موضوع : روس، ہندوستان اورچین کے درمیان سہ فریقی بات چیت
جاپان کے شہر اوساکا میں حال ہی میں گروپ۔20 کی سر براہ کانفرنس سے علیحدہ وزیراعظم نریندر مودی نے چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمر پوتن کے ساتھ سہ فریقی بات چیت کی میزبانی کی۔ اس بات چیت سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ عالمی برادری میں ہندوستان کی کتنی اہمیت ہے۔دونوں ہی ملک یعنی چین اور روس امریکی دباؤ کے باعث ہندوستان کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ نے روس پر معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ چین کے ساتھ اس کا محصولات کا تنازعہ ہے۔ اگر چہ اس صورتحال کے پیش نظر تینوں ملکوں نے آپس میں بات چیت کی تا ہم موجودہ بین الاقوامی نظام کو بر قرار رکھنے میں بھی ان ملکوں کے اپنے مفاد ہیں۔
ان تینوں ملکوں کے وزراء خارجہ کی ملاقاتیں2003 سے برابر ہوتی رہی ہیں اور ان کی پہلی سر براہ کانفرنس کافی پہلے2006 میں ہوئی تھی۔ اس وقت چین کے اس وقت کے صدر ہوجنتاؤ ، روس کے صدر ولادیمر پوتن اور ہندوستان کے اس وقت کے وزیرا عظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے روس کے شہر پیٹرس برگ میں گروپ۔ آٹھ ملکوں کی سربراہ کانفرنس کے اختتام پر ملاقات کی تھی۔ ان تینوں رہنماؤں کےد رمیان تازہ ترین بات چیت ظاہر کرتی ہے کہ تینوں کے درمیان مذاکرات نئی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔امید ہے کہ یہ تینوں رہنما اس سال ستمبر میں روس کے شہر ولاڈی ووسٹک میں ایسٹرن اکونامک فورم کے موقع پر دوبارہ ملاقات کریں گے۔ ملکی صنعتوں کو بیرونی مال پر تحفظ فراہم کرنے کے نظریہ اور یکطرفیت کی پالیسی کا نہ صرف عالمی معاشی ترقی اور ابھرتے ہوئے بازاروں پر منفی اثر پڑا ہے بلکہ ترقی پذیر ملک بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اسی یکطرفیت کی پالیسی کے باعث ان تینوں ملکوں کے درمیان بات چیت لازمی تھی۔
ان ملاقاتوں کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ ان سے تینوں ملکوں کے رہنماؤں کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور اپنے رشتے بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔اس کے علاوہ یہ ملاقاتیں مشترکہ مفاد والے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اوساکا میں ہونے والی بات چیت میں جن موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا ان میں عالمی دہشت گردی، تینوں کےدرمیان بڑھتے تجارتی تعلقات، آب وہوا کی تبدیلی اوردیگراہم بین الاقوامی امور شامل ہیں۔ملاقات کے دوران جناب مودی نے جناب شی جن پنگ اور جناب ولادیمر پوتن سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی پر ایک عالمی کانفرنس کے انعقاد میں اپنی مدد فراہم کریں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر چہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت سے کثیر فریقی معاہدے موجود ہیں لیکن عالمی سطح پر کوئی کنونشن موجود نہیں ہے جس میں دہشت گردی کی وضاحت کی گئی ہو۔ شنگھائی تعاون تنظیم ایک ایسا گروپ ہے جس نے عالمی دہشت گردی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ ہندوستان کو امید ہے کہ فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس اسلام آباد کے خلاف سخت کارروائی کرے گا تاکہ پاکستان دہشت گردی کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔ ایف اے ٹی ایف نے حال ہی میں امریکہ میں اپنے مکمل اجلاس کے دوران یہ بات واضح کر دی تھی کہ پاکستان میں موجود دہشت گردگروپوں کی مالی معاونت کی وجہ سے عالمی دہشت گردی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔
چین کے نقطۂ نظر سے اگر دیکھیں تو اس سہ فریقی میٹنگ سے یوریسیا کی اہمیت بڑھ جائے گی جبکہ اس کا دو طرفہ تعلقات پر بھی مثبت اثر پڑےگا۔چین کے نائب وزیر خارجہ زینگ جون نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے ساتھ ان کے ملک کے تعلقات کافی بہتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ملکوں کے رہنماؤں نے کافی کھل کر بات چیت کی ہے۔اب تینوں ملکوں کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ وہ عالمی امور پر مطابقت کو اور مضبوط بنائیں اور یکطرفیت اور ملکی صنعتوں کو بیرونی مال پر تحفظ فراہم کرنے کے نظریہ کی مخالفت کرتے ہوئے اشتراک کی پالیسی کو فروغ دیں۔روس کے نقطۂ نظر سے ان تینوں ملکوں کا گروپ ماسکو کے لئے کافی اہم ہے کیونکہ چین نے اسے تمام محاذ پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اس لئے عالمی سیاست میں اپنا اثرورسوخ قائم رکھنے کے لئے اسے اس گروپ میں برقرار رہنا ضروری ہے۔ادھر ہندوستان اس غیر واضح عالمی نظام میں ایک ایسی طاقت بن کرابھر رہا ہے جو اس نظام میں توازن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لئے روس اور چین دونوں چاہیں گے کہ عالمی سیاست میں ہندوستان امریکہ سے بالکل آزاد رہ کر کام کرے۔
Comments
Post a Comment