موضوع: افغان سرحد پر پاکستان کی فوجی سرگرمیاں


ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے فوجی ایسٹیبلشمنٹ کو اپنے پڑوسیوں کے خلاف غیرقانونی مہم جوئیوں کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو لائن آف کنٹرول ہے وہاں کسی نہ کسی طور پر پاکستانی فوج کی قابلِ اعتراض سرگرمیاں اکثر جاری رہتی ہیں۔ ایل اوسی پر سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزی کی وجہ سے اکثر تناؤ اور کشیدگی کا ماحول تو رہتا ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ پاکستان دراندازی اور دہشت گردی کو فروغ دے کر حالات کو مزید خراب کرنے کی شعوری کوشش بھی کرتا رہتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ بھی وہ کچھ اسی طرح کا سلوک روا رکھنا چاہتا ہے۔ افغان طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کو اسی نے مضبوط اورمنظم کیا جس کے باعث پاکستان میں افغانستان کے اندر حملے کرنے کی بھرپور منصوبہ بندی وہیں سے ہونے لگی۔ طالبان حکومت کے زوال اور افغانستان میں امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کئے جانے کے بعد طالبان کی طاقت کا اصل مرکز پاکستان ہی بنا اور اب طالبان اور امریکہ کے مابین سمجھوتے کی جو بات چیت چل رہی ہے اور جس کے تحت یہ امید کی جارہی ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد وہاں امن قائم ہوگا، اس پر بہت بڑے حلقے کو اندیشہ ہے کہ حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ بیشتر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کے حوصلے نہ صرف بڑھے ہوئے ہیں کیونکہ کم وبیش نصف افغانستان پر اس وقت ان کا کنٹرول ہے بلکہ امن مذاکرات کے حوالے سے امریکہ اور پاکستان کے رشتوں میں حالیہ دنوں نسبتاً جو بہتری آئی ہے اس کی وجہ سے طالبان کی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔ امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد طالبان افغانستان کے سیاسی مستقبل کیلئے جو بھی نقشہ یا پلان ترتیب دیں گے اس میں پاکستانی ذہن کی کارفرمائی ہوگی۔ یہ با ت پہلے سے بھی محسوس کی جارہی تھی کیونکہ امریکہ سے بات چیت شروع ہوجانے کے بعد بھی افغانستان میں طالبان کے حملے کم نہ ہوئے بلکہ مزید بڑھ گئے۔

آنے والے وقت میں افغانستان میں پاکستان اپنا جو سیاسی ایجنڈا بروئے کار لانے والا ہے اس کا اشارہ پہلے ہی سے مل رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت افغانستان نے اس بات پر نہ صرف احتجاج کیا ہے بلکہ سخت لفظوں میں مذمت بھی کی ہے۔ پاکستان افغانستان کی سرحد پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ افغان مشن نے اقوام متحدہ کے نام ایک خط لکھ کر یہ مانگ کی ہے کہ وہ پاکستان کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کی پاسداری کرے۔ پاکستان جس نوعیت کی خلاف ورزی کررہا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے افغانستان نے اقوام متحدہ سے یہ شکایت کی ہے کہ پاکستان افغانستان کی مشرقی سرحد پر واقع اضلاع میں شیلنگ کرتا ہے جس سے نہ صرف یہ کہ رہائشی املاک برباد ہوتی ہیں بلکہ مقامی آبادی کو اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگنا بھی پڑتا ہے۔ افغانستان کے علاقوں میں وہ غیرقانونی طور پر اپنے فوجی مراکز قائم کرنا چاہتا ہے اور اپنے طور پر ان علاقوں میں بیرئرس بھی قائم کرنا چاہتا ہے اور یہ تمام سرگرمیاں صریحاً بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔ افغانستان نے اپنے خط کے ذریعہ جو شکایت درج کرائی ہے ان میں حالیہ واقعات کا بھی ذکر کیا ہے۔ اسی اگست کی انیس اور بیس تاریخ کو پاکستانی فوجیوں نے صوبۂ کنار میں واقع شلتان ضلع میں 200 راکٹ داغے۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستان سے بار بار اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ان غیرقانونی حرکتوں سے باز آئے لیکن نہ تو پاکستان کے فوجی حکام کے کانوں پر جوں رینگتی ہے اور نہ ہی وہاں کی سویلین قیادت اس کا کوئی نوٹس لیتی ہے۔ افغانستان کی شکایت ہے کہ یہ سب کچھ ایک عرصے سے مسلسل ہورہا ہے۔ 

دیکھنا یہ ہے کہ اقوام متحدہ پاکستان کو اس سلسلے میں اپنے چارٹر کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے سے روک پاتا ہے یا نہیں! لیکن پاکستان کی اس طرح کی سرگرمیوں سے تو یہ صاف ظاہر ہے کہ وہ افغانستان کی علاقائی سالمیت اور اس کی خودمختاری کا قطعی احترام نہیں کرتا ورنہ وہ ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں کسی پڑوسی ملک کی سرحد پر نہیں کرتا۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان میں اسے کھلا میدان ملے گا اور اس کی حمایت اور پشت پناہی سے افغانستان پر ایک بار پھر طالبان قابض ہوں گے اور پھر اپنی مرضی کے مطابق پاکستان اپنی پسند کی حکومت کے ذریعہ وہاں کی خارجہ پالیسی وضع کرائے گا۔ اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کو پاکستان کی اس بدنیتی اور توسیع پسندانہ عزائم کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ