پاکستان میں سنسرشپ کا خوف

عمران خان کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھے ایک سال کا عرصہ ہونے والا ہے۔ شروع میں تو وہ نعرہ لگاتے رہے کہ ایک نیا پاکستان وجود میں آنے والا ہے جس میں کرپشن کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور اقتصادی صورتِ حال کو بہتر بنانے کیلئے بہتر اور سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔ الیکشن سے پہلے تو انھوں نے یہ دعویٰ تک کیا تھا کہ کسی عالمی مالیاتی ادارے کے پاس کاسۂ گدائی لے کر جانے کے مقابلے میں وہ خودکشی کرنا پسند کریں گے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ 6 بلین ڈالر کیلئے انھیں کاسۂ گدائی لے کر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ تک جانا ہی پڑا اور اس پیکیج سے متعلق ڈیل طے بھی ہوگئی ہے۔ خیر سیاست دانوں کی اس طرح کی قلابازیاں آئے دن مشاہدے میں آتی رہتی ہیں۔ یہاں بات جمہویت اور نظامِ انصاف کی ہورہی ہے ۔ وہ جمہوریت کو بہت شفاف خطوط پر چلانے کے دعوے بھی کیا کرتے تھے اور یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ تحریک انصاف پارٹی کی حکومت میں ہر ایک کے ساتھ انصاف ہوگا اور پریس ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ہوگا۔ حالانکہ الیکشن کے زمانے میں ہی ہر طرف سے یہ آوازیں اٹھنے لگی تھیں کہ پریس اور الیکٹرانک میڈیا پر فوج اور ایجنسیوں کا زبردست دباؤ ہے کہ وہ الیکشن سے متعلق رپورٹنگ ایجنسیوں کی مرضی کے مطابق کریں۔فوج اور ایجنسیوں نے ایک طرح کا دہشت کا ماحول پیدا کردیا تھا اور ہیومن رائٹس کمیشن نے اس کا سخت نوٹس بھی لیا تھا۔ بہرحال اب جبکہ عمران حکومت کو اقتدار میں آئے ایک سال کا عرصہ ہونے والا ہے تب بھی صحافی خوف کے سائے میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مارشل لا نافذ کئے بغیر ہی اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر سنسرشپ نافذ کردی گئی ہے اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ گزشتہ سوموار کو پرائیویٹ چینل جیو TV سے 8 بجے رات کو سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کا انٹرویو نشر ہونےو الا تھا۔ یہ انٹرویو گزشتہ سنیچر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں مشہور صحافی اور جیو TV کے اینکر حامد میر نے لیا تھا۔ انٹرویو وقت مقررہ پر شروع بھی ہوا لیکن چند منٹ بعد ہی بغیر کسی وضاحت کے انٹرویو روک دیا گیا۔ دراصل چینل پر دباؤ ڈال کر نشریہ کو رکوادیا گیا۔ بہرحال حکومت کا دفاع کرتے ہوئے ایک وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے کہا کہ ہم ایسے مجرم کا انٹرویو بھلا کیسے نشر کرسکتے ہیں جو مالی گھپلوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے؟ آخر کہیں تو ہمیں بدعنوانی میں ملوث ملزم اور سیاسی قیدی کے مابین خطِ فاصل کھینچنا پڑے گا لیکن آزاد تجزیہ کاروں اور اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ صرف الزام اور گرفتاری کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں تصور کیا جاتا جبکہ زرداری کے خلاف ابھی تک کوئی جرم ثابت نہیں ہوا ہے اور نہ سزا ہوئی ہے۔ خود زرداری کا انٹرویو کرنے والے ممتاز صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ اس روز زرداری باقاعدہ اجازت نامہ لے کر پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کیلئے آئے تھے اور انھوں نے متعدد دوسرے صحافیوں سے بھی بات چیت کی تھی لیکن انھوں نے جیو TV کے لیے الگ سے ایک انٹرویو بھی دیا تھا۔ مسٹر حامد میر کے مطابق انٹرویو پر روک لگانے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ زرداری نے اس میں یہ انکشاف کیا تھا کہ برطانیہ میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف کسی گھپلے کی چھان بین چل رہی ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ شفافیت کانعرہ لگانے اور بدعنوانی کے خلاف نام نہاد مہم چلانے والے عمران خان شاید اسی سے گھبرا گئے کہ کہیں ان کا کوئی راز سامنے نہ آجائے۔ لہذا زرداری کے انٹرویو پر روک لگادی گئی جہاں تک وفاقی وزیر علی حیدر زیدی کی اس بات کا سوال ہے کہ بدعنوانی میں ملوث ملزم اور سیاسی قیدیوں کے درمیان حد فاصل ہونا چاہئے تو ایک بات تو یہی ہے کہ ابھی ملزم کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوا ہے اور دوسرا چبھتا ہوا سوال خود صحافی حامد میر نے اٹھایا ہے کہ انھوں نے ہی تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا انٹرویو بھی لیا تھا جو نشر بھی ہوا تھا۔ اس پر تو کوئی روک نہیں لگی تھی اور نہ ہی کسی نے اعتراض کیا تھا تو پھر زرداری کے انٹرویو پر اعتراض کیوں؟ یاد رہے کہ احسان اللہ احسان تحریک طالبان کا ترجمان تھا۔ اس وقت وہ فوج کی حراست میں ہے اور اس کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی تک نہیں ہوئی ہے۔ اس نے بہت سے حملوں اور قتل وغارت گری کی ذمہ داری بھی لی تھی جب ایسے دہشت گرد کے انٹرویو پر کوئی اعتراض نہیں ہوا تواب کیوں؟ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نہ تو عمران خان خود دے سکیں گے اور نہ ہی ان کی کابینہ کا کوئی رفیق۔ صرف اقتدار کا نشہ اور درپردہ فوج کی طاقت اس طرح کی باتیں اہل اقتدار سے کہلوارہی ہے۔ پاکستان کے بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں کا یہی خیال ہے کہ اس وقت سیویلین حکومت کی آڑ میں اس طرح کے سارے فیصلے فوج اور ایجنسیاں کررہی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ