‘‘پاکستان کی فوج ہمیشہ جمہوری طور پرمنتخب حکومت کے ساتھ کھڑی رہی’’ واقعی؟

پاکستان میں ایک مذہبی سیاسی جماعت جمعیۃ العلماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن نے موجودہ عمران خان حکومت کے خلاف اسلام آبادمیں ایک زبردست احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا اور اس میں یہ مطالبہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان کوفوراً وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے گزشتہ جمعہ یعنی یکم نومبر کو اس ریلی کا اہتمام کیا تھا اور وزیراعظم کو صرف دو روز کی مہلت دی تھی کہ اس کے اندر ہی اندر وہ استعفیٰ دیں۔ انہوں نے اسے ‘‘آزادی مارچ’’ کا نام دیا تھاجس میں دوسری مین اسٹریم اپوزیشن پارٹیوں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ ان سب کا کہنا ہے کہ عمران خان دھاندلی کے ذریعہ انتخاب جیتے تھے اور انہیں صحیح معنوں میں عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ان کایہ بھی الزام ہے کہ موجودہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے سے قاصررہی ہےاور پاکستانی معیشت کو اس نے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ جواب میں عمران خان نے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا ہے اور اپوزیشن پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ لاقانونیت کا راستہ اختیار کر رہے ہیں اور ایک منتخب حکومت کو ڈانواڈول کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کی حمایت میں توقع کے عین مطابق پاکستانی فوج پورے طور پر کھڑی نظر آئی۔ فوج کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج دنیا کی ایک انتہائی ڈسپلن فوج ہےاور کبھی یہ نہیں چاہے گی کہ کوئی چنی ہوئی جمہوری حکومت کو غیر مستحکم بنانے کی کوشش کرے۔ پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے گزشتہ سنیچر کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی فوج انتہائی غیر جانب دار ریاستی ادارہ ہے جو آئین کا احترام کرتی ہے اور ہمیشہ منتخب جمہوری حکومت کے ساتھ کھڑی رہی۔ اس لئے کسی بھی گروپ کو اس وقت یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ حکومت کو غیر مستحکم بنانے کی کوشش کرے۔ سبحان اللہ! یہ اس پاکستانی فوج کا دعویٰ ہےجس نے پاکستان کی تاریخ کے کم وبیش نصف حصے پر براہ راست حکمرانی کی اور ہر بارلمبی لمبی مدت تک پاکستان کے عوام کو جمہوریت سے محروم رکھا۔ اس فوج کے ترجمان کے منہ سے جس پر کم از کم دو سابق وزرائے اعظم کے خون کا الزام ہو، یہ دعویٰ سن کر بڑا عجیب لگا۔ پاکستانی فوج، ان مسلح افواج کو جمہوریت اور آئین کی محافظ قرار دے رہی ہے جن کے جنرلوں نے بار بار جمہوری طور پر منتخب حکومتوں کو اقتدار سے غیرآئینی طور پر بے دخل کیا اور خود اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کیا۔ یہ ایک لطیفہ کے سوا اور کچھ نہیں ہے!

آخری فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی اگر بات کی جائے تو انہوں نے نواز شریف کو نہ صرف اقتدار سے ہٹایا تھا بلکہ ان پر دہشت گردی سمیت کئی الزام لگا کر جیل بھی بھیجا تھا اور بعد ازاں ان کو خاندان سمیت جلا وطن بھی کیا تھا۔ ہاں 2008کے بعد براہ راست کوئی فوجی بغاوت نہیں ہوئی لیکن اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ اسی پاکستانی فوج نے تیسری بار وزیراعظم منتخب ہونے والے نواز شریف کے خلاف اس وقت محاذ قائم کیا جب ان کی حکومت نے مسلح افواج کو یہ ہدایت دی کہ وہ ان دہشت گرد گروپوں کو لگام دے جن کےباعث پاکستان دنیا بھر میں بدنام ہو رہا ہے۔ اسی کی پاداش میں نواز شریف کے خلاف سازشوں کا جال بچھایا گیا اور عدالت اور احتساب بیورو سمیت ریاست کے کئی اداروں کو استعمال کرکے انہیں اور ان کے خاندان کے کئی افراد کو جیل بھیجوایا گیا ۔نواز شریف ان دنوں بھی جیل میں ہیں اور ان کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ اس کا الزام بھی پاکستان کے لوگ فوج ہی پر عائد کر رہے ہیں۔

موجودہ حکومت کو غیر مستحکم ہونے سے بچانے اور جمہوری قدروں کی محافظ بننے کا دعویٰ کرنے والی اسی فوج اور اسی آرمی چیف کی جمہوریت نوازی کی ایک اور مثال ملاحظہ کیجئے۔ شاید نومبر 2017کی بات ہے ۔ ایک مسلکی انتہا پسند اور دہشت گرد گروپ تحریک لبیک پاکستان نے اسلام آباد ہی میں ایک مظاہرہ کیا تھا لیکن اس مظاہرے میں لاقانونیت کا بھی مظاہرہ ہوا۔ مظاہرین نے پولیس والوں پر حملہ بھی کیا تھا اور وزیرقانون کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن اس وقت فوج جمہوریت کی محافظ بننے نہیں آئی بلکہ اس نے مظاہرین کی ہاں میں ہاں ملائی اور ان میں پیسے بھی بانٹےتاکہ وہ مزید احتجاج کریں۔ بعد ازاں آرمی چیف نے بیچ بچاؤ کیا اور اس وقت کے وزیراعظم سے مل کر مظاہرین کے تمام مطالبات تسلیم کرنے پر انہیں مجبور کیا۔ مظاہرین کا وہ مطالبہ بھی تسلیم کر لیا گیا جس میں اس وقت کے وزیرقانون کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کی لاقانونیت اور توڑپھوڑ کی کاررائیوں کو نظرانداز کردیا گیا، کیونکہ اس وقت حکومت نواز شریف کی پارٹی کی تھی۔

یہ ہے کہانی پاکستانی فوج کی ڈسپلن اور جمہوریت نوازی کی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ