Posts

موضوع: ہندوستان کے خلاف عمران حکومت کے اشتعال انگیز اقدامات

ہندوستان کی جانب سے کشمیر کے تعلق سے دفعہ 370 حذف کئے جانے کے بعد پاکستان کی عمران حکومت نے کچھ اتنا شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور ایسے ایسے اشتعال انگیز بیانات جاری کئے ہیں نیز ایسے اقدامات کئے ہیں کہ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کسی ملک کا منتخب وزیراعظم کسی پڑوسی ملک کے خلاف اس سطح کی باتیں بھی کرسکتا ہے؟ پہلے حکومت پاکستان نے سفارتی اور تجارتی تعلقات توڑنے کا فیصلہ کیا۔ پھر سفارتی سطح پر اس بات کی بھرپور کوشش کی کہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرکے بین الاقوامی سطح پر واویلا کیا جائے ۔ حالانکہ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل میں چین کی تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان کو جس سبکی کا سامنا کرنا پڑا اس کے پیش نظر پاکستان کو یہ احساس ہوجانا چاہئے تھا کہ عالمی پیمانے پر اس کی ساکھ کیا ہے۔ لیکن جذباتیت اور جوش کچھ اس طور پر پاکستانی حکمرانوں پر حاوی ہے کہ وہ اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے سے گریز نہیں کررہے ہیں۔ ایک وفاقی وزیر تو کشمیر کا ذکر کرکے رو پڑے اور وہاں کی انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری اس حقیقت کو نظرانداز کرکے کہ خود پاکستانی میڈیا اس وقت بالواسطہ طور پر بدترین قسم کی سنسرشپ کی زد میں...

موضوع: افغان سرحد پر پاکستان کی فوجی سرگرمیاں

ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے فوجی ایسٹیبلشمنٹ کو اپنے پڑوسیوں کے خلاف غیرقانونی مہم جوئیوں کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو لائن آف کنٹرول ہے وہاں کسی نہ کسی طور پر پاکستانی فوج کی قابلِ اعتراض سرگرمیاں اکثر جاری رہتی ہیں۔ ایل اوسی پر سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزی کی وجہ سے اکثر تناؤ اور کشیدگی کا ماحول تو رہتا ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ پاکستان دراندازی اور دہشت گردی کو فروغ دے کر حالات کو مزید خراب کرنے کی شعوری کوشش بھی کرتا رہتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ بھی وہ کچھ اسی طرح کا سلوک روا رکھنا چاہتا ہے۔ افغان طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کو اسی نے مضبوط اورمنظم کیا جس کے باعث پاکستان میں افغانستان کے اندر حملے کرنے کی بھرپور منصوبہ بندی وہیں سے ہونے لگی۔ طالبان حکومت کے زوال اور افغانستان میں امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کئے جانے کے بعد طالبان کی طاقت کا اصل مرکز پاکستان ہی بنا اور اب طالبان اور امریکہ کے مابین سمجھوتے کی جو بات چیت چل رہی ہے اور جس کے تحت یہ امید کی جارہی ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد وہاں امن قائم ہوگا، اس پر بہت بڑے ...

موضوع: پاکستان گومگو کی حالت میں 

آج کی بات پاکستان اس وقت ہندوستانی ریاست جموں وکشمیر پر اپنے موقف کو لے کر گومگو کی صورتحال سے دوچار ہے۔ جب سے ہندوستان نے دفعہ تین سو ستّر منسوخ کرکے ریاست کا خصوصی درجہ ختم کیا ہے، تب سے پاکستان اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ اسلام آباد تو جنگی جنون پیدا کرنے پر بھی اتر آیا ہے لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود وہ بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ یہاں تک کہ مغربی ایشیاء کے اس کے طاقتور اتحادیوں سے بھی اسے مایوسی ہی حاصل ہوئی۔ یہ پہلی بار ہے جب عالم اسلام کشمیر مسئلہ پر بالکل خاموش ہے اور اگر کچھ باثر ملکوں نے زبان کھولی بھی ہے تو اس نے نئی دہلی کے موقف کی ہی تائید کی ہے کہ یہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔پاکستان کشمیر معاملہ پر اپنا رونا جاری رکھے ہوئے ہے اور اگر کسی ملک نے اس کے اس آہ بکا کا نوٹس لیا ہے تو وہ ہیں ترکی اور ملیشیا۔ لیکن ان ملکوں نے کشمیر معاملہ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ ملیشیاء نے تو ہندوستانی مفرور ذاکر نائک پر پابندی عائد کردی جس نے ملیشیائی سماج کے خلاف بیان دیا تھا اور جس کے باعث لوگوں میں کافی غم وغصہ تھا۔ اقوام متح...

موضوع:کشمیر پر پاکستان کی بوکھلاہٹ

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کا مسئلہ چھیڑا اور وہ کافی دیر تک اس کا راگ الاپتے رہے۔ اگر ہم ان کی تقریر کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو وہ تضادات کا پلندہ نظر آئے گی۔ انھوں نے جہاں ایک طرف یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی رنگ دے دیا ہے وہیں اس کا شکوہ بھی کیا کہ دنیا بالخصوص مسلم ممالک کشمیریوں کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ انھوں نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس کو اپنی شاندار سفارتی کامیابی قرار دیا وہیں یہ بھی کہا کہ عالمی ادارے عام طور پر طاقتور کا ساتھ دیتے ہیں۔ انھوں نے یہ یاد دلاتے ہوئے کہ سوا ارب مسلمان اقوام متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں، کہا کہ مظلوم کشمیریوں کی مدد کرنے کی ذمہ داری اس پر عاید ہوتی ہے۔ انھوں نے جہاں یہ بتانے اور جتانے کی کوشش کی کہ ان کی سفارتی کوششوں سے دنیا کے ملکوں نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کی حکومت ہند کے اقدام کی مذمت کی ہے وہیں یہ بھی کہا کہ کیا مسلم اور دیگر ممالک صرف اپنے اقتصادی مفادات کو ہی دیکھیں گے۔ ان کی تقریر سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وہ بالک...

متحدہ عرب امارات کی جانب سے مودی کو ایوارڈ دیئے جانے پر پاکستان کا فرسٹریشن

پاکستانی حکمرانوں کی ایک عادت یہ ہے کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے معاملے میں ہر چیز کو مذہب کی عینک سے نہ صرف یہ کہ خود دیکھتے ہیں بلکہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ پوری دنیا بالخصوص مسلم ممالک بھی اسی عینک سے دیکھیں۔ نہ صرف کشمیر بلکہ دوسرے تمام معاملات کے بارے میں بھی ان کی ذہنیت یہی ہے کہ مسلم دنیا اپنے تمام قومی مفادات اور بین الاقوامی تعلقات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کی ہمنوائی کرتی رہے۔ چنانچہ حال ہی میں ایک ایسے وقت میں جب کشمیر سے متعلق ہندوستان نے کچھ انتظامی نوعیت کے فیصلے کئے اور پاکستان نے ان اندرونی کارروائیوں کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر لاکر اسے بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی کوشش کی تو متحدہ عرب امارات نے ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے اعلیٰ ترین سیویلین ایوارڈ یعنی ‘‘آرڈر آف زید’’ سے نوازا۔ ظاہر ہے اس پر پاکستان کے حکمراں تلملا اٹھے۔ پاکستان کا فرسٹریشن کتنا شدید ہے ، اس کا اندازہ اسی بات سے ہوتا ہے کہ پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے متحدہ عرب امارات کا اپنا سرکاری دورہ بھی احتجاجاً منسوخ کردیا، جس کا مطلب یہی ہوا کہ انہوں نے سرکاری ...

موضوع: جاپان اورجنوبی کوریا کے درمیان تجارتی کشیدگی

مشرقی ایشیاء کے دو بڑے ممالک، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان تجارت کو لے کر اس وقت کافی کشیدگی ہے۔ قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے جاپان نے ہائڈروجن فلورائڈ گیس ، فلورینیٹیڈپولیمائڈاور فوٹو ریزسٹس سمیت تین کیمیکل کے جنوبی کوریا کو برآمد کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ کیمیکل اعلیٰ ٹکنالوجی کی صنعتوں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ جاپان کو خدشہ ہے کہ یہ کیمیکل فوجی مقاصد کیلئے بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان نے جنوبی کوریا کو اس فہرست سے بھی باہر کردیا ہے جو اس کے بھروسے مند تجارتی پارٹنروں کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اگر تجارتی کشیدگی اسی طرح جاری رہی تو عالمی تجارت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ جاپان جنوبی کوریا کی مشہور ومعروف کمپنیوں کو کیمیکل سپلائی کرتا ہے۔ یہ تمام کمپنیاں کیمیکل کی اپنی ضروریات کیلئے جاپان پر ہی انحصار کرتی ہیں۔ یہ کیمیکل چپس وغیرہ تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی قلت سے جنوبی کوریا کی کمپنیوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ پابندیوں کے تحت جنوبی کوریا سامان بھیجے سے پہلے جاپانی برآمد کاروں کو حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے۔...

وزیراعظم مودی کی جانب سے ثالثی کی تجویز مسترد: ٹرمپ مطمئن

پاکستان نے اپنے ایک نکاتی ایجنڈے کے تحت کشمیر کے سوال پر جہاں ایک طرف بین الاقوامی برادری میں ہندوستان کے خلاف اپنے سفارتی ترکش سے تیر پر تیر چلائے ہیں ۔ دوسری طرف اندرون پاکستان اشتعال انگیز باتیں کرکے لوگوں کو وہاں کے حکام ورغلاتے اور بھڑکاتے رہے۔ مقصد یہ تھا کہ کشمیر کے معاملے کو کسی صورت بین الاقوامی رنگ دیا جائے اور ہندوستان اس سوال پر عالمی برادری میں الگ تھلگ پڑ جائے۔ پاکستانی حکمراں عالمی برادری کا ایک حصہ ہونے کے باوجود نہ تو عالمی حالات و واقعات کا ادراک کرپائے اور نہ ہی یہ سمجھ پائے کہ دنیا کی اس وقت، سمت اور رفتار کیا ہے یا یہ کہ وہ کون سے مسائل ہیں جن سے دنیا فی الوقت نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ یعنی جب دنیا کے لوگ عالمی برادری کو درپیش بڑے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں تو پاکستان، ہندوستان کے خلاف کشمیر کا سوال اٹھائے اٹھائے پھر رہا ہے۔ پتہ نہیں اب بھی پاکستانی حکمرانوں کو یہ احساس ہوا کہ نہیں کہ ان کی ڈفلی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ ایک کام تو وزیراعظم عمران خان نے یہ کیا کہ چونکہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کے لئے طالبان سے بات چیت کررہا ہے اور اس حوالے سے...