موضوع:بقول باجوا،پاکستان کے اقتصادی بحران کا سبب ‘‘عالمی بد انتظامی’’

ابھی چند ہی روز قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو درپیش معاشی بحران پر قابو پانے کے لئے ایک نئی قومی ترقیاتی کونسل تشکیل دی تھی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کو بھی انہوں نے ایک رکن کے طور پر شامل کیا تھا۔ پاکستان کے سسٹم میں فوج کو پہلے ہی سے کافی طاقتور ادارہ تصور کیا جاتا ہےا ور وہاں کی آزادی کی 72 سالہ تاریخ کا نصف حصہ براہ راست فوجی کنٹرول میں رہا ہے۔ اس کے علاوہ سیویلین حکومتوں کے دور میں بھی اقتدار کے ڈھانچے میں کلیدی رول درپردہ فوج ہی ادا کرتی رہی ہے۔ مثلاً ملک کی خارجہ پالیسی اور سیکورٹی سے متعلق جملہ امور پر پوری طرح اسی کا کنٹرول رہا۔لیکن اس کے باوجود کم سے کم اقتصادی معاملات میں فوج کا کوئی دخل نہیں رہا۔ اس کی خاص وجہ یہ رہی کہ سیویلین حکمراں دوسرے ملکوں سے جو قرضے یا امداد حاصل کرتے رہے یا عالمی مالیاتی اداروں سے جو قرضہ جات اور پیکیج ملتے تھے اس کا بڑا حصہ پاکستان کے دفاعی اخراجات کی نذر ہوتا رہا۔ اسی لئے مالی معاملات پر کچھ بولنے یا بحث کرنے سے فوجی جنرل گریز کرتے تھے کیونکہ سیولین حکمرانوں کی ساری تگ و دو بنیادی طور پر جنرلوں کے ہی فائدے کے لئے ہوا کرتی ہیں۔ بہر حال اب جبکہ 2008 سے تسلسل کے ساتھ منتخب حکومتیں کام کررہی ہیں تو تیسری بار جو منتخب حکومت عمران خان کی قیادت میں بر سر اقتدار آئی ہے اس کے بارے میں عام تأثر یہ ہے کہ یہ جمہوری طور پر الیکٹیڈ یعنی منتخب حکومت نہیں ہے بلکہ یہ ایک سلیکٹیڈ حکومت ہے جسے بر سر اقتدار لانے کا کام فوج اور اس کی ایجنسیوں بالخصوص آئی ایس آئی نے انجام دیا ہے۔ پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر اپوزیشن لیڈران عمران خان کی حکومت کو سلیکٹیڈ حکومت کہتے ہیں جس کا بر سر اقتدار ممبران نے نوٹس لیا ہے۔ قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے ممبران کو ہدایت دی ہے کہ وہ حکومت کو سلیکٹیڈ حکومت کہنے سے گریز کریں جس پر آج کل الگ سے ایک بحث چل رہی ہے۔ یاد رہے کہ یہ لفظ سب سے پہلے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے گزشتہ سال انتخابات کے بعد پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریر میں استعمال کیا تھا۔ انہوں نے عمران خان کو مبارکباد دیتے ہوئے انہیں سلیکٹیڈ پی ایم کہا تھا جسے شاید عمران خان نے الیکٹیڈپی ایم سمجھ لیا تھا اور میز تھپتھپائی تھی۔
بہر حال اس دلچسپ بحث سے قطع نظر اس وقت پاکستان میں عوامی اور سیاسی سطح پر فوج اور ایجنسیوں کے بڑھتے ہوئے رول پر خوب  بحث ہورہی ہے۔ گزشتہ ہفتہ ہی جنرل قمر جاوید باجوا قومی ترقیاتی کونسل کے رکن نامزد کئے تھے اس کے بعد پاکستان کے اقتصادی معاملات پر جو ان کا پہلا بیان آیا ہے اس پر ہر طرف سے انگلی اٹھائی جارہی ہے۔ گزشتہ جمعہ کو فوج کے ذریعہ چلائی جانے والی ڈیفنس یونیورسٹی میں منعقد ایک سمینار میں جنرل باجوا نے کہا کہ پاکستان اس وقت شدید مالی بحران سے گزر رہا ہے اور اس مالی بحران کی سب سے بڑی وجہ مالی بد انتظامی رہی ہے۔ یعنی انہوں نے ایک طرح سے سیویلین حکومتوں پر مالی بد انتظامی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ ابھی تک اقتصادی معاملات پر اس طرح کی باتیں فوج کی طرف سے نہیں کہی جاتی تھیں لیکن اب یہ پہل بھی ہوچکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سخت فیصلے کرنے سے حکومتیں گریز کرتی رہی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے عمران حکومت کی ستائش کی کہ یہ حکومت ایسے فیصلے کرنے جارہی ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ 
جنرل باجوا کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا بورڈ چند روز بعد ہی یہ فیصلہ کرنے والا ہے کہ پاکستان کو 6 بلین ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج دیا جائے یا نہیں!
عمران حکومت کا ایک اور فیصلہ حالیہ دنوں میں اندرون پاکستان گفتگو کا موضوع بنا ہے۔ میجر جنرل فیض حمید کو ترقی دے کر انہیں لفٹیننٹ جنرل بنایا گیا اور بدنام زمانہ ایجنسی آئی ایس آئی کا سربراہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ موصوف سیاسی انجینئرنگ کے لئے مشہور رہے ہیں اور نواز شریف اور ان کی پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کرنے اور عمران خان کوبرسر اقتدار لانے میں انہوں نے بڑے داؤ پیچ کھیلے تھے اور تجزیہ کاروں کے مطابق انہیں اسی کا انعام ملا ہے! در اصل پاکستان میں یہی سب کچھ ہوتا رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ