Posts

دہشت گرد گروپوں کے خلاف پاکستان کے حالیہ اقدامات ریاکاری کی تازہ مثال

گذشتہ بدھ کو پاکستانی حکام کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید اور اس کے کچھ معاونین کے خلاف سخت قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ دراصل جو قدم اٹھانے کے دعوے کئے جارہے ہیں، ان کا بنیادی مقصد ان اقدامات کی تشہیر کرنا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا زیادہ ہے اور حقیقی کارروائی کرنا کم ہے۔ پاکستان کے انسداد دہشت گردی محکمے نے یہ وضاحت کی تھی کہ اس نے سعید اور اس کے بارہ معاونین کے خلاف 23 معاملات درج کئے ہیں۔ یہ معاونین 5 ایسے ٹرسٹ چلارہے ہیں جو لشکرطیبہ کے لئے فنڈ اور چندے جمع کرتے ہیں۔ متعلقہ محکمے نے یہ بھی کہا ہے کہ لشکرطیبہ سےوابستہ، نام نہاد فلاحی ادارے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف بھی کارروائی ہورہی ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان تمام تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کی املاک اور اثاثے بھی بحق سرکار ضبط کئے جائیں گے۔ متعلقہ محکمہ کی جانب سے مزید وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قدم اس لئے اٹھائے جارہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے فیصلوں کا پاس کیا جاسکے۔ بادی النظر میں یہ قدم بڑے اہم نظر آرہے ہیں اور کچھ ایسا لگتا ہے کہ اچانک پ...

پاکستان میں سنسرشپ کا خوف

عمران خان کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھے ایک سال کا عرصہ ہونے والا ہے۔ شروع میں تو وہ نعرہ لگاتے رہے کہ ایک نیا پاکستان وجود میں آنے والا ہے جس میں کرپشن کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور اقتصادی صورتِ حال کو بہتر بنانے کیلئے بہتر اور سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔ الیکشن سے پہلے تو انھوں نے یہ دعویٰ تک کیا تھا کہ کسی عالمی مالیاتی ادارے کے پاس کاسۂ گدائی لے کر جانے کے مقابلے میں وہ خودکشی کرنا پسند کریں گے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ 6 بلین ڈالر کیلئے انھیں کاسۂ گدائی لے کر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ تک جانا ہی پڑا اور اس پیکیج سے متعلق ڈیل طے بھی ہوگئی ہے۔ خیر سیاست دانوں کی اس طرح کی قلابازیاں آئے دن مشاہدے میں آتی رہتی ہیں۔ یہاں بات جمہویت اور نظامِ انصاف کی ہورہی ہے ۔ وہ جمہوریت کو بہت شفاف خطوط پر چلانے کے دعوے بھی کیا کرتے تھے اور یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ تحریک انصاف پارٹی کی حکومت میں ہر ایک کے ساتھ انصاف ہوگا اور پریس ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ہوگا۔ حالانکہ الیکشن کے زمانے میں ہی ہر طرف سے یہ آوازیں اٹھنے لگی تھیں کہ پریس اور الیکٹرانک میڈیا پر فوج اور ایجنسیوں کا زبردست دباؤ ہے کہ و...

موضوع: دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مصنوعی کارروائی

پاکستان میں اس ہفتے لشکرطیبہ اور جماعت الدعوۃ کے ایک درجن اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کردی گئیں۔ ان 12 لوگوں میں 11/26 حملے کا ماسٹر مائنڈ حافظ سعید بھی شامل ہے۔ ان تمام لوگوں پر دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے کا الزام ہے۔ جن اور لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ان میں سعید کا دایا ہاتھ عبدالرحمٰن مکّی، ملک ظفراقبال، امیر حمزہ، محمد یحییٰ عزیز اور محسن بلال کے نام شامل ہیں۔ ان لوگوں پر الزام ہے کہ انھوں نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ٹرسٹ کیلئے جمع کئے گئے پیسوں سے دہشت گردی کی معاونت کی۔ ان تمام لوگوں کے خلاف ایف آئی آر حکومت پنجاب کے انسداد دہشت گردی محکمہ کی جانب سے درج کرائی گئیں جسے تفصیلی تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ یہ لوگ 5 دوسرے ٹرسٹوں کے ذریعہ بھی دہشت گردوں کی مالی امداد کررہے تھے۔ ان تمام تنظیموں نے فلاحی کاموں کے نام پر کافی املاک اور پیسے جمع کئے ہیں۔  اگرچہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا خیرمقدم کیا جاتا ہے تاہم اس بارے میں بعض سوالات ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ حافظ سعید اور اس کی فلاحی تنظیمیں یہ کام کم ازکم تین دہا...

وزیراعظم کا ‘پانی بچاؤ ’ مہم پر زور

قدرتی ذرائع اور وسائل کے غلط اور اندھادھند استعمال نے انسان کو اس منزل تک پہنچا دیا جہاں اسے اب اس بات کا شدید احساس ہونے لگا ہے کہ جو چیزیں اسے قدرت سے بہترین تحفے کے طور پر ملی تھیں، ان کا اس نے بغیرسوچے سمجھے بے دریغ استعمال کیا اور نوبت ایں جارسید کہ رفتہ رفتہ تمام قدرتی وسائل کے تعلق سے خود اسی کو فکر لاحق ہوئی کہ اس نے اب تک بہت کچھ سوچے سمجھے بغیر کیا تھا جس کا نتیجہ خطرناک شکلوں میں سامنے آرہا ہے۔ ترقی اور خوشحالی کے نام پر صنعتوں کو خوب فروغ حاصل ہوا۔ اس کے نفع بخش نتائج بھی سامنے آئے لیکن ان تمام ترقیوں اور نت نئی ایجادات کے مضر اثرات بھی دھیرے دھیرے سامنے آنے لگے۔ آب وہوا کی صورتحال دن بدن بگڑتی گئی۔ گلوبل وارننگ کے دیو نے پوری دنیا کو لرزا دیا۔ آبی اور فضائی آلودگی انسانی صحت اور زندگی کے لئے ناقابل برداشت حد تک خطرناک بنتی جارہی ہے۔ آلودگی سے پوری دنیامتاثر ہورہی ہے۔ مختلف خطوں کی موسمیاتی صورتِ حال اس حد تک بدل گئی ہے کہ اکثر یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے فلاں علاقہ موسم کے اعتبار سے کبھی ایسا تو نہ تھا۔ ابھی ابھی یہ خبر بھی آئی تھی کہ یوروپی ممالک میں شدت کی گرمی پڑ رہی ہے ...

موضوع : روس، ہندوستان اورچین کے درمیان سہ فریقی بات چیت

جاپان کے شہر اوساکا میں حال ہی میں گروپ۔20 کی سر براہ کانفرنس سے علیحدہ وزیراعظم نریندر مودی نے چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمر پوتن کے ساتھ سہ فریقی بات چیت کی میزبانی کی۔ اس بات چیت سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ عالمی برادری میں ہندوستان کی کتنی اہمیت ہے۔دونوں ہی ملک یعنی چین اور روس امریکی دباؤ کے باعث ہندوستان کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ نے روس پر معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ چین کے ساتھ اس کا محصولات کا تنازعہ ہے۔ اگر چہ اس صورتحال کے پیش نظر تینوں ملکوں نے آپس میں بات چیت کی تا ہم موجودہ بین الاقوامی نظام کو بر قرار رکھنے میں بھی ان ملکوں کے اپنے مفاد ہیں۔ ان تینوں ملکوں کے وزراء خارجہ کی ملاقاتیں2003 سے برابر ہوتی رہی ہیں اور ان کی پہلی سر براہ کانفرنس کافی پہلے2006 میں ہوئی تھی۔ اس وقت چین کے اس وقت کے صدر ہوجنتاؤ ، روس کے صدر ولادیمر پوتن اور ہندوستان کے اس وقت کے وزیرا عظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے روس کے شہر پیٹرس برگ میں گروپ۔ آٹھ ملکوں کی سربراہ کانفرنس کے اختتام پر ملاقات کی تھی۔ ان تینوں رہنماؤں کےد رمیان تازہ ترین بات چیت ظاہر ...

یوروپ سے معاملات نہ بگڑنے دینے کی ایران کی اپیل

 ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے پیر کے روز اس بات کا اعتراف کیا کہ ایران نے 2015 میں دنیاکے 6 طاقتور ممالک کے ساتھ ہوئے ایٹمی معاہدے میں مقرر کی گئی افزودہ یورینیم کے ذخائرکی حد توڑ دی ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ معاہدے میں یہ حد 300 کلو گرام مقرر کی گئی تھی۔جواد ظریف نے یہ بھی کہا کہ ان کے ملک نے مئی میں ہی اپنی منشاءواضح کر دی تھی۔ایران کا کہنا ہے کہ اسے 20 فیصد تک افزودہ یورینیم کی ضرورت ہے۔یہ حد جوہری ہتھیار بنانے کے لیے لازمی حد سے محض ایک قدم پہلے کی حد ہے۔ظاہر ہے ایران کا یہ اعلان یوروپی ممالک اور امریکہ میں تشویش کا باعث بنا ہے۔لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ایران یورینیم افزودہ کرنے کی اس حد تک پہنچا ہے تو اس کے لیے کون ذمہ دار ہے؟2015 میں طے پائے معاہدے کے تحت یوروپی ممالک کو ایران کی ان ضرورتوں کو پورا کرنا تھا لیکن قبل اس کے کہ 2015 کا مذکورہ معاہدہ آگے بڑھتا ۔امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے صدر بنتے ہی اس بات کے اشارے دینے شروع کر دیے کہ امریکہ اس معاہدے سے خود کو الگ کر لیگا۔ہر چند کہ دیگر ممالک کی طرف سے اس بات کی کوششیں کی گئیں کہ معاہدہ برقرار رہے لیک...

موضوع:بقول باجوا،پاکستان کے اقتصادی بحران کا سبب ‘‘عالمی بد انتظامی’’

ابھی چند ہی روز قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو درپیش معاشی بحران پر قابو پانے کے لئے ایک نئی قومی ترقیاتی کونسل تشکیل دی تھی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کو بھی انہوں نے ایک رکن کے طور پر شامل کیا تھا۔ پاکستان کے سسٹم میں فوج کو پہلے ہی سے کافی طاقتور ادارہ تصور کیا جاتا ہےا ور وہاں کی آزادی کی 72 سالہ تاریخ کا نصف حصہ براہ راست فوجی کنٹرول میں رہا ہے۔ اس کے علاوہ سیویلین حکومتوں کے دور میں بھی اقتدار کے ڈھانچے میں کلیدی رول درپردہ فوج ہی ادا کرتی رہی ہے۔ مثلاً ملک کی خارجہ پالیسی اور سیکورٹی سے متعلق جملہ امور پر پوری طرح اسی کا کنٹرول رہا۔لیکن اس کے باوجود کم سے کم اقتصادی معاملات میں فوج کا کوئی دخل نہیں رہا۔ اس کی خاص وجہ یہ رہی کہ سیویلین حکمراں دوسرے ملکوں سے جو قرضے یا امداد حاصل کرتے رہے یا عالمی مالیاتی اداروں سے جو قرضہ جات اور پیکیج ملتے تھے اس کا بڑا حصہ پاکستان کے دفاعی اخراجات کی نذر ہوتا رہا۔ اسی لئے مالی معاملات پر کچھ بولنے یا بحث کرنے سے فوجی جنرل گریز کرتے تھے کیونکہ سیولین حکمرانوں کی ساری تگ و دو بنیادی طور پر جنرلوں کے ہی فائدے کے لئے...