موضوع: جی-7 کی جانب سے ہانگ کانگ کے بارے میں چین کے اقدامات کی مذمت
چین میں نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی نے 30 /جون کو ہانگ کانگ کیلئے متنازعہ قومی سلامتی قانون کو منظوری دے دی۔ اس قانون کو ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کئے جانے کی سالگرہ سے ٹھیک پہلے نافذ کردیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ ہانگ کانگ کو انیس سو ستانوے میں چین کے حوالے کیا گیا تھا۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ چین نے ہانگ کانگ کی قانون ساز کونسل کو خاطر میں لائے بغیر اس قانون کو منظوری دی۔ جی-7 کی میٹنگ میں امریکہ، کناڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور یوروپی یونین کے اعلیٰ نمائندوں کی جانب سے چین کے اس اقدام پر گہری تشویش کے اظہار کے باوجود، بیجنگ نے کہا ہے کہ اس قانون سے ‘‘ ایک ملک دو نظام’’ کے اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔
اس سے پہلے سترہ؍ جون کو جی۔7 کے ملکوں نے ایک بیان میں کہاکہ نئے قانون سے متعلق چین کا فیصلہ ہانگ کانگ کے بنیادی قانون اور اقوام متحدہ میں درج برطانیہ-چین مشترکہ اعلامیہ کے اصولوں کے تحت بین الاقوامی برادری سے کئےگئے اپنے وعدہ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس نئے قانون سے ‘‘ایک ملک دو نظام’’ کے اصول اور ہانگ کانگ کی آزادی کو سخت دھچکا پہنچے گا۔ یہ اس نظام کو درہم برہم کردے گا جس کے تحت یہ علاقہ کافی پھلا پھولا ہے۔ اس کے علاوہ جی۔سات ملکوں کے رہنماؤں نے تشویش ظاہر کی کہ اس قانون سے ہانگ کانگ کے عوام کے بنیادی حقوق اور ان کی آزادی کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ ہانگ کانگ کے بارےمیں جی-7 ملکوں کے بیان کا جواب دیتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ نے کہاکہ ہانگ کانگ سے متعلق معاملات چین کا داخلی معاملہ ہے، اس لئے ان معاملات میں کسی دوسرے فرد یا ملک کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ چین کا دعویٰ ہے کہ ہانگ کانگ کے تحفظ کیلئے وہاں کے قانونی ڈھانچہ اور میکنزم کو بہتر بنانا اس قانون کا مقصد ہے۔ چین کی میڈیا کے مطابق نئے قانون کا نشانہ وہ چند شدت پسند عناصر ہیں جو ہانگ کانگ میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا کرنے کیلئے غیرملکی طاقتوں کے ساتھ مل کر سازشیں کررہے ہیں۔ لیکن چین کے دعوےکے برعکس تشویش ظاہر کی جارہی ہے کہ اس نئے قانون کا مقصد ہانگ کانگ میں جمہوریت حامی مظاہروں کو کچلنا ہےجنہوں نے حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے ہانگ کانگ میں جمہوریت حامی مظاہرے جاری ہیں جنہیں دبانے کی وہاں کی پولیس پوری کوشش کررہی ہے۔ اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد پولیس کو چین مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے کیلئےوسیع اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔ اس سے اُن غیرملکی عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جاسکے گی جو ہانگ کانگ میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا کرنے میں ممکنہ رول ادا کررہے ہیں۔ ماضی قریب میں ہانگ کانگ میں کچھ ایسے بھی مظاہرے ہوئے جو شروع میں تو پرامن تھے لیکن بعد میں پر تشدد ہوگئے۔ کچھ مظاہروں کے باعث نہ صرف ہوائی اڈہ کی خدمات متاثر ہوئیں بلکہ میٹرو سروسز پر بھی ان کا برا اثر پڑا۔
در اصل چین کا مقصد ہے کسی بھی تخریب کاری ، علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو روکنا۔ وہ اس قانون کے ذریعہ ان غیرملکی عناصر کے خلاف بھی کارروائی کرنا چاہتا ہے جو بقول اس کے قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ بیجنگ کا مقصد ہے ہانگ کانگ میں ایک نیشنل سکیورٹی ایجنسی کا قیام۔
ہانگ کانگ کی آزادی کو درپیش خطرات کے پیش نظر امریکہ نے اہم اقدامات کرنے شروع کردیئے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت امریکہ نے ہانگ کانگ کو دفاعی سازوسامان کی برآمدات پر پابندی عائد کردی ہیں۔ اس کے علاوہ اعلیٰ ٹکنالوجی کی مصنوعات بھی ہانگ کانگ برآمد نہیں کی جائیں گی۔ مزید برآں امریکہ نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کےان اہلکاروں پر ویزے کی پابندیاں عائد کردی ہیں جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ ان لوگوں نے ہانگ کانگ کی آزادی کو نقصان پہچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ چین پر کسی کی دھونس یا دھمکی نہیں چلے گی۔ نیز یہ کہ امریکہ پابندی عائد کرکے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کی برقراری کیلئے بیجنگ کی جانب سے کی جارہی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ یوروپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے نئے قانون کے بارے میں چین کے فیصلہ کی مذمت کی ہے۔
کووڈ-انیس جیسی عالمی وبا کے باوجود چین کی نازیبا حرکتیں صرف ہانگ کانگ میں ہی نظر نہیں آرہی ہیں بلکہ وہ تائیوان ، جنوبی بحرۂ چین، مشرقی بحرۂ چین اور ہمالیائی سرحدوں پر بھی اپنی جارحانہ حرکتیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکہ جی۔سات کی توسیع کرکے اسپین،بھارت،روس اور جنوبی کوریا کو شامل کرنا چاہتا ہے لیکن چین کو یہ بات پسند نہیں۔ امید ہے کی آئندہ مہینوں میں امریکہ جی۔سات سربراہ کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ اس نے اس کانفرنس میں شرکت کیلئے بھارت کو ایک خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا ہے۔ واشنگٹن کے اس اقدام سے بیجنگ بلکل الگ تھلگ پڑ گیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ چین کے خلاف "چھوٹا سا دائرہ" بنانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوگی اور اسے نیک نامی کی بجائے بدنامی ہی حاصل ہوگی۔
Comments
Post a Comment