Posts

کیا عمران خان واقعی ‘مہذب انداز سے’ ہندوستان سے تعلقات قائم کرنے کے حق میں ہیں؟

ابھی کچھ دن پہلے عمران خان ایران کے دورے پر گئے تھے اور وہاں انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ایران کی شکایت بجا ہے کہ بعض دہشت گرد گروپ پاکستان سے جاکر وہاں حملے کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بعض گروپ ایران سے جاکر پاکستان میں بھی حملے کرتے ہیں لیکن پرانی باتوں کو بھلاکر دونوں ملکوں کو تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرنا چاہیے۔ یہ اور بات ہے کہ ایسا بیان دے کر اپنے ملک میں وہ ہر طرف سے تیز و تند حملوں کی زد میں ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے ایک غیر ملک میں جاکر یہ کیوں کہا کہ کچھ گروپ پاکستان سے جاکر وہاں حملے کرتے ہیں۔ پاکستان کی عام روش یہ رہی ہے کہ وہ ہر پڑوسی کے ہر الزام کی ہر حال میں تردید کرتے ہیں۔ یہ بحث پاکستان میں ابھی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ بہرحال ایران کے بعد وزیراعظم عمران خان چین کے چار روزہ دورے پر گئے جہاں انہیں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی میٹنگ میں شرکت کرنی تھی۔ وہاں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ ‘مہذب انداز سے ’تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں ن...

موضوع:کوریائی جزیرہ نما پر پوتن-کم مذاکرات

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے حال ہی میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے روس کے مشرقی شہر ولادیووسٹک میں ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔ اس میٹنگ کو کافی اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ روس اور شمالی کوریا سرد جنگ کے زمانے کے اتحادی ہیں نیز یہ کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس علاقہ میں اپنے اثرات بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان ماضی میں جو مذاکرات ہوئے ان سے ایسا لگتا تھا کہ روس پس منظر میں چلا گیا تھا لیکن اب پوتن اور کِم کی ملاقات سے لگتا ہے کہ روس ایک بار پھر علاقہ میں اپنے اثرات قائم کرنے میں کامیاب ہورہا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک طرف صدر پوتن اور شمالی کوریا کے رہنما کِم کے درمیان میٹنگ چل رہی تھی تو دوسری جانب امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان مشترکہ فوجی مشق بھی جاری تھی۔ اگرچہ یہ مشق بہت بڑی نہیں تھی پھر بھی شمالی کوریا نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ہنوئی میں ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی جس کے بعد واشنگٹن نے پیانگ یانگ پر تازہ پابندیاں عائد کردیں۔ ان تازہ پابندیوں کے بعد شم...

جنوبی ایشیا میں داعش کی سرگرمیاں گہری تشویش کا باعث

جیسا کہ پہلے بھی اندازہ کیا جارہا تھا کہ سری لنکا میں ہونے والے سیریل دھماکوں کے پیچھے کسی منظم عالمی دہشت گرد گروپ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ لیکن اب تو پورے طور پر اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اس تباہی میں داعش ہی نے کلیدی رول ادا کیا تھا۔ فوری طور پر تو اس بدنام زمانہ تنظیم نے کوئی ذمہ داری نہیں لی تھی لیکن دوسرے ہی دن اس نے اپنے ترجمان عمق کے توسط سے ’’اپنی کارستانیوں‘‘ کا کریڈٹ لیا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک تنظیم ہے اور صرف چند سال قبل اس نے عراق اور سیریا کی سرحد پر نام نہاد خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ خلافت ابوبکر بغدادی نے قائم کی تھی جس نے عراق اور سیریا کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی جمالیا تھا لیکن بہرحال اب اس علاقے سے اس کے قدم اکھڑ چکے ہیں۔ حال ہی میں سیریا میں امریکہ اور کرد باغیوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ داعش کا پورے طور پر صفایا ہوچکا ہے اور اب بچے کھچے علاقے بھی اس کے قبضے سے آزاد کرالئے گئے۔ بہرحال داعش کے قدم بھلے ہی اس علاقے سے اکھڑ چکے لیکن اس کے خطرناک ارادوں کا خاتمہ نہیں ہوا ہے اور اس کا احساس بھی عالمی برادری کو پہلے ہی سے تھا۔ امریکی اور کرد باغیوں کی جانب سے داعش کی ...

موضوع: جنوبی ایشیا میں بنیاد پرستی کا خطرہ

سری لنکا میں 21 اپریل کو ایسٹر سنڈے کے موقع پر خودکش حملہ آوروں نے کولمبو، نیگومبو اور بٹی کالووا میں گرجا گھروں اور پانچ ستارہ ہوٹلوں میں آٹھ دھماکے کئے جن میں 38 غیر ملکی شہری سمیت 250 سے زیادہ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ ایک ویڈیو کے ذریعہ ان حملوں کی ذمہ داری دو دن بعد داعش نے قبول کی جس میں سات حملہ آوروں کو دکھایا گیا جس کی قیادت ظہران ہاشم کررہا تھا اور جو داعش سربراہ ابوبکر البغدادی کی وفاداری کا حلف لے رہے تھے۔ ان خونی حملوں کے بعد سری لنکا کے حکام نے 70 سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ کولمبو میں چھاپوں کے دوران ایک عورت نے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ حملہ آوروں میں سے کسی ایک کی اہلیہ تھی، اپنے دو بچوں کے ساتھ خود کو بم سے اڑالیا۔ دو دوسرے مقامات پر بموں کو ناکارہ بنادیا گیا جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حملہ آور مزید حملوں کا منصوبہ بنارہے تھے۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ ظہران ہاشم تھا جس کا تعلق بٹی کلوا کے کٹن کڈی سے ہے۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور جوانی کے دنوں سے ہی اس میں بنیاد پرستی کا رجحان پیدا ہوگیا تھا جس کی...

چابہار پروجیکٹ امریکی پابندیوں سے مستثنیٰ

بین الاقوامی سیاست میں کئی طرح کے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ سو، ایران کے نیوکلیائی پروگرام کے سوال پر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑے لمبے عرصے تک کشیدگی کا ماحول رہا۔ اس کی بنیاد پر کشیدگی صرف انہی دونوں ملکوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بین اقوامی پیمانے پر بھی اس کے اثرات محسوس کئے جاتے تھے۔ امریکہ کا اصل اعتراض اور الزام یہ تھا کہ ایران غلط ڈھنگ سے اپنے نیوکلیائی پروگرام کو فروغ دے رہا ہے اور نیوکلیائی اسلحے بنانے کی تیاری کررہا ہے جس سے امن کو خطرہ لاحق ہے۔ دوسری طرف ایران ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا تھا۔ ایران پر کئی طرح کی اقتصادی پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔ ان پابندیوں میں کچھ تو ایسی تھیں جو اقوام متحدہ کی طرف سے نافذ کی گئی تھیں اور کچھ ایسی بھی تھیں جو امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے ذریعہ عائد کی گئی تھیں۔ اقوا م متحدہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی تو ممبر ممالک پاسداری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن بعض ملکوں کی طرف سے انفرادی طور پر جو پابندیاں عائد ہوتی ہیں، ان کے تعلق سے کوئی ایسی مجبوری تو نہیں ہوتی لیکن ان کی پاسداری نہ کرے سے پابندیاں عائد کرنے والے ملک اور اس...

موضوع: یوکرین کی تاریخ کا نیا باب

یوکرین میں مزاحیہ اداکار ولودومیر زیلینسکی نے صدارتی انتخابات جیت کر ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کردیا۔ زیلینسکی کی یہ کوئی معمولی جیت نہیں تھی بلکہ انتخابات میں انہوں نے 73 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ وہ روسی زبان بولتے ہیں اور ان کا سلسلہ نسب یہودیوں سے ملتا ہے۔ وہ یوکرین کے سب سے کم عمر صدر ہوں گے۔ ایک ہردلعزیز اور مشہور ٹی وی سیریز میں زیلینسکی نے ایک معرکہ آرا صدر کا کردار ادا کیا تھا لیکن اب انہوں نے اپنا کردار بدل کر صحیح معنوں میں ملک کے صدر کی حیثیت سے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور انہوں نے انتخابات سے محض چار ماہ پہلے اپنی امیدواری کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی پارٹی کی تشکیل بھی کافی تاخیر سے کی تھی۔ یوکرین کے انتخابی نتائج بھی دنیا کے دوسرے ملکوں کے نتائج کی عکاسی کرتے ہیں جہاں ایسے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جنہیں سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ہے یا اگر ہے بھی تو بہت کم۔ انہوں نے انتخابات میں فتح حاصل کی تو اس وجہ ہے کہ وہ کافی ہردلعزیز تھے اور رائے دہندگان حکومت سے ناراض۔ زیلینسکی موجودہ صدر پیٹرو پورو شینکو کے خلاف انتخابی میدان...

دہشت گردی سے متعلق ایک بیان پر عمران خان چوطرفہ حملوں کی زد میں

پاکستانی سیاست دانوں کی بعض باتیں بڑی دلچسپ اور کبھی کبھی مضحکہ خیز بھی لگتی ہیں۔ ویسے تو مختلف ملکوں کے بہت سارے سیاست دانوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مختلف موقعوں پر مختلف اور متضاد بیان داغتے ہیں اور جب کوئی متنازعہ بیان کسی کی گرفت میں آجاتا ہے تو وہ پہلے تو سرے سے انکار کردیتے ہیں یا پھر یہ کہہ کر صفائی دیتے ہیں کہ ان کا بیان اصل سباق میں نہیں پیش کیا گیا۔ پارٹیاں بدلنے والے سیاست داں بھی بڑے دلچسپ کرتب دکھاتے ہیں۔ پارٹی بدلنے کے ساتھ ہی ساتھ ان کے نظریات اور خیالات بھی راتوں رات اور کبھی کبھی گھنٹے دو گھنٹے ہی میں بدل جاتے ہیں۔ بہرحال اس طرح کے بازیگر ان سیاست بڑے دلچسپ رویوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی اپنے بیانات کے لئے کافی مشہور رہے ہیں۔ جب وہ اپوزیشن میں تھے تو بہت سے معاملات میں ان کا خیال کچھ اور ہوتا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد کچھ اور ہوگیا ہے۔ دہشت گردی کے سوال پر ان کا رویہ ایسا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے حامی اور ہمدرد تصور کئے جاتے تھے لیکن اب بہرحال وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ پاکستان کو خود اپنی سلامتی اور بہتری کے لئے دہشت گردوں کے خلاف کار...