قومی مفادات کے پیش نظر ہندوستان کا آر سی ای پی میں شامل نہ ہونے کا

بعد ایکٹ ایسٹ پالیسی کے باعث ہندوستان کا ان مذاکرات میں سرگرمی کے ساتھ شرکت کرنا فطری تھا۔ ان مذاکرات کا مقصد ایک جدید، سودمند اور جامع علاقائی گروپ کی تشکیل کرنا تھا۔

علاقہ میں دوستانہ سلوک کے جذبے کے تحت ہندوستان نے آر سی ای پی سے متعلق مذاکرات میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا تھا اگرچہ اسے مشرقی ایشیاء کے ملکوں کے ساتھ آزاد تجارت سے متعلق زیادہ تر معاہدوں سے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ ایف ٹی اے یعنی آزاد تجارت سے متعلق معاہدوں کے بعد سے آسیان، جاپان اور کوریا کیساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ دوگنا سے زیادہ ہوگیا ہے۔ ایف ٹی اے کے پارٹنروں کے یہاں سے درآمدات میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن چونکہ محصول کی بندشوں کے باعث ہندوستان کی آسیان کے بازاروں تک رسائی مشکل تھی ، اس لئے ان ملکوں کو ہندوستانی برآمدات حسب توقع نہیں تھیں۔ ہندوستان نے آسیان ملکوں کے ساتھ ٹریڈ اینڈ گڈس نا م سے جو تجارتی معاہدہ کیا اس میں اس نے محصول کی شرح کافی کم کردی تاکہ ٹریڈ اِن سروسز معاہدے سے ہونے والے خسارے کی تلافی کی جاسکے۔ لیکن بدقسمتی سے ٹریڈ اِن گڈس معاہدہ آسیان کے کچھ ملکوں کے پس وپیش کے باعث نافذ نہ ہوسکا۔

پیر کے روز بینکاک میں 16 ملکوں کے گروپ کی سربراہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے آر سی ای پی کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ مصنوعات اور خدمات پر الگ الگ بات چیت کرنے کی بجائے دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر اس پر بات کریں۔ مصنوعات کے بارے میں جو بات چیت ہورہی تھی اس میں ہندوستان کو نقصان کی امید تھی اس لئے اگر مصنوعات اور خدمات دونوں کو جوڑ کر ا ن پر بات چیت ہوتی تو امید تھی کہ مصنوعات کے شعبہ میں ممکنہ خسارے کی تلافی ہوجاتی لیکن بدقسمتی سے کچھ ملکوں نے اپنے خدمات کے شعبہ کو دوسروں کیلئے کھولنے میں پس وپیش کا مظاہرہ کیا اور نئی دہلی سے اپنی مصنوعات کی فروخت کیلئے ہندوستانی بازار کھولنے کا مطالبہ کیا۔

آر سی ای پی کو مکمل کرنے کی ڈیڈلائن میں بار بار توسیع ہوتی رہی ہے۔ شروع میں طے کیا گیاتھا کہ بات چیت کیلئے 2014 کے موسٹ فیورڈ نیشن والی شرح محصول کا استعمال کیا جائیگا۔ چونکہ آر سی ای پی کو آئندہ برس سے نافذ ہونا تھا اس لئے ہندوستان نے درخواست کی کہ کسٹم ڈیوٹی کی کٹوتی کا نقطہ آغاز 2019 کردیا جائے تاکہ موجودہ حقائق سامنے آسکیں لیکن اس مشورے سے بہت سے ملکوں نے اتفاق نہیں کیا۔ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستانی بازار خاص طور پر چینی مصنوعات سےبھر گئے ہیں جس سے گھریلو صنعتوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اس لئے ہندوستان نے ایک ایسے میکینزم کیلئے درخواست کی تھی جہاں درآمدات میں اضافہ کو روکنے کیلئے زیادہ ٹیکس لگایا جاسکے۔ اس درخواست کو بھی ماننے سے انکار کردیا گیا کیونکہ ان تمام ملکوں کی نظریں ہندوستان کے بڑے گھریلو بازار پر تھیں۔

ہندوستان نے رولس آف اوریجن کو بھی زیادہ سخت بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ محصول کے مختلف ریجیم کا غلط استعمال نہ ہوسکے۔ نئی دہلی نے آئندہ بیس سال کی مدت میں چین کی مصنوعات پر محصولات میں کمی لانے سے بھی اتفاق کیا۔ ہندوستان نے رولس آف اوریجن کی خلاف ورزی ہوتے ہوئے دیکھی ہے۔ اس کی خلاف ورزیاں خاص طور پر آسیان ایف ٹی اے کے تحت کی گئی ہیں۔ اس لئے گھریلو صنعتوں کی حفاظت کیلئے وہ ایک ایسا میکینزم چاہتا تھا جس کی خلاف ورزی نہ کی جاسکے۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ ممبران کی مخالفت کے باعث اس مطالبہ پر بھی غور نہیں کیا گیا۔ آر سی ای پی کے ترقی یافتہ ممالک نے سرمایہ کاری اور ای۔ کامرس سے متعلق جوتجاویز رکھی تھیں اگر انہیں مان لیا جاتا تو ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملکوں پر اس کے سنگین مضمرات مرتب ہوتے۔

گروپ کی وزارتی سطح کی میٹنگوں کے دوران ہندوستان کے کامرس اور صنعتوں کے وزیر پیوش گوئل اور دوسرے سینئر افسروں نے ان تمام تشویش کا بار بار ذکر کیا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان پر غور نہیں کیا گیا۔ اس لئے بات چیت کا کوئی متوازن نتیجہ سامنے نہ آنے کے بعد ہندوستان نے آر سی ای پی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا کیونکہ ہندوستان کے نزدیک گھریلو صنعتوں اور چھوٹے کاروباریوں کے مفادات کا تحفظ سب سے اہم ہے۔ نئی دہلی گروپ میں شامل نہیں ہوا تاہم اس نے واضح کردیا ہے کہ اگر اس کی تشویشات کا ازالہ کردیا گیا تو وہ معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے غور کرسکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ