موضوع: دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مصنوعی کارروائی


پاکستان میں اس ہفتے لشکرطیبہ اور جماعت الدعوۃ کے ایک درجن اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کردی گئیں۔ ان 12 لوگوں میں 11/26 حملے کا ماسٹر مائنڈ حافظ سعید بھی شامل ہے۔ ان تمام لوگوں پر دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے کا الزام ہے۔ جن اور لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ان میں سعید کا دایا ہاتھ عبدالرحمٰن مکّی، ملک ظفراقبال، امیر حمزہ، محمد یحییٰ عزیز اور محسن بلال کے نام شامل ہیں۔ ان لوگوں پر الزام ہے کہ انھوں نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ٹرسٹ کیلئے جمع کئے گئے پیسوں سے دہشت گردی کی معاونت کی۔ ان تمام لوگوں کے خلاف ایف آئی آر حکومت پنجاب کے انسداد دہشت گردی محکمہ کی جانب سے درج کرائی گئیں جسے تفصیلی تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ یہ لوگ 5 دوسرے ٹرسٹوں کے ذریعہ بھی دہشت گردوں کی مالی امداد کررہے تھے۔ ان تمام تنظیموں نے فلاحی کاموں کے نام پر کافی املاک اور پیسے جمع کئے ہیں۔ 

اگرچہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا خیرمقدم کیا جاتا ہے تاہم اس بارے میں بعض سوالات ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ حافظ سعید اور اس کی فلاحی تنظیمیں یہ کام کم ازکم تین دہائیوں سے کرتی چلی آرہی ہیں تو پھر اس کا اعتراف اب کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا ان حقائق کا پتہ لگانے کیلئے پاکستان کو واقعی اتنی لمبی مدت کی ضرورت تھی؟ فرض بھی کر لیا جائے کہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں پاکستان سنجیدہ ہے تو پھر پاکستانی حکومت نے ایسی کارروائی کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی؟ان تمام سوالوں کے جوابات بالکل واضح ہیں۔ دوسرے ملکوں میں حملے کرانے کیلئے پاکستان ان دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کو اپنا اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتا رہا ہے۔ درحققیت پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے خود اعتراف کیا تھا کہ ان تمام دہشت گردوں کو پاکسان نے ہی پیدا کیا ہے جن کی وہ ایک اہم اثاثے کے طور پر پرورش بھی کررہا ہے۔ پاکستان ان دہشت گردوں کو کشمیر اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں حملے کرانے کیلئے استعمال کرتا رہا ہے۔ اگر اسلام آباد اس بارے میں لاعلمی ظاہر کررہا ہے تو یہ محض اپنی مذموم حرکتوں کو چھپانے کیلئے ہے۔ 

پاکستان دراصل اس وقت بڑی سنجیدہ صورتحال سے دوچار ہے۔ داخلی اور خارجی دونوں محاذ پر اسے پریشانیوں کا سامنا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بھی اس پر کافی دباؤ ہے۔ اگر وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کرتا تو اسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں اسے پہلے ہی وارننگ دی جاچکی ہے۔ اوساکا میں جی۔20 سربراہ کانفرنس میں پاکستان پر یہ بات واضح کردی گئی تھی کہ اگر اس نے دہشت گردی کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کی تو مستقبل میں اس کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ داخلی طور پر اسے معاشی بحران کا سامنا ہے۔ اس کی معیشت کی حالت اس وقت اتنی خراب ہے کہ حکومت کے لیے روزانہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہورہا ہے۔ ضروری اشیاء کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں جس سے لوگوں کی زندگی بے حال ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں میں غم وغصہ ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف دیر سے کی گئی اس کارروائی پر بھی شبہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا متعدد بار دعویٰ کرچکا ہے۔ اسلام آباد نے دہشت گردی کے خلاف کبھی بھی کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی اور یہ تمام دعوے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کیلئے تھے۔ لیکن اس بار جو کارروائی کی گئی ہے اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کیلئے سول انتظامیہ اور فوج نے مل کر فیصلہ لیا تھا۔ اس لئے اس کارروائی میں فوج کی مداخلت کی گنجائش بالکل ختم ہوگئی تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہوجاتا۔ اب مہذب دنیا امید کرتی ہے کہ پاکستان پوری صداقت اور ایمانداری کے ساتھ دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے گا۔ یہ نہ صرف پاکستان کے مفاد میں ہے بلکہ امن عالم کے مفاد میں بھی۔ اسی دوران ہندوستان نے حافظ سعید کے خلاف کارروائی کو محض دکھاوا قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہاکہ ہمیں پاکستان کے ادھورے ایکشن کے جھانسے میں نہیں آنا چاہئے۔ انھوں نے کہاکہ اس آدھی ادھوری کارروائی سے اسلام آباد صرف بین الاقوامی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو دہشت گرد گروپوں کے خلاف ایسی کارروائی کرنی ہوگی جو قابل بھروسہ ہو اور جسے بار بار تبدیل نہ کیا جاسکے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ