ہند-چین سرحد پر فوجوں کی واپسی



ہند-چین سرحدی معاملہ پر چین اور بھارت کے خصوصی نمائندوں کے درمیان دو گھنٹوں کی بات چیت کے بعد فریقین نے اصل کنٹرول لائن سے اپنی اپنی فوجوں کے پیچھے ہٹنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس اعلان سے لداخ میں ہندوستان اور چین کے درمیان پانچ مئی سے جاری کشیدگی کو کم کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور چین کے وزیر خارجہ وینگ ای (Wang Yi) کو علاقائی تنازعہ اور دونوں ملکوں کے درمیان سیکورٹی سے متعلق معاملات کو حل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ دونوں کے درمیان بات چیت کے بعد طے پایا گیا کہ سرحد کے مغربی سیکٹر میں دونوں ملکوں کی فوجیں جلد از جلد مکمل طور پر پیچھے ہٹ جائیں گی۔ اس اعلان کے بعد امید ہے کہ سرحدوں پر اب مکمل طور پر امن بحال ہوجائے گا۔ اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ملکوں کو اصل کنٹرول لائن کی پابندیوں اور اس کا احترام کرنا چاہیے۔نیز یہ کہ کسی کو بھی سرحد کی اصل صورت حال کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

میٹنگ کے فورا بعد خبر آئی کہ فوجوں کی واپسی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ اس خبر کے سننے کے بعد لوگوں نے راحت کی سانس لی کیونکہ کشیدگی کے بعد سے دونوں ملکوں نے علاقہ میں اپنی اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کرنا شروع کردیا تھا۔ اب جب کہ فوجوں کے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ ہوگیا ہے، ہندوستان کو فوجوں کی واپسی کے عمل پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ نئی دہلی کا مطالبہ ہے کہ اپریل 2020 میں سرحد پر جو صورت حال تھی وہی صورت حال بحال ہونی چاہیے۔ اس سال پانچ مئی سے اصل کنٹرول لائن پر صورت حال بگڑنے لگی تھی کیونکہ چینی فوجی ہاتھا پائی اور پتھربازی کرکے متنازعہ علاقہ کے ’’گرے زون‘‘ میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ چینی فوجیوں کی اس کوشش کا ہندوستانی فوجیوں نے منھ توڑ جواب دیا تھا۔

اصل صورت حال بحال کرنے کے لیے چینی فوجوں کو پینگانگ ٹسو (Pangang Tso)، چار سے آٹھ تک کے فنگر پوائنٹس،گلون میں پیٹرول پوائنٹ نمبر 14، 15 اور 17، گوگراہاٹ اسپرنگس اور دولت بیگ اولڈی کے نزدیک دیپ سنگ میدان اور گلون کی پہاڑیوں سے پیچھے ہٹنا ہوگا۔ سرحد کے مغربی سیکٹر میں 65 نگرانی پوائنٹس میں سے چند علاقوں میں حالیہ دنوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

1990 کی دہائی میں اعتماد سازی کے اقدامات کے میکنزم کے تحت دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان فوجوں کے پیچھے ہٹنے کے عمل پر تبادلۂ خیال کئی بار ہوا۔ چھ جون اور 22 جون کو مقامی کمانڈروں کے درمیان میٹنگ میں اس موضوع پر تبادلۂ خیال کیا گیا لیکن 15 جون کو وادیٔ گلون میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت اور چین کے 43فوجیوں کی ہلاکت سے رشتہ میں تلخی پیدا ہوگئی۔

وزیراعظم نریندرمودی نے تین جولائی کو لداخ کا دورہ کیا جس کے دوران انہوں نے مسلح افواج کو مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی اور فوجوں کے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ لیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم کے لداخ دورے اور مسلح فوجوں کو حکومت کی حمایت کی یقین دہانی نے بیجنگ کو سخت پیغام دیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی معاملات حل کرنے کےلیے اعتماد سازی کے اقدامات کے میکنزم موجود ہیں تاہم 2017 کے ڈوکلام واقعہ اور نہ صرف مغربی سیکٹر بلکہ سکم میں ناکولا (Nakula)میں حالیہ کشیدگی سے تشویش پیدا ہوگئی ہے کیونکہ چین ان میکنزم کی قدر نہیں کررہا ہے۔

سرحدی معاملہ پر ایشیا کے دو بڑے ملکوں کے درمیان مفاہمت پیدا ہونا ایک خوش آئند بات ہے تاہم چین کی وزارت خارجہ نے خصوصی نمائندوں کے درمیان میٹنگ کے بارے میں جو بیان دیا اس سے بیجنگ کی ترجیحات کا پتہ چلتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ چین سرحدوں پر امن وامان کے لیے کوششیں کرتا رہے گا لیکن اسی کے ساتھ ساتھ وہ اپنی علاقائی خود مختاری کی بھی مضبوطی کے ساتھ حفاظت کرے گا۔ چین نے یہ مشورہ بھی دیا کہ رائے عامہ کو صحیح سمت دینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کو نظر انداز کیا جاسکے۔

اس لیے چین کی شرائط اور تحفظات اور ماضی میں اس کی حرکتوں اور فوجی تیاریوں کے پیش نظر آئندہ ہفتوں میں بھارت کو کافی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ