Posts

پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کو فروغ دینے کا سلسلہ ہنوز جاری

پاکستان لاکھ یہ ڈھول پیٹے کہ وہ اب دہشت گرد گروپوں کی حمایت نہیں کرتا اور یہ کہ موجودہ حکومت اس بات کی بھرپور کوشش کررہی ہے کہ پاکستان میں سرگرم ان دہشت گرد گروپوں پر لگام کسی جاسکےجو پڑوسی ملکوں میں تخریب کاری پھیلاتے ہیں، لیکن اس قسم کے دعوے صرف بین الاقوامی برادری کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔ پاکستان بار بار اس دعویٰ کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے اور یہ کہ اب تک ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی، دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں ۔ پاکستان کا یہ دعویٰ تو کسی حد تک صحیح ہوسکتا ہے کہ اس نے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے، جو خود پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے عملے یا شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن جن دہشت گردوں کی پناہ گاہیں پاکستان میں ہیں اور جو ہندوستان یا افغانستان میں حملے کرتے ہیں، ان کے بارے میں پاکستان یہ دعوی قطعی نہیں کرسکتا۔ تھوڑی بہت دکھاوے کی کارروائی ضرور ہوتی ہے لیکن ان کا مقصد ہندوستان یا افغانستان میں ہونے والے حملوں کو روکنا نہیں ،بلکہ بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہوتا ہے۔ اس کی اس سے بڑی مثال اور کیا ...

موضوع: عمران خان کے خلاف ‘‘آزادی مارچ’’

وزیراعظم عمران خان کے خلاف ‘‘آزادی مارچ’’ویسے تو بنیادی طور پر جمعیۃالعلمائے اسلام کے اس دھڑے کی طرف سے چند روز قبل نکالا گیا جس کی قیادت مولانا فضل الرحمن کر رہے ہیں۔ دوسرے دھڑے کے قائد مولانا سمیع الحق ہیں۔ لیکن مولانا فضل الرحمن کا گروپ زیادہ بڑا اور با اثر مانا جاتا ہے۔ مولانا خود ایک شعلہ بیان مولاناؤں میں شمار کئے جاتے ہیں اور ان کی یہ مذہبی جماعت پاکستان کی سیاست میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ مولانا قومی سیاست میں خاصے سرگرم رہتے ہیں اور عموماً بر سر اقتدار جماعتوں کے قریب بھی رہتے ہیں اور اپنے لئے اہم رول بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی کشمیر سے متعلق کمیٹی میں ان کا رول بہت نمایاں رہا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت نے 2002 میں جو نام نہاد انتخابات کرائے تھے تو ان انتخابات میں مین اسٹریم پارٹیوں کو کم سے کم نمائندگی دینے کی غرض سے انہوں نے ہر امیدوار کے لئے گریجویشن کی ڈگری کی شرط لگا دی تھی اور دوسری طرف مدرسوں کی اسناد کو گریجویشن کے مساوی مان لیا گیا تھا جس کے باعث مذہبی جماعتوں کے امیدواروں کی بہت بڑی تعداد پارلیمنٹ میں پہنچ گئی تھی اور اپوزیشن کے بعض تجربہ کار ...

قومی مفادات کے پیش نظر ہندوستان کا آر سی ای پی میں شامل نہ ہونے کا

بعد ایکٹ ایسٹ پالیسی کے باعث ہندوستان کا ان مذاکرات میں سرگرمی کے ساتھ شرکت کرنا فطری تھا۔ ان مذاکرات کا مقصد ایک جدید، سودمند اور جامع علاقائی گروپ کی تشکیل کرنا تھا۔ علاقہ میں دوستانہ سلوک کے جذبے کے تحت ہندوستان نے آر سی ای پی سے متعلق مذاکرات میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا تھا اگرچہ اسے مشرقی ایشیاء کے ملکوں کے ساتھ آزاد تجارت سے متعلق زیادہ تر معاہدوں سے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ ایف ٹی اے یعنی آزاد تجارت سے متعلق معاہدوں کے بعد سے آسیان، جاپان اور کوریا کیساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ دوگنا سے زیادہ ہوگیا ہے۔ ایف ٹی اے کے پارٹنروں کے یہاں سے درآمدات میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن چونکہ محصول کی بندشوں کے باعث ہندوستان کی آسیان کے بازاروں تک رسائی مشکل تھی ، اس لئے ان ملکوں کو ہندوستانی برآمدات حسب توقع نہیں تھیں۔ ہندوستان نے آسیان ملکوں کے ساتھ ٹریڈ اینڈ گڈس نا م سے جو تجارتی معاہدہ کیا اس میں اس نے محصول کی شرح کافی کم کردی تاکہ ٹریڈ اِن سروسز معاہدے سے ہونے والے خسارے کی تلافی کی جاسکے۔ لیکن بدقسمتی سے ٹریڈ اِن گڈس معاہدہ آسیان کے کچھ ملکوں کے پس وپیش کے باعث نافذ نہ ہوسکا۔ پیر ...

پاکستان دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے سے اب بھی گریزاں

چندہ ماہ قبل امریکہ میں ایک تھنک ٹینک کی میٹنگ میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے دہشت گردوں کے حوالے سے کہا تھا کہ 40-30 ہزار کے قریب مسلح دہشت گرد اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انہوں نے پاکستان کی پچھلی حکومتوں کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے ان گروپوں کے خلاف کوئی موثر کارروائی ہی نہیں کی تھی جبکہ ان کی حکومت اب موثر قدم اٹھانے جا رہی ہے۔ عمران خان کی حکومت نے اب تک کچھ کیا یا نہیں یہ تو ان کی حکومت یا وہ خود جانیں لیکن پاکستان سے موصول ہونے والی خبریں تو کافی مایوس کن ہیں۔ دہشت گرد گروپوں کے خلاف موثر طور پر کارروائی کرنے کا بیڑا تو خود پاکستان کی حکومت نے برسوں پہلے اس وقت اٹھایا تھا جب پشاور آرمی اسکول پر دہشت گردوں کا وحشیانہ حملہ ہوا تھا۔ اس حملے کے بعد کچھ ایسا ماحول بنا تھا کہ گویا پورا پاکستان بشمول سیویلین حکومت و فوج بالکل ہم خیال ہو گئے ہیں اور اب یہ تہیہ کرلیا ہے کہ بلاامتیاز تمام گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی گروپ حتیٰ کہ اندرون پاکستان نفرت آمیز باتیں کرنے والوں اور ...

‘‘پاکستان کی فوج ہمیشہ جمہوری طور پرمنتخب حکومت کے ساتھ کھڑی رہی’’ واقعی؟

پاکستان میں ایک مذہبی سیاسی جماعت جمعیۃ العلماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن نے موجودہ عمران خان حکومت کے خلاف اسلام آبادمیں ایک زبردست احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا اور اس میں یہ مطالبہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان کوفوراً وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے گزشتہ جمعہ یعنی یکم نومبر کو اس ریلی کا اہتمام کیا تھا اور وزیراعظم کو صرف دو روز کی مہلت دی تھی کہ اس کے اندر ہی اندر وہ استعفیٰ دیں۔ انہوں نے اسے ‘‘آزادی مارچ’’ کا نام دیا تھاجس میں دوسری مین اسٹریم اپوزیشن پارٹیوں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ ان سب کا کہنا ہے کہ عمران خان دھاندلی کے ذریعہ انتخاب جیتے تھے اور انہیں صحیح معنوں میں عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ان کایہ بھی الزام ہے کہ موجودہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے سے قاصررہی ہےاور پاکستانی معیشت کو اس نے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ جواب میں عمران خان نے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا ہے اور اپوزیشن پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ لاقانونیت کا راستہ اختیار کر رہے ہیں اور ایک منتخب حکومت کو ڈانواڈول کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کی حمایت میں توقع کے عین ...

جادھو معاملے میں پاکستان نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی

اپنے ملک کی شبیہ کا خیال کرنے والے لیڈران عالمی قوانین کا احترام کرتے ہیں، یہ خیال رکھتے ہیں کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جو ملک کی شبیہ مسخ کرنے کی وجہ بنے لیکن پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کی مثبت شبیہ بنانے کی طرف اکثر لیڈروں نے توجہ نہیں دی، اگر کسی لیڈر نے پاکستان کی مثبت شبیہ بنانے کی کوشش کی تو وہ اقتدار سے ہٹا دیا گیا یاسزا دے کر اس کا منہ بند کر دیا گیا، کیونکہ پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ کی اپنی الگ پالیسی ہے۔ اس بات سے اس کا کوئی سروکار نہیں کہ اس کی مذموم حرکتوں کی وجہ سے پاکستان کی بدنامی ہوتی رہی ہے۔ پہلے پڑوسیوں کو پاکستان سے شکایت تھی، اب دیگر ملکوں اور عالمی اداروں کو بھی اس سے شکایت ہے، اس لیے پاکستان کے خلاف انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کی شکایت کوئی چونکانے والی بات نہیں ہے۔ 30 اکتوبر 2019 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سربراہ جسٹس عبدالقوی یوسف نے کہا کہ ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو کے معاملے میں پاکستان نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔ عبدالقوی نے بتایا کہ 17جولائی 2019 کے اپنے فیصلے میں پاکستان سے انہوں نے کہا تھا کہ کلبھ...

موضوع : پاکستان میں جمہوریت کیلئے بڑھتے خطرات

پاکستان میں جمہوریت کا سوال ابتدا سے ہی موضوع گفتگو رہا ہے اور ہمیشہ یہ سوال بھی اٹھتا رہا ہے کہ آیا پاکستان کے لوگ جس قسم کا سیاسی تجربہ کررہے ہیں، اسے جمہوریت کا نام دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟وہاں بہت ساری کارروائیاں تو ایسی ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ جمہوریت رائج ہے۔ مثلاً انتخابات بھی ہوتے ہیں، حکومت کی تشکیل بھی عمل میں آتی ہے اور سب کچھ، کچھ دن باقاعدگی سے چلتا ہے لیکن اقتدار کا ڈھانچہ کچھ ایسا ہے کہ منتخب حکومت کے پاس وہ اختیارات نہیں ہوتے جو جمہوریت میں ہوتے ہیں۔ مثلاً خارجہ پالیسی پر منتخب نمائندوں کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی پوری طرح عیاں ہے کہ سیکورٹی سے متعلق جملہ امورسے حکومتوں کو ہمیشہ دور رکھا جاتا ہے۔ طاقت کا اصل سرچشمہ فوجی ہیڈ کوارٹر ہے جو راولپنڈی میں واقع ہے، اسلام آباد راجدھانی ہے۔ ریاست کا کوئی بھی ادارہ اتنی طاقت کا حامل نہیں ہے جتنا طاقتور فوجی ٹولہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک بات اور ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا کم وبیش نصف حصہ پر فوج نے براہ راست حکومت کی۔ کئی بار فوجی جنرلوں نے بغاوت کی اور سیویلین حکومتوں کو بے دخل کرکے خود اقتدار پر قبضہ کیا...