کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ قابل مذمت لیکن ہندوستان پر انگلی اٹھانا ایک اوچھی حرکت
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں بلکہ وہاں کا اقتصادی دار الخلافہ بھی ہے۔ وہاں کے اسٹاک ایکسچینج پرگزشتہ پیر کو بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ کا جو حملہ ہوا وہ ہر اعتبار سے قابل مذمت ہے اور ہندوستان نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ خبروں کے مطابق 4مسلح علحٰدگی پسند بندوق برداروں نےپاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجہ میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے۔ لیکن سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان چاروں شدت پسندوں کو مار گرایا۔ بعض خبروں کے مطابق مرنے والوں کی مجموعی تعداد 11تھی جن میں 4 حملہ آور بھی شامل تھے۔ حملہ آور گروپ نے اس کی ذمہ داری بھی لی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق شدت پسند اپنے ساتھ رائفلز، دستی بم اور آتشی مادے اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ کے قریب لائے ۔ ان میں سے دو پارکنگ والے علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ انھوں نے دستی بم پھینکنے کے ساتھ ساتھ اندھا دھند فائرنگ بھی کی۔ لیکن بالآخر وہ سب کے سب سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے۔ کچھ قیمتی جانوں کا زیاں ضرور ہوا لیکن اطمنان کی بات یہ رہی کہ انتہا پسند زیادہ تباہی مچانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ شیشے کے گھر میں رہنے والے کسی کے گھر پر پتھر پھینکنا پسند نہیں کرتے سواس طرح کی انتہا پسندانہ اور دہشت گردانہ کارروائیاں جہاں کہیں بھی ہوتی ہیں، ان کی سخت ترین لفظوں میں مذمت کی جانی چاہئے۔ ہندوستان نے اس طرح کے ہر حملے کی مذمت کی ہے خواہ وہ کسی بھی ملک یا خطے میں ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والے اس حملہ کی مذمت کی ہے۔ چند سال قبل پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر جو حملہ ہوا تھا اور جس میں اس اسکول کے بچوں سمیت کوئی ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوئے تھے تو بھی ہندوستان نے اس بزدلانہ اور وحشیانہ کارروائی کو بربریت سے پُر واقعہ قرار دیا تھا۔ سیاسی لڑائی، سیاسی طور پر لڑی جانی چاہئے۔ مطالبات منوانے کے لئے پرتشدد راستہ اختیار کرنا کسی بھی حالت میں جائز فعل نہیں قرار دیا جاسکتا۔
ہاں کچھ عناصر ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کے گھر کو جلتا ہوا دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور نہ صرف خوشی محسوس کرتے ہیں بلکہ اس طرح کی تخریب کارانہ کارروائیوں کی براہ راست یا باالواسطہ حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی کارگزاریوں کا کبھی سنجیدگی سے جائزہ لیں تو شاید اپنی اصلاح کرنے کا خیال کبھی ان کے دل میں پیدا ہو لیکن ان کی تخریب کارانہ ذہنیت دوسروں میں کچھ اسی طرح کی برائیاں تلاش کرنے لگتی ہیں۔ چنانچہ پاکستان میں جب اس طرح کا کوئی حملہ ہوتا ہے تو وہ فورا دور کی کوڑی لاتے ہیں اور ادھر ادھر دیکھے بغیر ہندوستان کے سرالزام منڈھ دیتے ہیں چنانچہ اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جھٹ سے یہ بیان داغ دیا کہ ایسے اشارے ملے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس حملے کے پیچھے سلیپر سیلس کا ہاتھ رہا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ پاکستان میں انتشار کی سی کیفیت پیدا ہوجائے اور ہر طرف لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ دکھائی دینے لگے ایسے بے سرپیرکےاور فرضی الزامات لگانے میں پاکستان ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے۔ آج تک کسی بھی الزام کے سلسلے میں کوئی شواہد نہ پیش کرسکا۔ حد تو یہ ہے کہ اس طرح کے اوچھے الزام لگانے پر خود پاکستانی میڈیا بھی وہاں کی حکومت کا مذاق اڑاتا رہا ہے کہ اگر حکومت کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کیوں نہیں کرتی؟
دہشت گرد کو دہشت گرد ہی کہا جاتا ہے خواہ وہ زندہ ہو یا ہلاک کردیا جائے۔ شاہ محمود قریشی کو یاد دلانا ضروری ہے کہ ابھی چند ہی روز قبل ان کے وزیر اعظم عمران خان نے خود پاکستان کی قومی اسمبلی میں اسامہ بن لادن کو ’’شہید‘‘قرار دیا تھا۔ بعد میں لیپا پوتی کی گئی کہ زبان سے غلطی یا بے خیالی میں شہید ادا ہوگیا۔ لیکن اگر عمران خان کے بیک گراؤنڈ کو دیکھا جائے تو وہ اکثر دہشت گرد گروپوں کی حمایت میں کھڑے نظر آتے تھے۔ لوگ بھولے نہیں ہوں گے کہ وہ اکثر پچھلی حکومتوں کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی بن کر پاکستان نے غلط کیا۔ اندرون پاکستان جو حملے ہوا کرتے تھے ان کےبارے میں وہ کہا کرتے تھے کہ یہ حملے اس لئے ہوتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے۔ وہ تحریک طالبان پاکستان کے حامیوں میں رہے ہیں۔ یہ بات سبھی کے علم میں ہے۔ یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ انھیں ’’طالبان خان‘‘ کے نام سے کیوں جانا جاتا تھا؟
شاہ محمود قریشی اس وقت عمران خان کے بہت بڑے مداح ہیں۔ کبھی وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں ہوا کرتے تھے اور اس وقت بھی وزیر خارجہ تھے۔ لیکن چونکہ پی پی پی اب برسر اقتدار نہیں ہے اس لئے انھوں نے نئی چراگاہ ڈھونڈلی ہے،لیکن بہر حال وہ پڑھے لکھے انسان ہیں ۔ لہذا انھیں اس طرح کا اوچھا الزام لگانے سے گریز کرنا چاہئے۔
ہندوستان کا کوئی لیڈر غلطی سے بھی کسی ہلاک ہونے والے دہشت گرد کو شہید یا زندہ دہشت گرد کو غازی جیسے الفاظ سے نہیں نوازے گا۔ ہندوستان کے خلاف ایسا بیان دینے سے قبل پاکستان کے اربابِ اختیار کو کچھ ہوم ورک کرلینا چاہئے اور ثبوت اکٹھا کرلینا چاہیئے۔
ہاں کچھ عناصر ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کے گھر کو جلتا ہوا دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور نہ صرف خوشی محسوس کرتے ہیں بلکہ اس طرح کی تخریب کارانہ کارروائیوں کی براہ راست یا باالواسطہ حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی کارگزاریوں کا کبھی سنجیدگی سے جائزہ لیں تو شاید اپنی اصلاح کرنے کا خیال کبھی ان کے دل میں پیدا ہو لیکن ان کی تخریب کارانہ ذہنیت دوسروں میں کچھ اسی طرح کی برائیاں تلاش کرنے لگتی ہیں۔ چنانچہ پاکستان میں جب اس طرح کا کوئی حملہ ہوتا ہے تو وہ فورا دور کی کوڑی لاتے ہیں اور ادھر ادھر دیکھے بغیر ہندوستان کے سرالزام منڈھ دیتے ہیں چنانچہ اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جھٹ سے یہ بیان داغ دیا کہ ایسے اشارے ملے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس حملے کے پیچھے سلیپر سیلس کا ہاتھ رہا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ پاکستان میں انتشار کی سی کیفیت پیدا ہوجائے اور ہر طرف لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ دکھائی دینے لگے ایسے بے سرپیرکےاور فرضی الزامات لگانے میں پاکستان ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے۔ آج تک کسی بھی الزام کے سلسلے میں کوئی شواہد نہ پیش کرسکا۔ حد تو یہ ہے کہ اس طرح کے اوچھے الزام لگانے پر خود پاکستانی میڈیا بھی وہاں کی حکومت کا مذاق اڑاتا رہا ہے کہ اگر حکومت کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کیوں نہیں کرتی؟
دہشت گرد کو دہشت گرد ہی کہا جاتا ہے خواہ وہ زندہ ہو یا ہلاک کردیا جائے۔ شاہ محمود قریشی کو یاد دلانا ضروری ہے کہ ابھی چند ہی روز قبل ان کے وزیر اعظم عمران خان نے خود پاکستان کی قومی اسمبلی میں اسامہ بن لادن کو ’’شہید‘‘قرار دیا تھا۔ بعد میں لیپا پوتی کی گئی کہ زبان سے غلطی یا بے خیالی میں شہید ادا ہوگیا۔ لیکن اگر عمران خان کے بیک گراؤنڈ کو دیکھا جائے تو وہ اکثر دہشت گرد گروپوں کی حمایت میں کھڑے نظر آتے تھے۔ لوگ بھولے نہیں ہوں گے کہ وہ اکثر پچھلی حکومتوں کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی بن کر پاکستان نے غلط کیا۔ اندرون پاکستان جو حملے ہوا کرتے تھے ان کےبارے میں وہ کہا کرتے تھے کہ یہ حملے اس لئے ہوتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے۔ وہ تحریک طالبان پاکستان کے حامیوں میں رہے ہیں۔ یہ بات سبھی کے علم میں ہے۔ یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ انھیں ’’طالبان خان‘‘ کے نام سے کیوں جانا جاتا تھا؟
شاہ محمود قریشی اس وقت عمران خان کے بہت بڑے مداح ہیں۔ کبھی وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں ہوا کرتے تھے اور اس وقت بھی وزیر خارجہ تھے۔ لیکن چونکہ پی پی پی اب برسر اقتدار نہیں ہے اس لئے انھوں نے نئی چراگاہ ڈھونڈلی ہے،لیکن بہر حال وہ پڑھے لکھے انسان ہیں ۔ لہذا انھیں اس طرح کا اوچھا الزام لگانے سے گریز کرنا چاہئے۔
ہندوستان کا کوئی لیڈر غلطی سے بھی کسی ہلاک ہونے والے دہشت گرد کو شہید یا زندہ دہشت گرد کو غازی جیسے الفاظ سے نہیں نوازے گا۔ ہندوستان کے خلاف ایسا بیان دینے سے قبل پاکستان کے اربابِ اختیار کو کچھ ہوم ورک کرلینا چاہئے اور ثبوت اکٹھا کرلینا چاہیئے۔
Comments
Post a Comment