موضوع: پاکستان میں مذہبی انتہاپسندوں کا بول بالا
پاکستان کی تحریک انصاف حکومت نے حال ہی میں مذہبی شدت پسندوں کے دباؤ میں آکر اسلام آباد میں پہلے ہندو مندر کی تعمیر پر روک لگا دی۔ وزیراعظم عمران خان نے پہلے تو مندر کی تعمیر کی اجازت دے دی لیکن بعد میں جب شدت پسندوں نے اعتراض کیا اور اس کی تعمیر پر روک لگانے کا مطالبہ کیا تو جیسا کہ ان کی عادت ہے عمران خان نے یوٹرن لیتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں مندر کی تعمیر رکوادی۔ مندر کی تعمیر کی اجازت دینے کے فیصلہ سے حقوق انسانی کیلئے کام کرنے والے لوگ نیز ملک کا ترقی پسند طبقہ کافی خوش تھا اور اسے ایک دانشمندانہ قدم قرار دے رہا تھا لیکن تبھی عمران خان حکومت نے فیصلہ کو منسوخ کردیا جس کی سخت الفاظ میں تنقید کی جارہی ہے۔
دراصل پاکستانی سماج میں شدت پسندوں کا غلبہ ذوالفقار علی بھٹّو کے زمانے سے ہی شروع ہوگیا تھا اگرچہ محمد علی جناح نے 1947 میں کانسٹوینٹ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان ایک ترقی پسند اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ملک ہوگا جہاں اقلیتوں کو اپنے مذہب کے ماننے اور اس کی تبلیغ کی پوری آزادی ہوگی۔ بھٹّو کے زمانے میں آئینی ترمیمات کے ذریعہ احمدیہ فرقہ کو اسلام کے دائرے سے خارج کردیا گیا اگرچہ وہ خود کو مسلمان کہتا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں تو احمدیہ فرقہ کو نشانہ بنایا گیا لیکن ان کے بعد جب جنرل ضیاء الحق کا دور آیا تو انہوں نے پورے پاکستانی سماج کو ہی اسلامی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی۔ 1977 سے 1988 تک کے اپنے دور میں جنرل ضیا نے حدود آرڈیننس کے ذریعہ نہ صرف سزا کے نظام کو بلکہ تعلیمی اور بینکنگ نظام کو بھی اسلامی رنگ میں رنگ دیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے افغانستان میں سوویت فوجوں کے خلاف جہادیوں کو جو حمایت فراہم کی اس سے پاکستان میں جہادی گروپوں کے قیام میں کافی مدد ملی۔ جنرل ضیاء الحق کی ایک ہوائی حادثہ میں موت کے بعد بے نظیر بھٹو 1988 میں وزیراعظم بنیں۔ لیکن وہ بھی 1996 میں مذہبی شدت پسندی کا شکار ہوگئیں۔ اس کے بعد نواز شریف نے دو بار وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا لیکن مذہبی انتہاپسندی کو وہ بھی روکنے میں ناکام رہے۔ تاہم 1999 میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعہ جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے اس لعنت پر قابو پانے کی کوشش ضرور کی۔ اس سلسلہ میں اسلام آباد کی لال مسجد کا واقعہ سبھی کو یاد ہوگا۔ لیکن پاکستانی سماج میں مذہبی شدت پسندی کی جڑی اتنی پھیل چکی تھیں کہ پرویز مشرف بھی اسے روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
نواز شریف 2013 میں جب تیسری بار وزیراعظم بنے تو مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی اپنے شباب پر پہنچ چکی تھی۔ مئی میں نواز شریف کے اقتدار سنبھالنے سے قبل جنوری 2013 میں خودکش حملہ آوروں نے کوئٹہ میں ایک اسنوکر ہال پر حملہ کرکے تقریباً100 لوگوں کو ہلاک کردیا جس میں زیادہ تر کا تعلق شیعہ فرقہ سے تھا۔ اس کے بعد ستمبر میں پاکستانی طالبان سے الگ ہوئے ایک گروپ نے پشاور کے ایک چرچ پر حملہ کرکے عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے 119 لوگوں کو ہلاک کردیا۔ 2013 کے عام انتخابات سے قبل اور اس کے بعد بھی پاکستانی طالبان نے ان سیاستدانوں کو نشانہ بنایا جو سیکولر سمجھے جاتے تھے۔ مذہبی انتہاپسندوں کے خلاف چاہے جتنی بھی کارروائی کی گئی ہو، ان کے حوصلے پست نہ ہوسکے۔ تحریک طالبان پاکستان کے رہنما حکیم اللہ محسود کے امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد پاکستانی طالبان نے واضح کردیا کہ وہ اس اسلامی قانون کے نفاذ کے علاوہ کچھ ماننے کو تیار نہیں جس کی وہ پیروی کرتے ہیں۔ اس سے قبل 2011 میں صوبۂ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کی ہلاکت آج بھی ذہنوں میں محفوظ ہے۔
اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان نے بھی مذہبی انتہاپسندی کو روکنے کیلئے بڑے بڑے وعدے کئے تھے۔ لیکن اقتدار میں آتے ہی انہیں زمینی حقیقت کا پتہ چل گیا۔ اب ہر ہر موڑ پر انہیں انتہاپسندوں کی ضد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ ہربار ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ مندر کی تعمیر کے فیصلہ کے سلسلے میں مذہبی شدت پسندوں کے سامنے انہیں جھکنا پڑا۔ ستمبر 2018 میں شدت پسندوں کے کہنے پر پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہر معاشیات آطف آر میاں کو وزیراعظم کی قیادت والی معاشی مشاورتی کونسل سے باہر کردیا گیا تھا کیونکہ ان کا تعلق احمدیہ فرقہ سے تھا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ وہ آطف میاں کی وجہ سے کونسل کو تقسیم نہیں کرنا چاہتی تھی۔ نومبر 2018 میں عمران حکومت نے آسیہ بی بی کے کیس سے متعلق تحریک لبیک پاکستان کے سارے مطالبات تسلیم کرلئے۔ اس نے احتجاج کے دوران گرفتار کئے گئے تنظیم کے تمام لوگوں کو رہا کرنے کا بھی اعلان کردیا۔ سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو اہانت اسلام کے تمام الزامات سے بری کردیا لیکن رہا کرنے کے بجائے انہیں اگلے 6 ماہ تک سرکار کی تحویل میں رکھا گیا۔ شدت پسندوں کے ڈر سے بالآخر انہیں ملک چھوڑ کر باہر جانا پڑا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے اعلان کیا کہ ان کی وزارت روئت ہلال کمیٹی کو اپنی نگرانی میں لے گی تاکہ چاند کے دکھائی دینے یا نہ دکھائی دینے کا معاملہ سائنس کی بنیاد پر طے ہوسکے لیکن کمیٹی میں ملاؤں کی موجودگی کے باعث ان کی باتوں پر دھیان نہیں دیا گیا۔ اس سال مئی میں حکومت نے احمدیہ فرقہ کو اقلیتی کمیشن میں نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن مذہبی انتہاپسندوں کے غم وغصہ کو دیکھ کر حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑا۔
یہ تمام واقعات اور مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان میں مذہبی شدت پسندوں کو کنٹرول کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں۔ یہ زہر پاکستانی سماج کی جڑوں تک سرائت کر گیا ہے۔ ہر طرف ملاؤں کا بول بالا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کا ایک جدید ملک کی حیثیت سے ترقی کرنا ناممکن سا نظر آتا ہے۔
Comments
Post a Comment