پاکستان دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے سے اب بھی گریزاں

چندہ ماہ قبل امریکہ میں ایک تھنک ٹینک کی میٹنگ میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے دہشت گردوں کے حوالے سے کہا تھا کہ 40-30 ہزار کے قریب مسلح دہشت گرد اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انہوں نے پاکستان کی پچھلی حکومتوں کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے ان گروپوں کے خلاف کوئی موثر کارروائی ہی نہیں کی تھی جبکہ ان کی حکومت اب موثر قدم اٹھانے جا رہی ہے۔ عمران خان کی حکومت نے اب تک کچھ کیا یا نہیں یہ تو ان کی حکومت یا وہ خود جانیں لیکن پاکستان سے موصول ہونے والی خبریں تو کافی مایوس کن ہیں۔ دہشت گرد گروپوں کے خلاف موثر طور پر کارروائی کرنے کا بیڑا تو خود پاکستان کی حکومت نے برسوں پہلے اس وقت اٹھایا تھا جب پشاور آرمی اسکول پر دہشت گردوں کا وحشیانہ حملہ ہوا تھا۔ اس حملے کے بعد کچھ ایسا ماحول بنا تھا کہ گویا پورا پاکستان بشمول سیویلین حکومت و فوج بالکل ہم خیال ہو گئے ہیں اور اب یہ تہیہ کرلیا ہے کہ بلاامتیاز تمام گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی گروپ حتیٰ کہ اندرون پاکستان نفرت آمیز باتیں کرنے والوں اور غیر ذمہ دارمدرسوں کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس مقصد کے لئے نیشنل ایکشن پلان بنا تھااور اس کے نکات پر سختی سے عمل کرنے کا عزم ظاہر کیاگیا تھا ۔ کم و بیش 5 سال کا عرصہ گذر گیا لیکن پاکستان میں سرگرم ان خطرناک دہشت گردوں کے خلاف کوئی بھی قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔

بہر حال عمران خان کی حکمت عملی نے امریکہ بلکہ پوری عالمی برادری کے سامنے اس بات کا پورا ارادہ ظاہر کیاکہ وہ ان گروپوں کے خلاف بالخصوص کارروائی کرے گی جو پڑوسی ملکوں، مثلاً ہندوستان اور افغانستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعہ تباہی مچاتے ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں ایسی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہےکہ بنیادی نوعیت کے بھی ایسے کام نہیں ہوئے ہیں جن سے پاکستان میں سر گرم ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف ایسی کوئی کارروائی ہوتی ہوئی نظر آئے جو پڑوسی ملکوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان دہشت گردوں کے خلاف تو حد درجہ لاپروائی برتی جا رہی ہے جنہیں اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کی جانب سےخطرناک دہشت گرد قرار دیاگیا ہے۔ ان میں حقانی نٹ ورک ،طالبان،لشکر طیبہ اور جیش محمد وغیرہ کا نام بطور خاص لیا جا رہا ہے ۔یہ وہ گروپ ہیں جن پر بیشتر عالمی اداروں کی کڑی نظر ہے۔ مثلاً فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف لگاتار پاکستان کو وارننگ دے رہا ہے کہ ان مذکورہ گروپوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ سے متعلق سر گرمیوں پر پاکستان روک لگانے میں ناکام رہاہے ۔ اس طرح کی وارننگ ایف اے ٹی ایف نے گذشتہ جون میں بھی پاکستان کو دی تھی اور اکتوبر میں ہونے والی میٹنگ کے بعد ایک بار پھر تین چار ماہ کی مہلت دی ہے کہ پاکستان فروری تک موثر کارروائی کرے ورنہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کرلیا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کایہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو 27 نکاتی ایکشن پلان پر عمل کرنا تھا لیکن اتنا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی اس جانب برائے نام پیش رفت ہوئی ہے ۔ ایف اے ٹی ایف کے مطابق27 نکات میں سے پانچ ، چھ نکات پر ہی پاکستان نے کچھ کارروائی کی ہے ۔ اسی سے اندازہ ہو تا ہے کہ اتنی سخت وارننگ کے باوجود پاکستان کس حد تک لا پر وائی اور بے حسی کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔

ابھی چند روز قبل امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ سے بھی یہی ظاہر ہوا کہ دہشت گرد گروپوں بطور خاص لشکر طیبہ ، جیش محمد اور حقانی نٹ ورک وغیرہ کے خلاف کارروائی کرنے میں پاکستان نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق ان گروپوں کی سر گرمیاں پاکستان میں واقع ان کی پناہ گاہوں سے اب بھی جاری ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ظاہر کی گئی ہے کہ نہ تو فنڈ اکٹھا کرنے سے متعلق ان کی سر گرمیوں پر کوئی روک لگی ہے اور نہ ہی ان کی صفوں میں نئی بحالیوں کا سلسلہ رکا ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے اس طرح کی رپورٹ ہر سال جاری کی جاتی ہے اور اسے کانگریس کا مینڈیٹ حاصل ہوتا ہے ۔2018 کی رپورٹ میں حکومت پاکستان کی لا پر وائی پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان ہر محاذ پر نا کام ثابت ہو رہا ہے ۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں یہ بات نمایاں طور پر کہی گئی ہے کہ خود پاکستان نے اپنے وضع کردہ نیشنل ایکشن پلان میں کئی سال قبل یہ عہد کیا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کسی بھی مسلح دہشت گرد گروپ کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ پاکستان کی سر زمین سے اپنی سر گرمیاں جاری رکھیں لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ متعدد گروپ پاکستان سے باہر اپنی سر گرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فنڈ بھی اکٹھاکر رہے ہیں اور نئے لوگوں کوبھرتی کر کے ٹریننگ بھی دے رہےہیں۔ یعنی وہی پرانی روش اب بھی برقرار ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ