دہشت گرد گروپوں کے خلاف پاکستان کے حالیہ اقدامات ریاکاری کی تازہ مثال
گذشتہ بدھ کو پاکستانی حکام کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید اور اس کے کچھ معاونین کے خلاف سخت قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ دراصل جو قدم اٹھانے کے دعوے کئے جارہے ہیں، ان کا بنیادی مقصد ان اقدامات کی تشہیر کرنا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا زیادہ ہے اور حقیقی کارروائی کرنا کم ہے۔ پاکستان کے انسداد دہشت گردی محکمے نے یہ وضاحت کی تھی کہ اس نے سعید اور اس کے بارہ معاونین کے خلاف 23 معاملات درج کئے ہیں۔ یہ معاونین 5 ایسے ٹرسٹ چلارہے ہیں جو لشکرطیبہ کے لئے فنڈ اور چندے جمع کرتے ہیں۔ متعلقہ محکمے نے یہ بھی کہا ہے کہ لشکرطیبہ سےوابستہ، نام نہاد فلاحی ادارے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف بھی کارروائی ہورہی ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان تمام تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کی املاک اور اثاثے بھی بحق سرکار ضبط کئے جائیں گے۔ متعلقہ محکمہ کی جانب سے مزید وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قدم اس لئے اٹھائے جارہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے فیصلوں کا پاس کیا جاسکے۔ بادی النظر میں یہ قدم بڑے اہم نظر آرہے ہیں اور کچھ ایسا لگتا ہے کہ اچانک پ...