وبا کے دور میں بھی علاقائی امن کے تئیں چین کا غیر ذمہ دارانہ رویہ
اس وقت پوری دنیا ایک عالمی وبا سے جنگ لڑ رہی ہے۔ متعدد ممالک کووڈ۔19 سے متاثر ہیں اور لاکھوں افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔ لاکھوں افراد اس کی زد پر ہیں اور اسپتالوں میں ان کا علاج چل رہا ہے۔ پوری دنیا اس وبا کا علاج ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے اور ویکسین کی تیاری کے سلسلے میں جد و جہد جاری ہے۔ لیکن ابھی تک اس مرض کا کوئی شافی علاج دستیاب نہیں ہو سکا ہے۔ کروناوائرس نے دنیا کے معمولات تبدیل کر دیے ہیں۔ لاک ڈاون کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت ایک ابتر صورت حال سے دوچار ہے۔ ہر ملک اپنی معیشت کو سنبھالنے کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ مہلک بیماری جس کا کوئی تیر بہ ہدف نسخہ تا حال سامنے نہیں آیا ہے،چین کے شہر ووہان سے نکلی ہے۔ اس سلسلے میں چین پر مختلف حلقوں سے انگشت نمائی ہو رہی ہے۔ ایسے شبہات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ قدرت کی جانب سے بھیجی گئی بیماری نہیں بلکہ انسانی ہاتھوں کی کارستانی ہے۔ اور اس بارے میں شکوک و شبہات کی سوئی چین کی جانب مڑ رہی ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اس سلسلے میں حقائق چھپائے ہیں۔ خاص طور پر وہاں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مرض کے لیے بارہا چین کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ ابھی حال ہی میں ان کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ کرونا وائرس چین کی جانب سے دنیا کو ایک بدترین تحفہ ہے۔ دیگر متعدد رہنماؤں کو بھی شبہ ہے کہ ہو نہ ہو یہ وائرس چین کی کسی لیبوریٹری سے غلطی سے لیک ہو گیا ہے۔ ابھی اس بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ممکن ہے کہ اس وائرس کے پیچھے چین کا ہی ہاتھ ہو۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ صرف شبہات ہوں۔ چین اور پاکستان میں دوستانہ رشتے ہیں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی وجہ سے بھی دونوں میں بہت گہرے تعلقات ہیں۔ لیکن گوادر پورٹ کے سلسلے میں اس کی سرگرمیوں سے اندرون پاکستان فکرمندی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ اس سلسلے میں مخالفت کر رہے ہیں۔ بہر حال اس بات سے قطع نظر، اس وقت چینی قیادت کرونا کے سلسلے میں شکوک و شبہات کی زد پر ہے۔ اس کے علاوہ بھی وہ دوسرے محاذوں پر پریشان کن صورت حال سے دوچار ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کو اپنی ہی پارٹی میں مخالفتوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں لداخ میں چینی افواج کی کارروائیاں بہت سے سوالات کھڑے کر رہی ہیں۔ مشاہدین کا خیال ہے کہ جب بھی چین میں کوئی اندرونی بحران پیدا ہوتا ہے تو اس سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس قسم کی کوششیں شروع کر دی جاتی ہیں۔ ابھی چند روز قبل چین کے صدر نے چینی افواج سے جنگ کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ آخر وہ جنگ کس سے کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں تک لداخ میں چینی افواج کی کارروائیوں کا تعلق ہے تو وہ علاقائی امن کے لیے یقینی طور پر پریشان کن ہیں۔ ہندوستان وہاں ایک سڑک اور پل کی تعمیر میں مصروف ہے جس سے مقامی آبادی کو بڑی سہولتیں میسر آجائیں گی۔ لیکن چین ہندوستان کے اس قدم کی مخالفت کر رہا ہے۔ حالانکہ ہندوستان جو کچھ کر رہا ہے اپنی سرحد کے اندر کر رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ساڑھے تین ہزار کلومیٹر سے زائد طویل سرحد پر کئی مقامات پر تنازعات ہیں اور سرحد کی حدبندی حتمی طور پر نہیں ہوئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہندوستان اس وقت بھی اور اس سے قبل بھی جو بھی تعمیراتی کام کر رہا ہے یا کرتا رہا ہے وہ اپنی سرحد کے اندر کرتا رہا ہے۔ اس نے لائن آف ایکچوول کنٹرول (ایل اے سی) کی کبھی بھی خلاف ورزی نہیں کی۔ اس سے قبل بھی دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان اس قسم کی کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے اور وہیں سرحد پر بات چیت کے ذریعے انھیں حل کر لیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس بار تعطل ختم نہیں ہو رہا ہے۔ کئی ادوار کی بات چیت ہو چکی ہے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ ہندوستان ایک امن پسند ملک ہے۔ وہ مہاتما گاندھی اور گوتم بدھ کا دیش ہے۔ وہ ان کی امن و آشتی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ چین سے یا کسی بھی ملک سے اس کا کوئی تنازعہ پیدا ہو۔ وہ جنگ کے بالکل خلاف ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ اپنی خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کے تحفظ کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ وہ نہ تو کسی ملک کے اندرونی امور میں مداخلت کرتا ہے اور نہ ہی اسے پسند کرتا ہے کہ اس کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت کرے۔ بات چیت کی مدد سے کسی بھی تنازعے کو حل کرنا اس کی پالیسی ہے۔ چین کے ساتھ جاری تعطل کے بارے میں بھی اس کا یہی کہنا ہے کہ بات چیت سے اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے اور اسے امید بھی ہے کہ گفت و شنید سے اس مسئلے کو حل کر لیا جائے گا۔ چینی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اندرونی انتشار کی وجہ سے ہندوستان کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی کو ہوا نہ دے۔ بلکہ اس وقت جبکہ پوری دنیا کرونا وائرس سے لڑ رہی ہے اسی سے لڑنے کی سب کو کوشش کرنی چاہیے۔ ہندوستان کسی بھی قیمت پر کشیدگی نہیں چاہتا۔ بہتر ہوگا کہ چینی قیادت بھی اس بات کو سمجھے اور خطے کو کسی انجانے خوف میں مبتلا نہ کرے۔
Comments
Post a Comment