جادھو معاملے میں پاکستان نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی
اپنے ملک کی شبیہ کا خیال کرنے والے لیڈران عالمی قوانین کا احترام کرتے ہیں، یہ خیال رکھتے ہیں کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جو ملک کی شبیہ مسخ کرنے کی وجہ بنے لیکن پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کی مثبت شبیہ بنانے کی طرف اکثر لیڈروں نے توجہ نہیں دی، اگر کسی لیڈر نے پاکستان کی مثبت شبیہ بنانے کی کوشش کی تو وہ اقتدار سے ہٹا دیا گیا یاسزا دے کر اس کا منہ بند کر دیا گیا، کیونکہ پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ کی اپنی الگ پالیسی ہے۔ اس بات سے اس کا کوئی سروکار نہیں کہ اس کی مذموم حرکتوں کی وجہ سے پاکستان کی بدنامی ہوتی رہی ہے۔ پہلے پڑوسیوں کو پاکستان سے شکایت تھی، اب دیگر ملکوں اور عالمی اداروں کو بھی اس سے شکایت ہے، اس لیے پاکستان کے خلاف انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کی شکایت کوئی چونکانے والی بات نہیں ہے۔
30 اکتوبر 2019 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سربراہ جسٹس عبدالقوی یوسف نے کہا کہ ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو کے معاملے میں پاکستان نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔ عبدالقوی نے بتایا کہ 17جولائی 2019 کے اپنے فیصلے میں پاکستان سے انہوں نے کہا تھا کہ کلبھوشن جادھو کو دی گئی موت کی سزا پر نظر ثانی کرے لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔ یہ ہندوستان کی اس بات کی تصدیق ہے کہ کلبھوشن جادھو کو موت کی سزا سناکر پاکستان نے انصاف نہیں کیا ہے، کیونکہ مقدمے کی کارروائی فوجی عدالت میں بند کمرے میں یکطرفہ چلتی رہی، کلبھوشن جادھو کو اپنا مقدمہ لڑنے کے لیے ہندوستانی سفات کاروں تک رسائی نہیں دی گئی، یہ 1963 کے ویانا کنونشن کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اس کے بعد معاملہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں گیا تھا۔ پاکستان کو یہ امید تھی کہ فیصلہ اس کے حق میں آئے گا لیکن فیصلہ انصاف کے حق میں آیا۔ اس کے باوجود پاکستان نے کلبھوشن جادھو کی سزا پر نظر ثانی کی پیش رفت نہیں کی اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو یہ بتانا پڑا کہ پاکستان کا عمل انصاف کے عالمی قوانین کے موافق نہیں۔
اس طرح اس بات کی تائید ہو گئی کہ ہندوستان حق پر تھا۔ پاکستان واقعی کلبھوشن جادھو کے ساتھ انصاف نہیں کرنا چاہتا لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ پاکستان انصاف کیوں نہیں کرنا چاہتا؟ وہ ایک بے قصور انسان کو تختۂ دار پر کیوں چڑھانا چاہتا ہے؟ ایسا کر کے اسے کیا ملے گا؟ جواب بس یہ ہے کہ پاکستان ایسا ہندوستان کو بدنام کرنے کے لیے کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ہندوستان بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے تاکہ دہشت گردی کے حوالے سے عالمی برادری کی توجہ صرف اسی پر مرکوز نہ رہے، توجہ کچھ ہندوستان کی طرف بھی جائے۔ اسی لیے اس نے ہندوستانی نیوی کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کے خلاف معاملہ ’جاسوسی اور دہشت گردی‘ کا بنایا لیکن تمام کوششوں کے باوجود پاکستان یہ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا کہ کلبھوشن جادھو کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا تھا۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے پاکستان کو یہ حکم دے دیا کہ وہ ہندوستانی شہری کی سزا پر نظر ثانی کرے مگر پاکستان نے اس کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔ وہ اپنی روش بدلنے کے لیے تیار نہیں۔
دراصل پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ہندوستان سے دشمنی کچھ ایسی ہے کہ اسے ہندوستان کو نقصان پہنچاتے وقت اس بات کا بھی خیال نہیں رہتا کہ پاکستان کیا سے کیا ہو گیا ہے، پاکستان بڑی حد تک الگ تھلگ پڑ گیا ہے، کیونکہ دہشت گردی کے حوالے سے پہلے صرف ہندوستان کو شکایت تھی لیکن اب افغانستان اور ایران سمیت دیگر ملکوں کو بھی اس سے شکایت ہے۔ امریکہ کے بیشتر لیڈران یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ امریکہ کی دہشت گردی مخالف افغان جنگ کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان رہا ہے۔ اس نے بظاہر امریکہ کا ساتھ دیا ہے مگر اس کی حمایت افغان دہشت گردوں کو حاصل رہی ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت ایبٹ آباد میں اسامہ کی موجودگی اور امریکی فوجیوں کے ہاتھوں اس کی ہلاکت ہے، اس لیے کلبھوشن جادھو پر ’جاسوسی اور دہشت گردی‘ کا الزام عائد کر کے پاکستان نے یہ کوشش کی کہ ہندوستان کو بھی اپنی امیج میں رنگ دے لیکن کامیابی اسے نہیں مل سکی، کلبھوشن جادھو کا معاملہ اس کی مزید بدنامی کی وجہ بن گیا ہے۔ اس کے لیے بس ایک راستہ بچا ہے کہ وہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے فیصلے پر عمل کرے، کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گا کہ انصاف کے عالمی قانون کو مانتا ہے اور اقوام متحدہ کے ممبر ملکوں کے لیے یہ موقع ہوگا کہ ایک بے قصور کو انصاف دلانے کے لیے وہ پاکستان کے خلاف کارروائی کریں، اسے یہ احساس دلائیں کہ انصاف کے بغیر انسانیت کا کوئی تصور نہیں ہے!
30 اکتوبر 2019 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سربراہ جسٹس عبدالقوی یوسف نے کہا کہ ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو کے معاملے میں پاکستان نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔ عبدالقوی نے بتایا کہ 17جولائی 2019 کے اپنے فیصلے میں پاکستان سے انہوں نے کہا تھا کہ کلبھوشن جادھو کو دی گئی موت کی سزا پر نظر ثانی کرے لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔ یہ ہندوستان کی اس بات کی تصدیق ہے کہ کلبھوشن جادھو کو موت کی سزا سناکر پاکستان نے انصاف نہیں کیا ہے، کیونکہ مقدمے کی کارروائی فوجی عدالت میں بند کمرے میں یکطرفہ چلتی رہی، کلبھوشن جادھو کو اپنا مقدمہ لڑنے کے لیے ہندوستانی سفات کاروں تک رسائی نہیں دی گئی، یہ 1963 کے ویانا کنونشن کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اس کے بعد معاملہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں گیا تھا۔ پاکستان کو یہ امید تھی کہ فیصلہ اس کے حق میں آئے گا لیکن فیصلہ انصاف کے حق میں آیا۔ اس کے باوجود پاکستان نے کلبھوشن جادھو کی سزا پر نظر ثانی کی پیش رفت نہیں کی اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو یہ بتانا پڑا کہ پاکستان کا عمل انصاف کے عالمی قوانین کے موافق نہیں۔
اس طرح اس بات کی تائید ہو گئی کہ ہندوستان حق پر تھا۔ پاکستان واقعی کلبھوشن جادھو کے ساتھ انصاف نہیں کرنا چاہتا لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ پاکستان انصاف کیوں نہیں کرنا چاہتا؟ وہ ایک بے قصور انسان کو تختۂ دار پر کیوں چڑھانا چاہتا ہے؟ ایسا کر کے اسے کیا ملے گا؟ جواب بس یہ ہے کہ پاکستان ایسا ہندوستان کو بدنام کرنے کے لیے کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ہندوستان بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے تاکہ دہشت گردی کے حوالے سے عالمی برادری کی توجہ صرف اسی پر مرکوز نہ رہے، توجہ کچھ ہندوستان کی طرف بھی جائے۔ اسی لیے اس نے ہندوستانی نیوی کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کے خلاف معاملہ ’جاسوسی اور دہشت گردی‘ کا بنایا لیکن تمام کوششوں کے باوجود پاکستان یہ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا کہ کلبھوشن جادھو کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا تھا۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے پاکستان کو یہ حکم دے دیا کہ وہ ہندوستانی شہری کی سزا پر نظر ثانی کرے مگر پاکستان نے اس کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔ وہ اپنی روش بدلنے کے لیے تیار نہیں۔
دراصل پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ہندوستان سے دشمنی کچھ ایسی ہے کہ اسے ہندوستان کو نقصان پہنچاتے وقت اس بات کا بھی خیال نہیں رہتا کہ پاکستان کیا سے کیا ہو گیا ہے، پاکستان بڑی حد تک الگ تھلگ پڑ گیا ہے، کیونکہ دہشت گردی کے حوالے سے پہلے صرف ہندوستان کو شکایت تھی لیکن اب افغانستان اور ایران سمیت دیگر ملکوں کو بھی اس سے شکایت ہے۔ امریکہ کے بیشتر لیڈران یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ امریکہ کی دہشت گردی مخالف افغان جنگ کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان رہا ہے۔ اس نے بظاہر امریکہ کا ساتھ دیا ہے مگر اس کی حمایت افغان دہشت گردوں کو حاصل رہی ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت ایبٹ آباد میں اسامہ کی موجودگی اور امریکی فوجیوں کے ہاتھوں اس کی ہلاکت ہے، اس لیے کلبھوشن جادھو پر ’جاسوسی اور دہشت گردی‘ کا الزام عائد کر کے پاکستان نے یہ کوشش کی کہ ہندوستان کو بھی اپنی امیج میں رنگ دے لیکن کامیابی اسے نہیں مل سکی، کلبھوشن جادھو کا معاملہ اس کی مزید بدنامی کی وجہ بن گیا ہے۔ اس کے لیے بس ایک راستہ بچا ہے کہ وہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے فیصلے پر عمل کرے، کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گا کہ انصاف کے عالمی قانون کو مانتا ہے اور اقوام متحدہ کے ممبر ملکوں کے لیے یہ موقع ہوگا کہ ایک بے قصور کو انصاف دلانے کے لیے وہ پاکستان کے خلاف کارروائی کریں، اسے یہ احساس دلائیں کہ انصاف کے بغیر انسانیت کا کوئی تصور نہیں ہے!
Comments
Post a Comment