پاکستان کے بے بنیاد الزامات
جون کے آخری ہفتے میں کراچی کے ’پاکستان اسٹاک ایکسچینج‘کی عمارت پر ہوئے دہشت گردانہ حملے نے ایک مرتبہ پھر انسداد دہشت گردی کے پاکستانی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔
اس حملے نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اب تک دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ حالانکہ سلامتی دستوں نے دہشت گردانہ حملے کو ناکام بنانے اور صرف ۸ منٹ میں ہی حملہ آوروں کو ڈھیر کرنے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ دہشت گرد مذکورہ عمارت کے احاطے تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟ اپنی اس ناکامی کو چھپانے اور اپنی کوتاہی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان بھارت پر الزام لگا رہا ہے کہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں کی مدد اور شہ پر یہ حملہ کیا گیا۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس سلسلے کے بے بنیاد الزامات اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ پاکستان کس طرح عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور ہندوستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔حالانکہ ایسے الزامات خود پاکستان کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچنج کی عمارت کے احاطے میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں سلامتی دستوں نے ۴ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔دہشت گردانہ حملے کے دوران ۴ سلامتی اہلکار بھی مارے گئے تھے۔بتایا گیا تھا کہ دہشت گرد خود کار بندوق’ اے کے ۴۷ اور گرینیڈ سے مسلح تھے۔ اپنے سیکورٹی اہلکاروں کی مبینہ کامیابی کے دعوے کرنے والوں کے پاس اس بات کاکیا جواب ہے کہ دہشت گرد اتنا اسلحہ لیکر ایک بیحد اہم اور حساس عمارت تک پہنچنے میں کس طرح کامیاب ہو گئے؟ظاہر ہے دہشت گردوں کے عمارت تک پہنچنے میں کسی غیر ملکی نہیں بلکہ داخلی عناصر کا ہی ہاتھ ہو سکتا ہے۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مارے گئے دہشت گردوں کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی یا بی ایل اے نام کی تنظیم سے تھا۔ پاکستان ایک عرصے سے یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ مذکورہ تنظیم کو بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی حمایت اور تعاون حاصل ہے۔ظاہر ہے اس الزام کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے اور دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان کے کسی بھی حصّے میں نہ تو دہشت گردوں کا کوئی تربیتی کیمپ ہے اور نہ ہندوستان کی پڑوسی ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کو ئی پالیسی کبھی رہی ہے۔پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ پر امن طریقے سے رہنا اور آپسی مسائل کو بات چیت سے حل کرنا ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں شامل ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نہ صرف ہندوستان کے کئی علاقوں میں دہشت گردانہ حملے کرنے والوں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے بلکہ آج بھی سرحد پار سے دہشت گردوں کی در اندازی کی کوششیں پاکستانی فوج اور حکومت کی حمایت و مدد کے سبب جاری ہیں۔ ممبئی حملوں کے ملزمان کو عالمی دباو کے باوجود ابھی تک انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا ہے اور حاٖفظ سعید جیسا ہندوستان، امریکہ اور دیگر ممالک کو مطلوب دہشت گرد پاکستان میں کھلے طور پر گھوم رہا ہے۔ طالبان کو پاکستان کی حمایت بھی جگ ظاہر ہے۔خود پاکستانی قیادت کئی مرتبہ عالمی برادری کے سامنے یہ اعتراف کر چکی ہے کہ اس نے دہشت گردوں کی تربیت اور ان کی ہر طرح سے سرگرم حمایت کی جبکہ ہندوستان کا اس معاملے میں ریکارڈ بہت صاف ستھرا ہے ۔
ایسے حالات میں پاکستان کا مذکورہ دہشت گردانہ حملے کے تعلق سے ہندوستان پر الزام لگانا دراصل اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کے سوا کچھ بھی نہیں۔پاکستان بلوچستان کے ساتھ کیے گئے سوتیلے رویّے کی پردہ پوشی کے لیے بھی ہندوستان پر یہ الزام لگاتا رہا کہ اس کی خفیہ ایجنسیاں بلوچ عوام کو بغاوت پر آمادہ کرنے کا کام کرتی ہیں۔حالانکہ سچّائی یہ ہے کہ پاکستان کی فیڈرل حکومت نے کبھی بھی بلوچ عوام کو ان کے جائز حقوق دینے میں ایمانداری نہیں دکھائی ۔جس کے سبب بلوچ عوام فیڈرل حکومت سے سخت ناراض ہیں۔ بلوچستان ابھی تک ترقی کی روشنی سے دور ہے ۔جبکہ پاکستان کے قدرتی وسائل میں بلوچستان کا حصّہ کسی بھی ریاست سے کم نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی ہے۔یہ الگ بات کہ ان وسائل کا زیادہ فائدہ پاکستان کی دیگر ریاستوں کے عوام کو مل رہا ہے۔اپنے ساتھ ہورہی ان ناانصافیوں کے سبب ہی بلوچستان کے عوام فیڈرل حکومت سے ہمیشہ ناراض رہے ہیں۔ بد قسمتی سے بلوچ عوام کی ناراضگی اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کرنے کی بجائے فیڈرل حکومتیں ہندوستان کو ان داخلی حالات کے لیے مورد الزام ٹھہراکر اپنی ذمہ داریوں سے پلّہ جھاڑتی رہی ہیں۔ بلوچستان اگر بے حد پسماندہ ہے،اگر وہاں کی معیشت خراب حالت میں ہے،اگر وہاں تعلیمی ادارے کم ہیں اور عوام بھوک و مفلسی کے شکار ہیں تو اس کے لیے آخر کون ذمہ دار ہے۔؟ کراچی کے دہشت گردانہ حملے کے لیے پاکستان کا ہندوستان پر الزام لگانا درحقیقت اپنی ذمہ داریوں اور جواب دہی سے فرار کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں،اور عالمی برادری یقیناً ان عوامل سے اچھی طرح واقف ہے۔ اسلئے ان الزامات کو سنجیدگی سے لینے کی چنداں ضرورت نہیں۔
Comments
Post a Comment