موضوع : پاکستان میں جمہوریت کیلئے بڑھتے خطرات
پاکستان میں جمہوریت کا سوال ابتدا سے ہی موضوع گفتگو رہا ہے اور ہمیشہ یہ سوال بھی اٹھتا رہا ہے کہ آیا پاکستان کے لوگ جس قسم کا سیاسی تجربہ کررہے ہیں، اسے جمہوریت کا نام دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟وہاں بہت ساری کارروائیاں تو ایسی ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ جمہوریت رائج ہے۔ مثلاً انتخابات بھی ہوتے ہیں، حکومت کی تشکیل بھی عمل میں آتی ہے اور سب کچھ، کچھ دن باقاعدگی سے چلتا ہے لیکن اقتدار کا ڈھانچہ کچھ ایسا ہے کہ منتخب حکومت کے پاس وہ اختیارات نہیں ہوتے جو جمہوریت میں ہوتے ہیں۔ مثلاً خارجہ پالیسی پر منتخب نمائندوں کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی پوری طرح عیاں ہے کہ سیکورٹی سے متعلق جملہ امورسے حکومتوں کو ہمیشہ دور رکھا جاتا ہے۔ طاقت کا اصل سرچشمہ فوجی ہیڈ کوارٹر ہے جو راولپنڈی میں واقع ہے، اسلام آباد راجدھانی ہے۔ ریاست کا کوئی بھی ادارہ اتنی طاقت کا حامل نہیں ہے جتنا طاقتور فوجی ٹولہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک بات اور ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا کم وبیش نصف حصہ پر فوج نے براہ راست حکومت کی۔ کئی بار فوجی جنرلوں نے بغاوت کی اور سیویلین حکومتوں کو بے دخل کرکے خود اقتدار پر قبضہ کیا اور لمبی لمبی مدت تک عوام کو جمہوریت سے محروم رکھا۔ پہلی بغاوت 1958 میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے کی تھی اس کے بعد ایک دوسرے جنرل، جنرل یحیٰ خان نے کمان سنبھالی، ان کا دور اقتدار بہت مختصر تھا۔ ان دونوں جنرلوں کا مجموعی دور 12 سال سے زائد عرصہ تک قائم رہا۔ 1970 میں عام انتخابات ہوئے تھے۔ انتخابات کے نتائج مشرقی پاکستان کی پارٹی عوامی لیگ کے حق میں آئے تھے لیکن اسے اقتدار نہیں سونپا گیا اس لئے مشرقی بازو نے بغاوت کردی اور 1971 میں وہ بازو پاکستان سے الگ ہوگیا اور ایک نیا خود مختار ملک بنگلہ دیش کے نام سے وجود میں آیا۔ اس واقعہ کے بعد امید کی گئی تھی کہ اب فوج سیاست کے دشت کی سیاحی نہیں کرے گی۔ لیکن یہ بھی خیال خام ثابت ہوا۔ 1977 میں آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ پلٹ کر خود ساختہ صدر بن بیٹھے۔ 11 سال سے زیادہ وہ برسراقتدار رہے 1988 میں وہ ایک ہوائی حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد انتخابات کئی بار ہوئے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف وزیر اعظم بنے لیکن کوئی بھی دو ڈھائی سال سے زیادہ اپنے عہدے پر نہ ٹک پایا۔ اس طرح دو دوڈھائی ڈھائی سال کے لئے حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں۔ نواز شریف 1997 میں دوسری بار وزیراعظم بنے لیکن 1999 کے اواخر میں آرمی چیف جنرل مشرف نے انہیں اقتدار سے بے دخل کردیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں انہیں مع خاندان جلا وطن کردیا گیا اور وہ 2007 تک وہیں رہے۔ 2007 سے جنرل مشرف کا زوال شروع ہوا۔ وکیلوں کی ایک تحریک ایسی آندھی لے آئی کہ فوجی راج سنگھاسن ڈانواڈول ہوگیا 2007 کے اواخر میں عام انتخابات ہونے والے تھے لیکن بے نظیر بھٹو ایک دھماکے میں ہلاک ہوگئیں۔ کہا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں وہ ہلاک ہوئیں لیکن اصل ذمہ دار جنرل مشرف ہی کو مانا جاتا ہے، بہرحال 2008 کے اوائل میں عام انتخابات ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں ایک منتخب حکومت قائم ہوئی۔ اس حکومت نے پانچ سال کا ٹرم تو پورا کرلیا اگرچہ وزیراعظم اپنی پوری مدت تک اس عہدہ پر قائم نہ رہ سکا۔ اس کے بعد انتخابات ہوئے اور حکومت پرامن طور پر ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کو منتقل ہوئی۔ لیکن اس بار بھی ایک وزیراعظم پوری پانچ سال کی مدت تک نہ رہ سکا۔ نواز شریف سے فوجی ٹولہ بری طرح ناراض ہوا اور ان کے خلاف مقدمات قائم کرکے انہیں اقتدار سے الگ ہونے پر مجبور کردیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نواز شریف نے وزارت عظمی کے اختیارات استعمال کرنے کی کوشش کی جو پاکستان میں ‘‘شجرممنوعہ ’’ سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ سال جولائی میں عام انتخابات ہوئے اور چونکہ فوجی ٹولہ نہیں چاہتا تھا کہ نواز شریف کی پارٹی اقتدار میں آئے لہٰذا اس نے اپنا اصلی رنگ دکھانا شروع کیا۔ الیکشن میں فوج اپنی پسند کا وزیراعظم بنانا چاہتی تھی لہٰذا اس نے وہ تمام ہتھکنڈے استعمال کئے جو اکثر استعمال کرتی ہے۔ ان میں صحافیوں اور سیاست دانوں کو ڈرانے دھمکانے سے لے کر عدالت ، احتساب بیورو اور ریاست کے دوسرے اداروں کا غلط استعمال بھی شامل ہے۔ بہرحال کسی صورت اپنی پسند کی حکومت قائم کرنے میں فوج کامیاب ہوگئی۔ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم جیل میں بند ہیں اور اب شاید انہیں علاج کے لئے لندن جانے کی اجازت مل جائے۔ پاکستان کے مشہور اور ممتاز صحافی نجم سیٹھی نے اپنے ایک جائزے میں ایسٹیبلشمنٹ اور عمران خان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مل کر نواز شریف کی صحت سے کھلواڑ کیا۔ ان کے علاج میں جان بوجھ کر بے حسی اور لاپرواہی برتی گئی جس کے نتیجہ میں ان کی حالت اتنی نازک ہوگئی کہ وہ موت کے دہانے پر پہنچ گئے(ہماری دعا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہوجائیں)۔ پاکستان میں یہ سب کچھ بھی ہوسکتا ہے یہ ہے پاکستان او رپاکستانی جمہوریت کی کہانی جہاں کئی بار کے منتخب وزیراعظم کے ساتھ جیل میں ایسا غیرانسانی سلوک ہوتا ہے۔
Comments
Post a Comment