موضوع : نیپال میں سیاسی بحران



نیپال بھی اس وقت دوسرے ملکوں کی طرح کووڈ ۔19وبا کا مقابلہ کر رہا ہے لیکن اس وبا کے ساتھ اسے ایک بڑے سیاسی بحران کا بھی سامنا ہے کیونکہ حکمراں نیپال کمیونسٹ پارٹی کے کچھ سینئر رہنماؤں نے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔یہ پہلی بار ہے جب قائمہ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران 44 میں سے 31ارکان نے وزیر اعظم اولی کی سخت مخالفت کی ہے۔ قائمہ کمیٹی کی میٹنگ 24 مئی کو ہوئی جس کے تین ایجنڈے تھے۔ اس یجنڈے میں حکومت کی پالیسیوں اور کار کردگیوں کا جائزہ لینا،ہند۔نیپال سرحدی تنازعہ اور اقوام متحدہ کے ملینیم چیلنج کو آپریشن کی پارلیمانی منظوری شامل تھے۔جس کی حکمراں پارٹی کے معروف ارکان سمیت بہت سے گروپوں نے سخت مخالفت کی ہے۔

شروع میں میٹنگ کے دوران ارکان نے اچھی حکمرانی میں نا کامی، بد عنوانی اور کووڈ۔19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں حکومت کی نااہلی کے لئے وزیر اعظم اولی کی سخت تنقید کی تا ہم پارٹی کے اندر گھماسان اس وقت شروع ہو گیا جب پشپ کمل دہل عرف پرچنڈا جو اولی کے ساتھ میٹنگ کی مشترکہ صدارت کر رہے تھے اور مادھو کمار نیپال، جھالا ناتھ کھنل اور بام دیو گوتم جیسے سینئر لیڈروں نے وزیر اعظم اولی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔ ان کا الزام تھا کہ جناب اولی نہ صرف پارٹی اور حکومت چلانے میں نا کام رہے ہیں بلکہ انہوں نے بھارت اور نیپال کے کچھ لیڈروں پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ انہیں عہدے سے ہٹانے کی سازش رچ رہے ہیں جو بالکل بے بنیاد ہے۔ان رہنماؤں کا دعویٰ تھا کہ اس بیان کے بعد جناب اولی اخلاقی طور پر پارٹی اور حکومت کی قیادت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔

وزیر اعظم اولی نے کہا تھا کہ بھارت اور ملک کے اندر کی طاقتیں ان کی حکومت کو گرانے کی سازشیں رچ رہی ہیں کیونکہ انہوں نے نیپال کے اس نئے نقشہ کو منظور کرانے کی بھر پور کوشش کی تھی جس میں کالا پانی، لیپو لیکھ اور لمپیا دھرا کو نیپال کے حصوں کے طور پر دکھایا گیا ہے ، آپ کو بتا دیں کہ یہ تینوں علاقے بھارت کے خود مختار علاقے ہیں۔

اس سے پہلے بھی پرچنڈا کے دھڑے نے وزیر اعظم اولی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن اس وقت جناب اولی نے لوگوں کی توجہ نقشہ کے تنازعہ کی جانب مبذول کرا کے خود کو بچا لیا تھا۔ انہوں نے پارٹی میں اتحاد بر قرار رکھنے اور اپنی حکومت کی بر قراری کے لئے چین کی حمایت حاصل کی تھی تاکہ بیجنگ پارٹی کے سینئر رہنماؤں پر دباؤ ڈال کر انہیں بغاوت کرنے سے روک سکے۔

کے پی شرما اولی کی قیادت والی سی پی این ۔یو ایم ایل اور پرچنڈا کی قیادت والی سی پی این۔ماؤسٹ سنٹر کے انضمام کے بعد 21فروری 2018 کو این سی پی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ان دونوں پارٹیوں نے ایک سات نکاتی معاہدے پر دستخط کئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ کارل مارکس اور لینن کے اصول ہی حکمرانی کے رہنما اصول ہوں گے۔ دونوں پارٹیوں کے انضمام کا اہم مقصد ملک میں سماج واد اور سماجی انصاف قائم کر کے معاشی خوشحالی لانا تھا۔ انضمام سے قبل دونوں پارٹیوں نے 2017 کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے انتخابی اتحاد کیاتھا اور انتخابات میں انہیں اکثریت بھی حاصل ہو گئی۔

اولی حکومت کی نا کامی اسی بات سے ظاہر ہے کہ 9جون سے راجدھانی کٹھمنڈو اور ملک کے دوسرے شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کووڈ۔19 وبا کا بہتر طور پر مقابلہ کرنے کا حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ نیپال میں کورونا وائرس سے اب تک چودہ ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے چوبیس کی موت ہو چکی ہے ۔

ادھر نسلی اور اقلیتی گروپوں کی ایک بڑی تعداد حکومت کے خلاف 23جون سے مظاہرے کر رہی ہے۔یہ گروپ شہریت سے متعلق اس نئے بل کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں جسے حکومت نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔ یہ مظاہرے کٹھمنڈو اور ترائی کے علاقہ میں برابر جاری ہیں۔

ثقافتی ،تاریخی،اور جغرافیائی رشتوں کی بنیاد پر بھارت اور نیپال کے دو طرفہ تعلقات ہمیشہ شاندار رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات 17جون 1947کو قائم ہوئے تھے۔ کھلی ہوئی سرحداور امن و دوستی سے متعلق 1950کا معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کی اہم خصوصیات ہیں۔ بھارت پر امن بقائے باہمی کے اصولوں کا پابند عہد ہے۔ وہ نیپال کی خواہشات کو بخوبی سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ برابر کے شراکت دار کے طور پر تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے اس لئے کٹھمنڈو کو بھی نئی دہلی کے جذبات کو سمجھنےاور اسی انداز میں جواب دینے کی ضرورت ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ