حقانی  نٹ ورک، طالبان اور القاعدہ کے اٹوٹ آپسی رشتے



امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے تعلق سے کوئی چارماہ قبل ایک سمجھوتے پر دستخط ہوئے تھے لیکن اس عرصہ میں ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے یہ امید کی جا سکے کہ افغانستان میں مستقبل قریب میں امن قائم ہونے کا کوئی امکان ہے، تجزیہ کار اس بات پر حیرت ظاہر کر رہے ہیں کہ کیا اس سمجھوتے سے واقعی کچھ حاصل ہونے والا ہے؟ اگر سمجھوتہ ہونے کے بعد سے اب تک کی صورت حا ل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات تو بالکل ہی واضح ہو جاتی ہے کہ طالبان کو نہ تو افغانستان میں قیام امن سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی وہ حکومت افغانستان سے بات چیت کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے ۔ اگر چہ کابل حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی تیاری کر رہی ہے اور طالبان قیدیوں کو رہا بھی کر رہی ہے لیکن دوسری طرف اس ملک میں تشدد کے واقعات بھی ہر روز رونما ہو رہے ہیں ۔ کہیں بم پھٹ رہے ہیں ، کہیں فائرنگ ہو رہی ہے اور کہیں سرکار ی تنصیبات اور عمارتوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ان حملوں میں افغان سیویلین اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان ،حقانی نٹ ورک ، القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ کے مابین ایک طرح کی مفاہمت ہے ۔ ان میں آپس میں کچھ نظریاتی اختلافات بھی ہیں لیکن ان سب کا مقصد بہر حال ایک ہی جیسا ہے۔ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی تو مشترکہ طور پر سر پرستی بھی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کرتی آئی ہے۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان بنیادی طور پر جس مقصد کے تحت سمجھوتہ ہو اتھا اس کا حاصل یہ تھا کہ طالبان، امریکی فوجیوں پر حملہ نہیں کرے گا، مخالف گروپوں سے بھی اس کا کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ اس کے عوض امریکہ اپنی فوجیں واپس بلالے گا اور ایک ہزار کے قریب جو طالبانی جنگجو افغانستان کی جیلوں میں بند ہیں انہیں رہا بھی کر دیا جائے گا ۔ اس کے مطابق طالبان قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع ہو گیا اور امریکہ اپنی فوجیں واپس بلانے کی تیاریاں بھی کر رہا ہے لیکن طالبان کے رویوں کو اگر دیکھا جائے تو زمینی حقیقت کچھ اور نظر آتی ہے۔ اس نے القاعدہ اور حقانی نٹ ورک سے رشتہ نہ صرف قائم رکھا بلکہ ان رشتوں کو اور مضبوط بنانے کے لئے نئی حکمت عملی بھی اختیار کر رکھی ہے ۔

امریکہ اور طالبان کے مابین سمجھوتہ ہو جانے کے بعد مارچ کے مہینہ میں کابل کے ایک گرودوارے پر حملہ ہوا جس میں 27 افراد جاں بحق ہوئے ۔ افغانستان کے خفیہ محکمہ نے اس سلسلے میں ایک پاکستانی شہری اسلام فاروقی کو گرفتار کیا جو لشکر طیبہ اور تحریک طالبان پاکستان سے قریبی رابطہ رکھتا ہے ۔ مئی کے مہینہ میں ننگر ہار میں ایک جنازے کے جلوس پر خود کش حملہ ہوا جس میں 24 افراد ہلاک ہوئے اس کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے لی۔ اسی دن کابل میں دہشت گردوں نے ایک میٹرنیٹی اسپتال پر حملہ کیا جس میں حاملہ عورتوں اور نوزائیدہ بچوں سمیت 16 افراد لقمہ اجل بنے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری طالبان نے نہیں لی ۔ الٹے بعض حملوں کی مذمت کی اور اس طور پر یہ تاثر دیا کہ وہ ان پر تشدد کارروائیوں میں ملوث نہیں تھا۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ ان تمام گروپوں کا آپس میں رابطہ ہے۔ ان میں سے کسی گروپ کا نام آتا ہے یا کوئی گروپ ذمہ داری لیتا ہے تو طالبان اس الزام سے بچ نکلتا ہے اور اس طور پر امریکہ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ ان حملوں میں ملوث نہیں ہے ۔ کسی دوسرے گروپ کی حرکتوں کا وہ ذمہ دار نہیں ہو سکتا ، یعنی 

رند کے رند رہے ، ہاتھ سے جنت نہ گئی

حقیقت تو یہ ہے کہ حقانی نیٹ ورک ،طالبان اور القاعدہ کے تعلقا ت دہائیوں پر محیط ہیں۔ ان تینوں کی سر پرستی آئی ایس آئی کرتی ہے۔ حالیہ دنوں میں طالبان نے نظریاتی اختلاف کے باوجود افغانستان میں سر گرم اسلامک اسٹیٹ خراسان سے بھی مفاہمت کر رکھی ہے۔ دوسری طرف حقانی نٹ ورک نے بھانت بھانت کے جہادی گروپوں کو اپنے حلقہ اثر میں شامل کر لیا ہے ، ان میں سے کچھ گروپوں سے اس کا سیاسی اور نظریاتی اختلاف بھی ہے ۔ ان میں تحریک طالبان پاکستان اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور لشکر طیبہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان گروپوں کی مختلف موقعوں اور مختلف سطحوں پر وہ ہر طرح کی مدد کرتا ہے ۔

پاکستانی فوج ان تمام گروپوں کو اپنا مسلح اتحادی تصور کرتی ہے اور انہی کی مدد سے وہ ہندوستان اور افغانستان میں اپنے اسٹریٹیجک مقاصد پورے کرنا چاہتی ہے۔انہیں وہ مالی مدد بھی دیتی ہے اور بوقت ضرورت انہیں کسی حملے سے بچاتی بھی ہے۔

اگر مختصراً کہا جائے تو یہی کہا جائے گا کہ امریکہ ،طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو ایک دوسرے سے الگ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا جس کی وجہ سے امریکی فوجوں کی افغانستان سے واپسی اور افغانستان میں قیام امن کے معاملے میں پیچیدگی پیدا ہوتی نظر آتی ہے۔ گویا اس طور پر طالبان نے اپنا باقاعدہ سایسی وجود بھی قائم کر لیا اور افغانستان میں قتل و غارت گری کا کھیل بھی کھیل رہا ہے ۔ وہ پہلے ہی عوامی طور پر ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا لیکن دوسرے گروپ یہ ذمہ داری لے کر اسے بے داغ ثابت کرنے میں اس کا تعاون کر رہے ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ حقانیوں میں سے ایک سراج الدین حقانی 2015 سے طالبان کا ڈپٹی لیڈر رہا ہے ۔ طالبان کے جنگجو گروپ میں 20 فیصد حصہ حقانی نٹ ورک کے انتہا پسندوں پر مشتمل ہے جن کی بحالی اور ٹریننگ پاکستان میں ہوئی ہے۔ سیاسی طور پر حقانیوں نے اس بات کی بھر پور کوشش کی کہ امریکہ سے سمجھوتہ کرتے وقت طالبان زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔ سراج حقانی نے ہی نیو یارک ٹائمز میں وہ مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا’’ہم طالبان کیا چاہتے ہیں‘‘؟ اسی مضمون میں اس نے طالبان کے مطالبات کی فہرست پیش کی تھی۔ اب حقانی نیٹ ورک یہ امید کر رہا ہے کہ طالبان جب اندرون افغانستان بات چیت کی میز پر بیٹھیں گے تو ان کی پوزیشن بہت مضبوط ہوگی اور وہ بہت کچھ حسب منشا حاصل کر سکیں گے ۔ اس طرح نہ صرف طالبان کی افغانستان پر گرفت مضبوط ہوگی بلکہ آئی ایس آئی کو بھی کھل کرکھیلنے کا موقع ملے گا۔

ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ بیشتر سیاسی تجزیہ کار بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والا سمجھوتہ افغانستان کے حق میں کم ،طالبان کے حق میں زیادہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ