہ اس میں ہندوستان کا ہاتھ ہے یا یہ کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی کس نے اور کہاں کی تو وہ ضرور اپنا کیس پیش کریں۔ ہندوستان ایسے مجرموں کو بالکل نہیں بخشے گا ، وہ کسی بھی دہشت گرد کا بچاؤ نہیں کرے گا۔ ہندوستان یہ بات بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ کوئی ملک یا کسی ملک کی فوج اگر دہشت گردوں کی سرپرستی کرتی ہے تو وہ ایک دن خود بھی ان کے نشانے پر آجاتی ہے۔ عمران خان سے بہتر کون جانتا ہے کہ مولانا سمیع کا وہ ادارہ صوبۂ خیبر پختونخوا میں واقع ہے جسے دہشت گردوں کی یونیورسٹی بھی کہا جاتا ہے ۔ یہیں سے طالبان کے بڑے بڑے لیڈربھی فارغ ہوئے تھے۔ اس صوبے میں عمران کی پارٹی کی حکومت ہے جو مولانا سمیع کے مذکورہ ادارے کو بہت بڑی گرانٹ بھی دیتی ہے۔
Comments
Post a Comment