کیا عمران خان واقعی ‘مہذب انداز سے’ ہندوستان سے تعلقات قائم کرنے کے حق میں ہیں؟
ابھی کچھ دن پہلے عمران خان ایران کے دورے پر گئے تھے اور وہاں انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ایران کی شکایت بجا ہے کہ بعض دہشت گرد گروپ پاکستان سے جاکر وہاں حملے کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بعض گروپ ایران سے جاکر پاکستان میں بھی حملے کرتے ہیں لیکن پرانی باتوں کو بھلاکر دونوں ملکوں کو تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرنا چاہیے۔ یہ اور بات ہے کہ ایسا بیان دے کر اپنے ملک میں وہ ہر طرف سے تیز و تند حملوں کی زد میں ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے ایک غیر ملک میں جاکر یہ کیوں کہا کہ کچھ گروپ پاکستان سے جاکر وہاں حملے کرتے ہیں۔ پاکستان کی عام روش یہ رہی ہے کہ وہ ہر پڑوسی کے ہر الزام کی ہر حال میں تردید کرتے ہیں۔ یہ بحث پاکستان میں ابھی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ بہرحال ایران کے بعد وزیراعظم عمران خان چین کے چار روزہ دورے پر گئے جہاں انہیں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی میٹنگ میں شرکت کرنی تھی۔ وہاں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ ‘مہذب انداز سے ’تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں اس وقت پارلیمنٹ کے انتخابات ہورہے ہیں اور امید ہے کہ انتخابات کا عمل مکمل ہوجانے کے بعد بات چیت شروع کی جائےگی، اس بات کو انہوں نے بطور خاص اجاگر کیا کہ جب تک اس علاقے میں امن اور استحکام نہیں قائم ہوجاتا، اس وقت تک پاکستان میں اقتصادی طور پر خوشحالی نہیں آسکتی۔ اسی سانس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں سیاسی حل تلاش کرنے کی جو کوشش ہورہی ہیں، ان کے بارے میں پاکستان کو امید ہے کہ اس جنگ زدہ ملک میں استحکام پیدا ہوگا۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ ان کی امید ہے یا خوش امیدی یا کچھ اور لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ حالیہ دنوں میں انہوں نے افغانستان کے بارے میں کئی ایسے بیانات دیئے ہیں جن سے افغانستان میں خاصی برہمی پیدا ہوئی ہے اور نہ صرف وہاں کی حکومت نے اس پر احتجاج کیا بلکہ بیشتر سیاسی حلقوں اور دوسرے شعبوں کے لوگوں نے بھی ان کے بیانات پر اعتراض جتایا ۔مثلاً انہوں نے کئی بار یہ کہا کہ افغانستان کی موجودہ حکومت کو استعفی دے دینا چاہیے اور ایک عبوری حکومت قائم ہونی چاہیے تاکہ امن مذاکرات بحسن و خوبی آگے بڑھ سکیں۔ انہوں نے بعض جلسوں میں یہ بھی اشارہ کیا کہ بہت جلد افغانستان میں ایک اچھی حکومت قائم ہونے والی ہے۔ظاہرہے کہ کسی بھی پڑوسی ملک کے بارے میں اس طرح کی باتیں کرنا، اس ملک کی آزاد اور خود مختار حیثیت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس لئے وہاں کی حکومت اور دوسرے گروپوں کا احتجاج کرنا حق بجانب ہے۔ ایک طرف وہ خطے میں امن و استحکام پیدا کرنے کی باتیں بھی کرتے ہیں اور دوسری طرف پڑوسیوں کے اندرونی معاملات میں ایسی باتیں بھی کرتے ہیں جو حد درجہ قابل اعتراض ہوتی ہے۔
جہاں تک ہندوستان سے مہذب انداز سے تعلقات کو فروغ دینے کی بات ہے تو ہمارا خیال ہے کہ کوئی بھی تجزیہ کار ان کے اس حملے کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہوگا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پیدا ہونے کی بنیادی وجہ سب کو معلوم ہے۔ سرحد پار سے دہشت گردی کا سلسلہ بند ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ حالیہ دنوں میں کشیدگی بڑھنے کی خاص وجہ یہ رہی کہ پلوامہ میں جیش محمد کے دہشت گردوں نے چالیس سے زیادہ جوانوں کو شہید کیا اور فوراً اس کی ذمہ داری بھی لی۔ کیا عمران خان کو معلوم نہیں ہے کہ جیش محمد کہاں کی تنظیم ہے اور ہندوستان کے تعلق سے اس کی کیا کارستانیاں رہی ہیں؟ پھر بھی اتنے بڑے دہشت گردا نہ واقعہ کے بعد بجائے اس تنظیم کی مذمت کرنے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کے وہ یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ اگر وہ حملہ کسی پاکستانی گروپ کی کارستانی تھی تو اس کا معقول ثبوت پیش کیا جائے! کیا اسی کو موصوف، تعلقات بہتر بنانے کا ‘مہذب طریقہ’ تصور کرتے ہیں؟ اگر حملہ آور گروپ کی جانب سے ذمہ داری لئے جانے کے باوجود ان کی حکومت اس کے خلاف اپنے طور پر کوئی کارروائی کرنے کی بجائے خود ہندوستان کو کٹہرے میں لانے کی کوشش کرے تو یہ ان کے نزدیک تو تعلقات بہتر بنانے کا مہذب طریقہ ہوسکتا ہے لیکن مہذہب دنیا اور مہذب معاشرہ تو ان کے اس طریقہ کار کو مہذب نہیں مان سکتا۔ مہذب طریقہ وہ تھا جس کا نمونہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اس وقت پیش کیا تھا جب کرائسٹ چرچ میں مسجدوں پر حملے ہوئے تھے!
جہاں تک ہندوستان سے مہذب انداز سے تعلقات کو فروغ دینے کی بات ہے تو ہمارا خیال ہے کہ کوئی بھی تجزیہ کار ان کے اس حملے کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہوگا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پیدا ہونے کی بنیادی وجہ سب کو معلوم ہے۔ سرحد پار سے دہشت گردی کا سلسلہ بند ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ حالیہ دنوں میں کشیدگی بڑھنے کی خاص وجہ یہ رہی کہ پلوامہ میں جیش محمد کے دہشت گردوں نے چالیس سے زیادہ جوانوں کو شہید کیا اور فوراً اس کی ذمہ داری بھی لی۔ کیا عمران خان کو معلوم نہیں ہے کہ جیش محمد کہاں کی تنظیم ہے اور ہندوستان کے تعلق سے اس کی کیا کارستانیاں رہی ہیں؟ پھر بھی اتنے بڑے دہشت گردا نہ واقعہ کے بعد بجائے اس تنظیم کی مذمت کرنے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کے وہ یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ اگر وہ حملہ کسی پاکستانی گروپ کی کارستانی تھی تو اس کا معقول ثبوت پیش کیا جائے! کیا اسی کو موصوف، تعلقات بہتر بنانے کا ‘مہذب طریقہ’ تصور کرتے ہیں؟ اگر حملہ آور گروپ کی جانب سے ذمہ داری لئے جانے کے باوجود ان کی حکومت اس کے خلاف اپنے طور پر کوئی کارروائی کرنے کی بجائے خود ہندوستان کو کٹہرے میں لانے کی کوشش کرے تو یہ ان کے نزدیک تو تعلقات بہتر بنانے کا مہذب طریقہ ہوسکتا ہے لیکن مہذہب دنیا اور مہذب معاشرہ تو ان کے اس طریقہ کار کو مہذب نہیں مان سکتا۔ مہذب طریقہ وہ تھا جس کا نمونہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اس وقت پیش کیا تھا جب کرائسٹ چرچ میں مسجدوں پر حملے ہوئے تھے!
Comments
Post a Comment