وزیراعظم کا ‘پانی بچاؤ ’ مہم پر زور
قدرتی ذرائع اور وسائل کے غلط اور اندھادھند استعمال نے انسان کو اس منزل تک پہنچا دیا جہاں اسے اب اس بات کا شدید احساس ہونے لگا ہے کہ جو چیزیں اسے قدرت سے بہترین تحفے کے طور پر ملی تھیں، ان کا اس نے بغیرسوچے سمجھے بے دریغ استعمال کیا اور نوبت ایں جارسید کہ رفتہ رفتہ تمام قدرتی وسائل کے تعلق سے خود اسی کو فکر لاحق ہوئی کہ اس نے اب تک بہت کچھ سوچے سمجھے بغیر کیا تھا جس کا نتیجہ خطرناک شکلوں میں سامنے آرہا ہے۔ ترقی اور خوشحالی کے نام پر صنعتوں کو خوب فروغ حاصل ہوا۔ اس کے نفع بخش نتائج بھی سامنے آئے لیکن ان تمام ترقیوں اور نت نئی ایجادات کے مضر اثرات بھی دھیرے دھیرے سامنے آنے لگے۔ آب وہوا کی صورتحال دن بدن بگڑتی گئی۔ گلوبل وارننگ کے دیو نے پوری دنیا کو لرزا دیا۔ آبی اور فضائی آلودگی انسانی صحت اور زندگی کے لئے ناقابل برداشت حد تک خطرناک بنتی جارہی ہے۔ آلودگی سے پوری دنیامتاثر ہورہی ہے۔ مختلف خطوں کی موسمیاتی صورتِ حال اس حد تک بدل گئی ہے کہ اکثر یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے فلاں علاقہ موسم کے اعتبار سے کبھی ایسا تو نہ تھا۔ ابھی ابھی یہ خبر بھی آئی تھی کہ یوروپی ممالک میں شدت کی گرمی پڑ رہی ہے اور درجۂ حرارت 40 ڈگری تک پہنچ چکا۔ حالانکہ چند دہائی قبل تک کسی نے تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ اہل یوروپ کو کبھی ایسے موسم سے بھی گذرنا پڑے گا۔ بہر حال اب جو انسان کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوا ہے تو عالمی پیمانے پر صورتِ حال سے نمٹنے کی کوششیں بھی ہورہی ہیں اگرچہ بعض ترقی یافتہ ممالک جو سب سے زیادہ اس صورتحال کےذمہ دار رہے ہیں، وہ اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش بھی کررہے ہیں لیکن صورتِ حال کو بدلنے کی کوششیں کرنے والے بھی اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہندوستان انہی ملکوں میں شامل ہے جو اپنے طور پر بھی ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے اور عالمی برادری کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کررہا ہے۔
فضائی اور آبی آلودگی جیسے مسائل سے دنیا نمٹنے کی کوششیں کررہی ہے لیکن آبی وسائل کی کمیابی ایک بہت بڑا چیلنج بنتی جارہی ہے۔ آب وہوا کی تبدیلی اور موسموں میں آنے والی خرابی کا اثر بارش اور پانی پر بھی پڑ رہا ہے۔ آنے والے وقتوں میں پانی کو بچانے اور اسے زیادہ سے زیادہ سنبھال کر رکھنے کی کوشش نہ کی گئی تو نہ صرف یہ کہ آبپاشی اور کھیتی کے لئے پانی کی کمی بہت بڑی مصیبت کھڑی کرسکتی ہے بلکہ پینے کے پانی تک بھی رسائی ناممکن ہوجائے گی۔ پانی کی قلت کی خبریں ملک کے مختلف حصوں سے آتی رہتی ہیں۔ بعض جگہ تو حالات بے حد سنگین ہیں۔ اس سنگین، صورت حال سے ہمارے سائنسداں اور ماہرین ہی فکرمند نہیں ہیں بلکہ ہماری حکومت اور سیاسی قیادت بھی سخت تشویش میں مبتلا ہے اور صورتِ حال پر قابو پانے اور اسے بہتر بنانے کیلئے فوری اور طویل مدتی نوعیت کے پروگرام بنارہی ہے۔ خود وزیراعظم نریندرمودی نے پانی بچاؤ مہم کا آغاز کرنے کیلئے فوری طور پر قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ اپنی ریڈیو تقریر ‘‘من کی بات’’ میں اس مسئلہ کو اولیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسم اور بارش کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر ہمیں فوری طور پر قدم بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے ہمیں ایک ایک قطرہ پانی بچانا ہوگا۔ انھوں نے اس پر بطور خاص زور دیا کہ جس طرح سوچھ بھارت مہم کے نام سے چند سال قبل صفائی پر زور دیا گیا تھا جس کے خاطرخواہ نتائج بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں، اسی طرح پانی بچانے کی مہم بھی اسی زور وشور سے شروع کرنی ہوگی۔ خوشی کی بات ہے کہ متعلقہ وزارت بھی فوراً اس کام میں سرگرمی ہوگئی ہے۔ جل شکتی وزیر گجیندرسنگھ شیکھاوت نے کہا ہے کہ یہ مہم بڑے پیمانے پر شروع کی جارہی ہے اور اس کے تحت جن علاقوں میں پانی کی قلت محسوس کی گئی ہے، ان سب کا احاطہ کیا جائے گا۔ پہل کے طور پر 257 اضلاع میں پانی بچانے کا کام وسیع پیمانے پر انجام دیا جائے گا۔ امید ہے کہ عوام اور رضاکار تنظیموں کا بھرپور تعاون ملے گا اور جس طرف صفائی مہم کامیابی سے ہمکنار ہوئی اسی طرح یہ مہم بھی بارآور ثابت ہوگی۔
Comments
Post a Comment