پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کو فروغ دینے کا سلسلہ ہنوز جاری
پاکستان لاکھ یہ ڈھول پیٹے کہ وہ اب دہشت گرد گروپوں کی حمایت نہیں کرتا اور یہ کہ موجودہ حکومت اس بات کی بھرپور کوشش کررہی ہے کہ پاکستان میں سرگرم ان دہشت گرد گروپوں پر لگام کسی جاسکےجو پڑوسی ملکوں میں تخریب کاری پھیلاتے ہیں، لیکن اس قسم کے دعوے صرف بین الاقوامی برادری کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔ پاکستان بار بار اس دعویٰ کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے اور یہ کہ اب تک ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی، دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں ۔ پاکستان کا یہ دعویٰ تو کسی حد تک صحیح ہوسکتا ہے کہ اس نے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے، جو خود پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے عملے یا شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن جن دہشت گردوں کی پناہ گاہیں پاکستان میں ہیں اور جو ہندوستان یا افغانستان میں حملے کرتے ہیں، ان کے بارے میں پاکستان یہ دعوی قطعی نہیں کرسکتا۔ تھوڑی بہت دکھاوے کی کارروائی ضرور ہوتی ہے لیکن ان کا مقصد ہندوستان یا افغانستان میں ہونے والے حملوں کو روکنا نہیں ،بلکہ بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہوتا ہے۔ اس کی اس سے بڑی مثال اور کیا ...