یوروپ سے معاملات نہ بگڑنے دینے کی ایران کی اپیل
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے پیر کے روز اس بات کا اعتراف کیا کہ ایران نے 2015 میں دنیاکے 6 طاقتور ممالک کے ساتھ ہوئے ایٹمی معاہدے میں مقرر کی گئی افزودہ یورینیم کے ذخائرکی حد توڑ دی ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ معاہدے میں یہ حد 300 کلو گرام مقرر کی گئی تھی۔جواد ظریف نے یہ بھی کہا کہ ان کے ملک نے مئی میں ہی اپنی منشاءواضح کر دی تھی۔ایران کا کہنا ہے کہ اسے 20 فیصد تک افزودہ یورینیم کی ضرورت ہے۔یہ حد جوہری ہتھیار بنانے کے لیے لازمی حد سے محض ایک قدم پہلے کی حد ہے۔ظاہر ہے ایران کا یہ اعلان یوروپی ممالک اور امریکہ میں تشویش کا باعث بنا ہے۔لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ایران یورینیم افزودہ کرنے کی اس حد تک پہنچا ہے تو اس کے لیے کون ذمہ دار ہے؟2015 میں طے پائے معاہدے کے تحت یوروپی ممالک کو ایران کی ان ضرورتوں کو پورا کرنا تھا لیکن قبل اس کے کہ 2015 کا مذکورہ معاہدہ آگے بڑھتا ۔امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے صدر بنتے ہی اس بات کے اشارے دینے شروع کر دیے کہ امریکہ اس معاہدے سے خود کو الگ کر لیگا۔ہر چند کہ دیگر ممالک کی طرف سے اس بات کی کوششیں کی گئیں کہ معاہدہ برقرار رہے لیکن معاہدے میں شامل طاقتیں ٹرمپ کو معاہدہ شکنی سے باز رکھنے مین ناکام رہیں ۔نتیجہ یہ ہوا کہ ٹرمپ نے معاہدے سے پیچھے ہٹنے کے ساتھ ہی ایران پر اقتصادی و تجارتی پابندیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔یوروپی ممالک بار بار یہ تو کہتے رہے کہ وہ مذکورہ معاہدہ توڑنے کے حق میں نہیں ہیں لیکن اہم بات یہ ان ممالک نے معاہدے کو بچانے کے لیے اتنی سرگرمی کا مظاہرہ بھی نہیں کہ جس کی واقعی ضرورت تھی۔اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کے معاہدے سے پیچھے ہٹنے کے بعد یوروپ یا دیگر بڑی طاقتیں معاہدہ نہ توڑنے کے باوجود معاہدے پر عمل درآمد میں اور ایران پر امریکہ کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کو بے اثر کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں۔حالانکہ ایران بار بار معاہدے میں شامل دیگر ممالک سے بھی نہ صرف اس معاہدے کو بچانے کی اپیل کرتا رہا ہے بلکہ یہ بھی واضح اعلان کرتا رہا ہے کہ بہ صورت دیگر وہ بھی معاہدے میں کیے گئے اپنے وعدے سے دست بردار ہونے کے لیے آزاد ہوگا۔جواد ظریف کا تازہ اعلان اس سمت میں ایران کے آگے بڑھنے اور امریکہ و معاہدے میں شامل دیگر ممالک کے رویے کا جواب ہے۔یہ الگ بات کہ اس کے نتیجے میں پورے خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو راست یا بالواسطہ کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے اشارے ابھی سے ملنے شروع ہو گئے ہیں۔ایران نے جو کچھ کیا ہے اسے چھپایا نہیں ،اور جیسا کہ ابھی کہا گیا کہ وہ اپنے ارادوں کا اعلان پہلے ہی کر چکا تھالیکن اس کے باوجود اگر امریکہ یا دیگر ممالک اس تعلق سے غلط فہمیوں کا شکا ر رہے تو معاہدہ کی شرائط کو توڑنے کے لیے صرف ایران کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا۔البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ایران اس معاملے میں مزید صبروتحمل کا مظاہرہ کرتا تو بہتر ہوتا،لیکن اگر ایسا نہیںہوا تو اس کے بھی اسبابپ پر غور کرنا ضروری ہے۔دراصل اس معا ملے میں ٹرمپ کا یہ موقف ہے کہ ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی حالانکہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی یا معاہدے میں شامل دیگر کسی بھی ملک نے امریکی الزام کی تائید نہیں کی۔خود امریکہ کی کوئی ایجنسی بھی ٹرمپ کے الزام کی حمایت میں ایران کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی ہے۔اس کے باوجود اگر ٹرمپ کو یہ لگتا تھا کہ ایران معاہدے پر عمل نہین کر رہا ہے تو انھیں ایران کے ساتھ برابری کی سطح پر بات چیت کی کوشش کرنی چاہیے تھی ،جو نہیں کی گئی۔اس لیے کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹرمپ کی طرف سے بار بار ایران سے مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران سے مذاکرات چاہتا ہے تو اسے ایران کو عزت دینی پڑیگی۔ایران بار بار یہ واضح کرتا رہا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیگا۔ظاہر ہے ایران ہی کیا دنیا کے ہر ملک کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے وقار کے تحفظ کے ساتھ ہی کسی دوسرے ملک سے مذاکرات کرے۔اسی لیے یہ بات بہرحال درست ہے کہ امریکہ ہو یامعاہدے میں شامل کسی بھی ملک کو یران سے کسی بھی شکایت کے تعلق سے اسی طرح بات کرنی چاہیے کہ جس طرح ایک خود مختار ملک دوسرے خود مختار ملک سے کرتا ہے۔بدقسمتی سے ایران امریکہ تنازعہ میں اس پالیسی سے گریز کیا گیا اور نتیجہ سامنے ہے۔بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ اس تنازعہ کو صرف اور صرف سفارتی راستے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں نہ صرف معاہدے میں شامل ممالک بلکہ ایران و امریکہ کے دیگر دوست ممالک کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ بات زیادہ بگڑنے سےقبل ہی اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے آگے آئیں ۔اس لیے کہ اس کے نقصانات پورے خطے کو بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment